dushwari

قول و فعل کے فرق سے ملک میں پھیلتا عدم تحفظ کا احساس

مفتی عامر مظہر قاسمی 

لیگل سروسزڈے کے موقع پر قانون دانوں سے خطاب کرتے ہوئے ہمارے وزیر اعظم جناب نریندرمودی نے کہاتھا کہ عوام ، عدلیہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی خدمات سے آگاہ نہیں ہیں، جو قانونی خواندگی فراہم اور سماج کے کمزور ترین طبقات کے حقوق کا تحفظ کرتی ہیں ۔وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی حکومت کے نعرہ سب کا ساتھ سب کا وکاس کو وسعت دیتے ہوئے اس میں سب کا نیائے بھی شامل کیا تھا اور سماج کے کمزور طبقات کو مفت قانونی امداد کی فراہمی کا تیقن دیا تھا۔ مودی نے کہاتھا کہ میں سب کا سا تھ سب کا وکاس میں یقین رکھتا ہوں۔ اس کے ساتھ سب کا نیائے بھی ہونا چاہئے۔

سب کاساتھ اورسب کاوکاس "اور مزید نیائے کو ملالیں کہنے سننے میں کتناخوشنمالگتا ہے، لیکن اس وقت نفرت کی سیاست اورملک کی اقلیتوں ، کمزوروں ،پسماندہ طبقات اوردلتوں پرڈھائے جانے والے مظالم کوجس اندازسے ہوادی جارہی ہے اورہرلمحہ اس تعلق سے کوئی نہ کوئی واقعہ رونماہورہاہے ان سب کودیکھ کریہ نعرہ بدترین مذاق سے کم نہیں معلوم ہوتاہے۔اس وقت ملک کاحال یہ ہیکہ یہاں نہ اقلیتوں کی جان اور عزت وآبرو محفوظ ہے اورنہ ہی دلتوں، کمزوروں اورپسماندہ طبقات کی۔ایک واقعہ پرآنسوخشک نہیں ہوتے کہ دوسری کاری ضرب لگادی جاتی ہے۔ قیدیوں پر جاری کردہ ایک سرکاری رپورٹ کی مانیں جس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ ہندوستانی سماج میں سب سے زیادہ بے یار و مددگار طبقات میں مسلمان، قبائلی اور دلت شامل ہیں۔ اور جیلوں میں نصف سے زیادہ قیدیوں کی تعداد ان طبقات سے وابستہ ہے۔اگرچہ ہندوستان کی جملہ آبادی میں ان طبقات کی تعداد 39 فیصد ہے لیکن جیلوں میں ان کا تناسب سب سے زیادہ 53 فیصد ہے۔اور حالیہ ’’امبیڈکر اسٹوڈنٹس فیڈریشن ‘‘ سے تعلق رکھنے والے چھبیس سالہ طالب علم ’’ روہت ‘‘ کی خود کشی کا واقعہ جو طبقاتی ظلم و بر بریت کی منہ بولتی تصویر ہے ۔ جو ’’ حیدر آباد سینٹرل یونیورسٹی ‘‘ میں زیر تعلیم PHD کا اسٹوڈنٹ تھا۔ ایک ماہ قبل BJP سے تعلق رکھنے والی طلبا ء تنظیم ’’ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد ‘‘ ( ABVP ) سے کسی بات پر جھگڑا ہوا تھا جس کے بعد دونوں طلباء تنظیموں کے مابین یہ جھگڑا زیادہ شدید نوعیت اختیار کر گیا۔ چونکہ ABVP کو حکومتی سر پرستی حاصل ہے اس لئے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ’’ روہت ‘‘ سمیت چھ طلباء کو یونیورسٹی اور اس کے ہاسٹل سے جبراً نکال دیا گیا۔ بے دخل کیے جانے والے تمام طلباء اچھوت تھے۔ ان طلباء کو نکالنے میں تعلیم کی مرکزی وزیر ’’ اسمرتی ایرانی ‘‘ ، مرکزی وزیر مملکت برائے لیبر ’’ بنڈا رودتا تریہ ‘‘ اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر ’’ اپا را ‘‘ نے مرکزی کردار ادا کیا۔ ’’ روہت ویملا ‘‘ نے دلبرداشتہ ہو کر سترہ جنوری کو گلے میں پھندا ڈال کر یونیورسٹی کے ہوسٹل میں خود کشی کر لی لیکن مرنے سے پہلے موت کے حوالے سے لکھی تحریر میں دونوں وزیروں اور یونیورسٹی وی سی کو بھی اپنی خود کشی کا ذمہ دار قرار دیا۔
اس کے بعد یہ معاملہ ہندوستان کی پوری سیاست کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے۔ انیس جنوری کو ’’ راہل گاندھی ‘‘ متاثرہ طلباء اور ان کے خاندانوں سے ہمدردی کے لئے حیدر آباد پہنچے تو اس کے اگلے روز دہلی کے وزیر اعلیٰ ’’ اروند کجریوال ‘‘ نے ان سے ملاقات کی۔ اس کے بعد CPIM کے سربراہ ’’ سیتا رام یچوری ‘‘ بھی اپنی سیاست چمکارہے ہیں۔ وزیر ’’ سمرتی ایرا نی ‘‘ ، ’’ بنڈا رودتا تریہ ‘‘ اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے فوری استعفیٰ کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے اور ان کے خلاف قتل پر اکسانے کی FIR بھی درج کر لی گئی ہے اور اس پر ہندوستانی سیاست مزید گرماتی جا رہی ہے اور قوی امکان ہے یہ واقعہ آنے والے دنوں میں ہندوستانی سیاست میں کسی نئے طوفان خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس وقت اس ملک میں صرف روہت ویملا کا خود کشی کرلینے والا مسئلہ موضوع بحث نہیں ہے، بلکہ انسانیت کا وہ بڑا طبقہ بھی متائثر کرتی ہے جہاں اس کے جان ومال کی کوئی ضمانت نہیں ہے ہر روز کراہتی انسانیت اس ملک میں اپنے اپ کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہے، ملک میں بسنے والا بڑی اقلیت خوف و خراس میں خود کو محسوس کرتی ہے، اس لیے کہ نہ اس کے جان محفوظ ہیں نہ ہی مال کی ضمانت ہے، دلت اور اقلیت ہردو کے سر پر مڈلاتی ظلم و بربر یت کا طوفان تہمنے کا نام نہیں لیتا، کبھی کوئی تنگ آکر اپنے گلے پر پھانسی کا پھندہ لگا لیتا ہے، اور جو پھانسی کے پھندے کو مذہب کہ وجہ سے نہین لگا پاتا، اسے ذلت کے حد تک پہچانے کے لیے زنداں کے پیچھے ڈھکیل دیا جاتا ہے یہ صرف ایک واقعہ نہیں ہیں بلکہ اس طرح کے واقعات کوشمارکرنامشکل ہوگا۔یہ ملک کے طول عرض میں رونماہوتے رہتے ہیں۔زیادہ ترواقعات میڈیاکی پہنچ سے دوررہنے کی وجہ سے لوگوں کے علم میں بھی نہیں آپاتے اورنہ ہی سرکاری ریکارڈمیں ان کااندراج ہوپاتاہے۔جن کااندراج ہوجاتاہیوہ بھی کس طرح افسرشاہی یاسیاست کا شکار ہوجاتا ہے ۔ہاں ان واقعات پرسیاست ضرورگرم ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس پس منظر میں موجودہ ملک کے وزیر اعظم آخر کیا سوچ رہے ہیں، جب کہ اس معاملے کو لیکر ہندوستان جو سب سے بڑا جمہوری ملک ہے پوری دنیا کے سامنے شرمسار ہوتی نظر آتی ہے، اگر ہی حال رہا تو اس ملک کو منہ چھپانے کا بھی موقع نہیں ملے گا، اس لیے سیاسی طبقہ سے تعلق رکھنے والے ہر فرد کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا، نہ تو بے گناہ اخلاق مارے جائیں، نہ ہی ظلم و زیادتی سے تنگ آکر روہت ویملا جیسا ذہین طالب علم پھانسی کے پھندے پر چڑھے، مسئلہ صرف دلت اور اقلیت کا نہیں بلکہ ملک کی عزت وناموس کو، سیکولرزم کی بقا، اور انسانیت کا ہے، اس لیے مذہب وملت سے اوپر اٹھ کر اس ملک کے سیکولزم کو بچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے، خدا کرے اب آئیندہ کوئی ایسا واقعہ نہ ہو جس سے ملک کو شرمندہ ہونا پڑے۔ 

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES