dushwari

ہماری پیاری جمہوریت پرسیاسی لیڈران ایک داغ

ملائم سنگھ یادوکودستوری آئینی قدم اُٹھانے پرافسوس کیوں؟

سمیع احمدقریشی،ممبئی 

۱۵؍اگست ۱۹۴۷؍کوہماراملک آزادہوا۔۲۶؍جنوری ۱۹۵۰؍کوہماراملک کادستورنافذ ہوا۔دنیاکے متعدد ممالک کے دستوروآئین،ہندستان کی پرانی تہذیب،ملک کاسماجی منظرپس منظر،یہاں آبادمتعدد مذاہب تہذیب کلچرل اورذات پات کامطالعہ کرنے کے بعدہمارے ملک کوچلانے کیلئے جمہوری طرزحکومت کادستوربنا۔ہمارے ملک کے دستوراورآئین کی روسے یہاں آبادمتعدد مذاہب تہذیب زبانوں طبقات یعنی ہرایک شہری کومساوی شہری،سماجی ،مذہبی آزادی وتحفظ حاصل ہے۔افسوس ناک پہلوہے کہ اس قدرہماراپیارادستورہونے کے باوجودملک میں اونچ نیچ،تعصب،فرقہ واریت،کسانوں،مزدوروں اورکمزوروں کوآج بھی راحت وسکون حاصل نہیں۔

عزت وآبروجان ومال کی حفاظت میں حکومتیں ناکام ہوتی آئی ہیں۔آخریہ بربریت وستم کیوں؟ کہ ہرایک کوزندہ رہنے کاحق ،شہری مذہبی آزادی دستوری طورپر ہونے کے باوجودان کے ساتھ مساویانہ سلوک کیوں نہیں؟ اس کی ایک وجہ ہے۔یہاں کہ حکمراں،اگریہ دستورپرایمانداری سے چلنے کاحلف لیتے ہیں مگر حکومت کاانتظام کرتے ہوئے دستوراورآئین کونظراندازکرتے ہیں۔حکومت چلانے کیلئے جوقوانین بناتے ہیں وہ سرمایہ دارانہ ،رجعت پسندانہ اورفرقہ وارانہ ہواکرتے ہیں۔غریب اورکمزوروں کوانصاف ملنابھی مشکل ہے۔
حکمرانوں میں نیت خلوص ہو،کھوٹ نہ ہوتی تویقیناً دستورمیں جوانسانی اقدارکیلئے ضمانتیں دیں گئیں اس کی آج تک سالہاسال سے اس قدردھجیاں نہ اڑتیں۔پہلے جن سنگھ پھربھارتیہ جنتاپارٹی جنہیں ہم ہندوتواوادی،آرایس ایس کی شاخ کہہ سکتے ہیں۔ یہ زعفرانی پارٹیاں اپنے قول وفکر،ان کے عزائم سے کھلے واضح طورپرپہچانے جاتے ہیں۔مگرکانگریس،جس کی تعلیمات میں انسانی اقدار،قومی یکجہتی،فرقہ وارانہ ہم آہنگی جیسی باتیں شامل ہیں۔وہ بھی اقتداراورسایسی فائدے کیلئے سالہاسال سے سیکورلزم،انسانیت دوستی سے بدلے نظرآتی ہے۔تودوسری جانب ملائم سنگھ یادوجیسے شوشلسٹ سماجوادی فکروعمل کے سیاسی رہنماہیں جن کے قول وفعل میں انتہائی فرق ہے۔بلاشبہ کرپوری ٹھاکور،رام منوہر لوہیا،ہندستان میں سماجوادی فکروعمل کے بڑے لیڈران تھے۔سماجواد تحریک میں دبے،کچلے،غریب ،مزدور،اقلیتوں،کمزوروں کی فلاح وبہبودکیلئے نمایاں ہدایتیں ہیں۔فرقہ وارانہ ہم آہنگی،قومی یکجہتی پربے پناہ عزائم ہیں۔سماجوادی نظریات میں فرقہ پرستی،صوبائیت کوکوئی مقام نہیں۔اسی سماجوادی نظریات وتحریک سے ملائم سنگھ جڑے ہیں۔اپنی پارٹی کانام بھی سماجوادی پارٹی رکھاہے۔مورخ جب ہندستانی سیاست دانوں کی تاریخ لکھے گاتویقیناً قول وفعل سے نامطابقت رکھنے والے سیاسی لیڈران میں ملائم سنگھ کانام نمایاں لکھے گا۔؂
ہیں کواکب کچھ نظرآتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گرکھلا
حال ہی میں ملائم سنگھ نے بابری مسجدگنبدپرچڑھ جانے والے کارسیوکوں پرگولی چلانے پرافسوس کااظہارکیا۔ملائم سنگھ کاگرگٹ کی طرح سیاست میں رنگ بدلتے رہنے پرہم یہ بھی اندازہ کرسکتے ہیں کہ ایک دن وہ کارسیوکوں پرگولی چلانے پرمعافی نہ مانگ لیں۔بابری مسجد کی حفاظت کرنا،بطوروزیراعلی یوپی ملائم سنگھ کی دستوری وآئینی وقانونی ذمہ داری تھی۔یہ انہوں نے پوری کی۔ملائم سنگھ نے آج تک افسوس ظاہرنہیں کیا،آخرکیوں کرتے؟ یہ توآئینی ذمہ داری تھی۔مگرملائم سنگھ کومرکزکی بی جے پی حکومت کواپنے مفاد کیلئے اپنے خاندان کے مفادکیلئے استعمال کرناہے تووہ کچھ اس طرح سے گذشتہ ۳؍۔۴؍سال سے چل رہے ہیں کہ ایک طرف عوام انہیں سیکولراورشوشلسٹ لیڈرمانیں،مگربالراست وہ ہندوتوادی لیڈران کی پشت پناہی کرتے رہیں۔ملائم سنگھ کوکئی بار اوران کے بیٹے اکھلیش یادوکووزیراعلی یوپی بنانے میں مسلم رائے دہندگان کابڑاہاتھ رہا۔مگرملائم نے آخرمسلمانوں کے لئے کیادستوری حق اداکئے۔
وی پی سنگھ وزیراعظم ہندتھے مندرمسجدکامعاملہ انتہائی گرم تھا۔ایسے وقتوں میں بی جے پی کے ساتھ سازش کرکے ملائم سنگھ نے وی پی سنگھ کی سرکارگرانے میں اہم رول اداکیا۔مندرمسجدکامسئلہ جب یوپی میں انتہائی گرم تھا،سدبھاؤنایاتراؤں میں ایک حکمت عملی کے تحت ہندوتواوادیوں پرغیرضروری طورپرانتہائی جارحانہ تقاریرکیں۔کہ جس سے ہندوتواوادی ووٹ بڑھے۔سیکولرووٹ کانگریس ودیگرپارٹیوں سے کٹیں۔جس کافائدہ بی جے پی کوملے یابذات خودملائم سنگھ کوملے۔فرقہ وارانہ فسادات،زعفرانی پارٹیوں کیلئے نعمت ہواکرتے ہیں۔گذشتہ پارلیمانی الیکشن سے عین قبل یوپی میں فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوئے۔ہندوتواوادیوں نے بے پناہ فرقہ وارانہ تقاریرکیں۔اشتعال انگیزیاں کیں جواب بھی جاری ہیں۔ملائم سنگھ کے بیٹے اکھلیش یادووزیراعلی یوپی نے ان ہندوتوادیوں کے خلاف کنٹرول تک نہ کیا۔فسادات کوقابومیں کرنے کیلئے،پولس کومعیاری ہدایتیں تک نہیں دیں۔مظفرنگرکے فسادات میں لٹے پیٹے مسلمانوں کوہندوتواوادیوں کے ہاتھوں رہ رہ کرلوٹاماراگیا۔آخران ہندوتوادیوں کوکیاسزائیں ملیں،گجرات میں جہاں بھیانک فسادات ہوئے،کئی ایک کوفرقہ وارانہ فسادات میں حصہ لینے پرعدالتوں نے سزابھی دیں۔ملائم کے یوپی میں کیاہوا۔راجابھیاجیسے فرقہ پرست لیڈرکوملائم سنگھ نے اپنی پارٹی میں پال رکھاہے۔اس سے پہلے ساکھشی مہاراج،کلیان سنگھ،پون پانڈے جیسے فرقہ پرستوں کواپنی پارٹی سے ٹکٹ دیا۔مرکزمیں بی جے پی کی حکومت ہے۔اس کے آتے ہی ملک کی شوشلسٹ پارٹیوں اوردیگرپارٹیوں میں’’مہاگٹ بندھن‘‘ یعنی اتحاد ہوا۔تاکہ سیکولرووٹوں کی تقسیم نہ ہو۔مودی سرکارکے آنے کاایک سبب یہ بھی تھاکہ سیکولرووٹوں کی تقسیم ہوئی۔مہاگٹھ بندھن میں لالوپرساداورنتیش کمارساتھ ہوئے۔بہارالیکشن میں کانگریس کولے کربی جے پی کے خلاف لڑا۔بی جے پی کوبڑی شکست ہوئی۔یوں دہلی میں شکست کے بعدبہارمیں بی جے پی کوزبردست ہارنے ایک بڑاجھٹکادیا۔بی جے پی کونقصان نہ ہو،سیکولرپارٹیوں میں دراڑپڑے۔ملائم ’’مہاگٹھ بندھن‘‘میں شامل ہوکرعین الیکشن کی مہم میں الگ ہوگئے۔اتناہی نہیں ،کہاکہ بہارمیں بی جے پی کی لہرچل رہی ہے۔
ملائم سنگھ کواپنے ۲۰؍فیصدیادوووٹ اور۱۵؍فیصد مسلم ووٹ نے سیاست میں وقاربخشامگرحکومت کی ملائی مسلمانوں نے چکی ہی نہیں۔یادوسب ملائی کھاجاتے ہیں۔مرکزمیں ملائم سنگھ وزیردفاع تھے اس وقت ٹاڈاقانون کے تحت معصوم،بے گناہ مسلمان بے پناہ اذیتوں میں مبتلاتھے،گرفتارتھے،ٹاڈاقانون انتہائی سخت تھا،اس تعلق سے ملائم سنگھ نے مسلمانوں سے وعدہ کیا،مگراسے وفانہ کرسکے۔وہ جھوٹے اوربے وفاثابت ہوئے۔منموہن سنگھ کی کانگریسی سرکارکب کی’’امریکی ڈیل‘‘پرگرجاتی۔سخت جارحانہ مخالفت کرنے والے ملائم سنگھ نے منموہن سنگھ سرکار کواعتمادکاووٹ دے کربچالیا۔
کرپوری ٹھاکررام منہرلوئیانے جن انسانی اقدارکوسماجوادسے جوڑاوہ انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔اس سماجواد سے ملائم سنگھ دورہوگئے ہیں۔بھیاّ بھتیجہ وادپرچل رہے ہیں۔انسانی اقدار،فرقہ وارانہ ہم آہنگی صرف ان کے منہ میں نام کیلئے ہے۔کبھی بی جے پی کے اڈوانی کی تعریف کرتے ہیں توکبھی ہندوتواوادیوں اورسماجواد کے درمیان رشتے ناطے جڑاتے ہیں۔مرکزمیں وزیرتھے،اسرائیل سے رشتے ناطے
جوڑرہے تھے۔اب توانہیں کارسیوکوں پرگولی چلانے کاافسوس ہے۔میرے خیال سے نتھورام گوڈسے نے پھانسی کی سزاملنے کے باوجودبابائے قوم 
مہاتماگاندھی کے قتل پرافسوس نہ کیا۔مگرایک دستوری وآئینی قانونی کام ہونے پرملائم سنگھ کوافسوس ہے۔اب ہمارے وہ مسلم لیڈران جوسیاسی ومذہبی حیثیت رکھتے ہیں۔ملائم سنگھ یادوکی انسانی اقدار،فرقہ وارانہ ہم آہنگی پربدلتی سیاست پرکیاکہتے ہیں۔ورنہ ہمیں کہناپڑے گا؂
ضمیروزرکے ترازومیں تُل رہے ہیں یہاں 
کہاں کازہدوتقوی کہاں کاعلم وہنر
یوپی میں بڑے پیمانے پرگذشتہ پارلیمانی الیکشن میں بی جے پی کوخلاف توقع کامیابی ملی۔اس میں ملائم سنگھ سماجوادی پارٹی کانمایاں ہاتھ رہا۔بی جے پی کوسجاکر یوپی دے دیا۔اگرفرقہ وارانہ فسادات پرقابوپالیاجاتا،زعفرانی لیڈروں پرقانون کاڈنڈاپڑتاتو یوں اس طرح بی جے پی کویوپی میں پارلیمانی الیکشن میں کامیابی نہ ملتی۔مرکزمیں حکومت بنانا،مودی کوآسان نہ ہوتا۔
اب کس منہ سے اعظم خان ملائم سنگھ کوہندستان کاسب سے بڑاسیکولرلیڈرکہیں گے؟ انشاء اللہ یقیناً مودی کے ہندوتواوادیوں سے ملائم سنگھ کے رشتہ ناطے عوامی سطح پربڑے پیمانے پرعام ہوں گے۔
غالباً ملائم سنگھ لگتاجانتے ہیں کہ آنے والے اسمبلی الیکشن میں وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔مرکزی حکومت اورگورنرکاان پران کی پارٹی پرکوئی عتاب نہ گرے،اسی لئے وہ بہت ہی خوبصورت تدبروحکمت عملی کے ساتھ وہ خودکو زعفرانی پارٹی بی جے پی کے قریب لے جارہے ہیں نیزہندوتواوادی پارٹی بی جے پی کے ہندوتواووٹ میں اضافہ کررہے ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ یوپی میں ان کے صاحبزادے اکھلیش یادوکی سماجوادی پارٹی کی حکومت اطمینان کے ساتھ اپناوقت پوراکرے۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES