dushwari

دہلی بی جے پی کو کون سمجھائے؟

حفیظ نعمانی

دہلی کی کجریوال حکومت بھی بی جے پی کے گلے کی ہڈی بنی ہوئی ہے۔ مرکز میں پوری طرح بی جے پی حکمراں ہے اور دہلی کے تینوں کارپوریشنوں پر بھی اس کا قبضہ ہے۔ لیکن صوبہ دہلی کی حکومت عام آدمی پارٹی کی ہے جو حلق میں ہڈی کی طرح اٹک گئی ہے۔ دہلی کے کارپوریشن کے جب الیکشن ہوئے تھے تو صوبہ میں کانگریس کی حکومت تھی اور 15 سال سے حکومت میں قبضہ کی وجہ سے اور پھر کامن ویلتھ کھیلوں میں جو بدعنوانیاں ہوئیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کارپوریشنوں پر بی جے پی کا قبضہ ہوگیا اور جب لوک سبھا کے الیکشن ہوئے تو ساتوں سیٹیں بی جے پی کو مل گئیں۔

لیکن یہ کجریوال کی خوش نصیبی تھی کہ دہلی کے الیکشن کا نمبر آتے آتے مودی صاحب اور بابا رام دیو کا بھرم کھل گیا اور وہ جو دونوں نے کالے دھن سے بھرے ہوئے سیکڑوں کالے بکسوں کو لانے اور روپیہ کی قیمت ڈالر کے برابر کرنے اور ہر بھارتی ناگرک کے کھاتے میں پندرہ پندرہ لاکھ روپئے جمع کرانے کا خواب دکھلایا تھا اور جو مہنگائی ایک مہینہ میں ختم کرنے کا دعویٰ کیا تھا اس کا بھی پول کھل گیا اور دہلی کے 90 فیصدی ووٹروں نے کانگریس کو بھی دھودیا اور بی جے پی کو تین سیٹیں دے کر کہہ دیا کہ فقیروں کی جھولی میں آپ کے لئے اس سے زیادہ نہیں ہے۔
عام آدمی پارٹی کی حکومت کو ابھی ایک سال بھی نہیں ہوا ہے۔ لیکن اس کی کارکردگی اور مرکزی حکومت کی ناکامیوں نے ریکارڈ بنا دیئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کجریوال نے فضا کی آلودگی کم کرنے کے لئے نومبر میں ایک تجویز رکھی کہ سڑکوں پر آدھی گاڑیاں کم کردی جائیں اور اس کے لئے یہ تجویز پیش کی کہ کار کے نمبر کا آخری ہندسہ طاق اور جفت میں تقسیم کرکے ایک دن طاق نمبر کی اور دوسرے دن جفت نمبر کی گاڑیاں سڑک پر چلیں۔ بی جے پی کے اور کانگریس کے ہر لیڈر نے آسمان سر پر اٹھا لیا کہ اس سے آلودگی کم نہیں ہوگی لیکن یہ نہیں بتایا کہ پھر آلودگی کم کرنے کے لئے کیا کیا جائے؟ اور آخرکار یکم جنوری سے 15 جنوری تک کجریوال نے یہ کرکے دکھا دیا اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے بھی کہلوا لیا کہ کجریوال کامیاب ہوگئے اور زیادہ تر باشعور لوگوں نے بھی تسلیم کیا کہ آلودگی کم کرنے کا واحد حل یہی ہے۔
بی جے پی جس کے بارے میں ہر دن ہر زبان سے کہا جارہا ہے کہ وہ بری طرح ناکام ہوتی جارہی ہے۔ اس کی راہ میں کجریوال کو کامیابی کے تمغوں نے انگارے بچھادیئے اور وہ اسی زنانہ ہتھیار پر اُتر آئی کہ دلی کے تینوں کارپوریشنوں کے ملازموں کی تنخواہ روک لی اور انہیں ہڑتال کرنے پر مجبور کردیا۔ کجریوال کی حکومت بننے کے بعد شاید یہ تیسری ہڑتال ہے جس میں سارا کوڑا سڑکوں پر ڈھیر کیا جارہا ہے اور اب تو اوچھے پن کی حد ہوگئی کہ منیش سیسودیہ جو نائب وزیر اعلیٰ بلکہ کارگذار وزیر اعلیٰ ہیں ان کے دفتر میں اور ان کے گھر میں بی جے پی کے غنڈے کوڑا پھینک کر انہیں کوئی ایسی حرکت کرنے پر اُکسا رہے ہیں کہ جسے وہ موضوع بناسکیں۔ لیکن وہ بھی کجریوال کے دست راست ہیں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہہ دیا کہ ہماری حکومت 12 مہینے کی تنخواہ کے پیسے دے چکی ہے۔ وہ روپیہ کس نے کھایا؟ اس کے حلق میں ہاتھ ڈال کر نکالو اور اگر میرے گھر میں کوڑا پھینکنے سے تنخواہ ملتی ہو تو باقی کوڑا بھی گھر میں ڈال دو۔
مسٹر سیسودیہ نے سختی کے ساتھ کہا ہے کہ یہ سب بی جے پی کا کھیل ہے اور اب ضرورت اس کی ہے کہ ایک سال کا انتظار نہ کیا جائے بلکہ تینوں کارپوریشنوں کو ختم کردیا جائے اور نئے الیکشن کرائے جائیں۔ بی جے پی جو کوڑے سے کھیل رہی ہے وہ صرف اس آلودگی کو بڑھانا چاہتی ہے جسے کجریوال نے کم کرکے نیک نامی حاصل کی ہے اور اس کا منصوبہ یہ ہے کہ کوئی وبا پھوٹ پڑے اور سو دو سو بوڑھے اور بچے اس کا شکار ہوجائیں تو دہلی حکومت کو بدنام کرنے کا موقع مل جائے۔ دہلی بی جے پی کے ہر لیڈر کی زبان پر بس ایک بات ہے کہ وہ جو اشتہارات پر روپیہ خرچ کیا جارہا ہے وہ روپیہ تنخواہ کے طور پر دے دیا جائے۔ دہلی حکومت یہ نہیں کہہ رہی کہ ہمارے پاس روپیہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ کہہ رہی ہے کہ ہم بارہ مہینے کی تنخواہ کے روپئے دے چکے ہیں اور وہ معلوم کررہی ہے کہ وہ رقم کہاں گئی؟
کانگریس کی جو پندرہ سال حکومت رہی وہ اپنی خود فریبی کا شکار ہوکر اس طرح ختم ہوئی جیسے وہ مرکز میں آج 45 سیٹیں لئے بیٹھی ہے۔ بی جے پی کو اگر لوک سبھا کے ساتھ دہلی میں الیکشن کرانے کا موقع مل جاتا تو وہ آج دہلی پر بھی قابض ہوتی۔ لیکن یہ اس کی بدقسمتی ہے کہ دہلی کا الیکشن ایسے وقت ہوا جب مودی کا جادو بے اثر ہوچکا تھا۔ اب بی جے پی کوڑے کا کھیل کھیل کر دوسری غلطی کررہی ہے۔ اس کے لئے اب صرف ایک ہی راستہ رہ گیا تھا کہ وہ لائن کو بغیر مٹائے، بغیر کاٹے اور بغیر رگڑے اس کے برابر میں ایک بڑی لائن کھینچ کر اسے چھوٹا بنادے۔ اروند کجریوال نے جو 15 دن آدھی گاڑیاں سڑکوں پر چلاکر کارنامہ انجام دیا تھا اور ہر طرف سے واہ واہ بٹوری تھی اسے بے اثر کرنے کے لئے بی جے پی نے شہر کو دُلہن کی طرح صاف رکھ کر ثابت کیا ہوتا کہ وہ آدھی گاڑیوں کو روکے بغیر فضا کو آلودگی سے پاک رکھ سکتی ہے تو وہ اس کا جواب ہوتا۔
اروند کجریوال بہت محنت کرتے ہیں اور ڈاکٹروں کی ہدایت، کہ کم بولیں اور زور سے نہ بولیں پر عمل نہیں کرتے۔ اس لئے انہیں کھانسی کی تکلیف پھر ہوگئی اور ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا کہ وہ پھر بنگلور جائیں اور علاج کرائیں۔ زور سے بولنے کے مقابلہ میں زوردار الفاظ کا استعمال کرنا کہیں زیادہ کارگر ہوتا ہے۔ اندرا گاندھی کبھی زور سے نہیں بولتی تھیں لیکن ان کے جملے اور الفاظ دھاردار ہوتے تھے۔ ہم نے 1971 ء میں دیکھا تھا کہ وہ پارلیمنٹ کے الیکشن میں پہلی میٹنگ صبح سات بجے کرتی تھیں اور دن بھر میں 30 یا زیادہ جلسوں سے خطاب کرتی تھیں۔ لیکن کبھی انہیں کھانسی کی تکلیف نہیں ہوئی۔ چودھری چرن سنگھ کی تقریر تین گھنٹے کی ہوتی تھی مگر وہ دن بھر بولتے تھے لیکن کبھی انہیں کھانسی نہیں آئی۔ کجریوال اگر زور سے نہ بولیں اور صرف ضرورت کے بقدر بولیں تو انہیں بار بار علاج کے لئے نہ جانا پڑے۔ ان کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھانے کے لئے بی جے پی نے کوڑے کو موضوع بنایا ہے جبکہ مرکزی حکومت کا اشتہار ہر چینل پر آپ بھی دیکھ رہے ہوں گے جس میں مودی صاحب کہہ رہے ہیں کہ اگر آپ خود گندہ نہ کریں تو دنیا کے کسی ملک کی طاقت نہیں کہ وہ آپ کے ملک کو گندہ کردے۔ لیکن ملک کی اس راجدھانی کو خود اُن کے چیلے گندہ کررہے ہیں جس میں وہ خود بھی رہتے ہیں اور ان کے سارے وزیروں کے علاوہ پوری دنیا کے سفیر بھی۔ ایسے میں وزیر داخلہ اگر ثالث بن کر مسئلے کو سلجھادیں تو ملک کا چہرہ کہلانے والی دہلی اس گندگی سے تو محفوظ ہوجائے۔ افسوس کہ مرکزی حکومت بزرگ خاندان کا کردار ادا کرنے کے بجائے کمزوروں سے دست و گریباں ہونے میں ساری طاقت خرچ کررہی ہے اور کمزور سے کمزور ہوتی جارہی ہے۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES