dushwari

مودی ہم شرمندہ ہیں

حفیظ نعمانی

یاد نہیں کہ کبھی ایسا ہوا ہو کہ 20 مہینے پہلے جس لیڈر کو مودی مودی کے نعروں کی گونج میں وزیر اعظم بناکر بھیجا ہو وہی جب وزیر اعظم بن کر پہلی بار لکھنؤ آئے تو واپس جاؤ، گو بک اور مردہ باد کے نعرے لگاکر اس کی بے عزتی کی ہو؟ وزیر اعظم شری نریندر مودی امبیڈکر یونیورسٹی کے جس پروگرام میں بلائے گئے تھے وہ مہینوں پہلے طے ہوچکا تھا۔ اور یہ تو ممکن ہی نہیں تھا کہ اسے ایک دلت نوجوان روہت کی خودکشی کے المناک واقعہ کی وجہ سے ملتوی کردیا جائے۔

ٹی وی کے ایک رپورٹر کلام خاں نے امبیڈکر یونیورسٹی کے اُن لڑکوں سے بات کی جو نعرے لگانے میں پیش پیش تھے۔ تو انہوں نے تسلیم کیا کہ انہیں وزیر اعظم سے شکایت نہیں ہے بلکہ ان وزیروں اور یونیورسٹی کے ذمہ داروں سے ہے جن کی وجہ سے روہت کو خودکشی کرنا پڑی اور یہ حقیقت ہے کہ حکومت کی مخالف پارٹیوں یا لیڈروں میں سے بھی کسی نے وزیر اعظم پر کوئی الزام نہیں لگایا اور جو شکایت کی وہ اُن کے وزیروں کے متعلق تھی۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ اپنے وزیروں کی ہر طرح سے حمایت کرتے ہیں۔
حیدر آباد یونیورسٹی کے روہت کے معاملہ میں فروغ انسانی وسائل کی وزیر اسمرتی ایرانی نے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے تین وزیروں کی موجودگی میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ روہت اور اس کے چار ساتھیوں کے ساتھ جو برتاؤ کیا گیا وہ زیادہ سخت اس لئے نہیں تھا کہ وہ پانچوں لڑکے دلت تھے۔ اور اس کے ثبوت میں اس رپورٹ کا ذکر کیا جس میں ان کو یونیورسٹی کے ہاسٹل سے نکالنے کی سفارش کی گئی تھی اور انتہائی تمکنت کے ساتھ یہ جملہ کہا کہ مجھے مجبوراً یہ بتانا پڑرہا ہے کہ جس کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا تھا اس کے صدر دلت تھے اور ایک گھنٹہ بھی نہیں گذرنے پایا تھا کہ پورے ملک میں یہ سنا گیا کہ یہ الزام بالکل غلط ہے۔ اس کمیٹی کے چیئرمین اونچی ذات کے ہندو تھے اور اس کمیٹی میں جو ایک دلت استاذ تھے انہوں نے اس کی مخالفت کی تھی۔ وزیر اعظم جو بھارت ماں کے ایک بیٹے کی خودکشی کا ذکر کرتے وقت دم بخود ہوکر چپ کھڑے رہے تھے کیا وہ اتنے غلط الزام کے بعد بھی اپنی منھ بولی بہن سے یہ معلوم نہیں کریں گے کہ تم نے اپنی غلطی کے مشہور ہوجانے کے بعد کیا کیا؟ اور اس سے بھی زیادہ اس بدنصیب کے ساتھ بی جے پی کے وہ ترجمان بے رحمی کا سلوک کررہے ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ روہت دلت ہی نہیں تھا۔ اس نے دلت کا جعلی سرٹی فکیٹ بنوا رکھا تھا اور جب اس کا بھانڈا پھوٹ گیا تو اس کی شرمندگی کی وجہ سے اس نے خودکشی کرلی۔ وزیر اعظم صاحب آنسوؤں میں ڈوبی ہوئی آواز میں کہہ رہے ہیں کہ اس کے خاندان پر کیا گذری ہوگی؟ اور ان کے ترجمان مٹھی بھر بھر کر اس کے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں۔ اسمرتی ایرانی صاحبہ نے عدالتی تحقیقات کا حکم دے دیا اور یونیورسٹی نے آٹھ لاکھ روپئے دے کر ایک اس لڑکے کی قیمت ادا کردی جو ہوسکتا ہے کہ آنے والے برسوں میں ایک لاکھ روپئے مہینے کا نوکر ہوجاتا۔
ہم جانتے ہیں کہ ہندو سماج میں اونچ نیچ کو ختم کرنا ایسا ہی ناممکن ہے جیسا دریا میں کھیتی کرنا اور کھیتوں میں مچھلی پالنا۔ ہم مغربی یوپی کے رہنے والے ہیں جہاں ہر بڑے گاؤں میں داخل ہونے سے پہلے دس بیس جھونپڑے ہوتے تھے جنہیں چماروں کی مڈھیاں کہا جاتا تھا۔ یہ سب کے سب دلت ہوتے تھے اور یہی بڑے کاشت کاروں کے کھیتوں میں اور ان کے جانوروں کی خدمت کرتے تھے۔ یہی مرغیاں پالتے تھے مگر خود انڈے نہیں کھاتے تھے سب گاؤں میں خرید لئے جاتے تھے۔ ملک کے ہر صوبہ کے دیہاتوں کو تو قریب سے نہیں دیکھا لیکن یہ حقیقت ہے کہ دلت کہیں بھی بھائیوں کی طرح نہیں دیکھے ہر جگہ ان سے اونچی ذات والے فاصلہ رکھتے ہیں۔
یہ بھی جمہوریت اور دستور کی مجبوری ہے کہ دلت کو وزیر بنانا پڑتا ہے۔ لیکن ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا ہے کہ یہ فیصلہ ایک کڑوی گولی نگلنے جیسا ہوتا ہے۔ جنتا پارٹی کی حکومت بنی اور جے پرکاش اور آچاریہ کرپلانی نے مرارجی ڈیسائی کو وزیر اعظم بنا دیا تو بابو جگ جیون رام غصہ سے پاگل ہوگئے اور یونس سلیم صاحب نے خود دیکھا کہ وہ فرنیچر کو ٹھوکریں مار رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اس ملک میں کبھی ہم جیسوں کو وزیر اعظم نہیں بنایا جائے گا۔ بابوجی کا خیال تھا کہ جنتا پارٹی کو جو وقار ملا ہے وہ ان کی وجہ سے اور بہوگنا جی یا نندنی ست پتی کی وجہ سے ملا ہے اور وہ 1952 ء میں بہار کے وزیر داخلہ بنائے جانے کی وجہ سے اپنے کو سب سے سینئر مانتے تھے۔
ہماری زندگی کے کئی برس سیاسی لوگوں کے ساتھ گذرے ہیں۔ ایک پریس والے کی حیثیت سے بھی مختلف پارٹیوں کے لیڈروں سے قربت رہی۔ کوئی پارٹی ایسی نہیں دیکھی جہاں جس دلت لیڈر کا بھی ذکر ہوتا ہو وہ دل سے احترام کے ساتھ ہوتا ہو۔ سبرامنیم سوامی، بی جے پی میں جو بہت پڑھے لکھے ہیں ان میں سے ایک ہیں۔ کیا یہ صرف اونچی ذات کا غرور نہیں ہے کہ وہ ایک تعلیمی تحریک کو ڈرامہ کہیں اور جو تحریک چلائیں انہیں کتا کہیں؟ وزیر اعظم کو تسلیم کرلینا چاہئے کہ اونچی ذات کا کوئی ایک ہندو انہیں ایسا نہیں ملے گا جو دلت کو، چاہے وہ کتنا ہی قابل ہو دل سے گلے لگائے اور جب تک تقریروں میں دلتوں کو بھائی اور دل میں انہیں کتا سمجھا جاتا رہے گا نفرت کی یہ آگ اور بھڑکے گی۔
اُترپردیش کے مغربی اضلاع میں مسلمان زیادہ بھی ہیں اور خوشحال بھی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے کارخانوں میں کام کرنے والے مسلمان مزدور اگر کرسی پر بیٹھے ہوں تو مالک کو دیکھ کر کرسی نہیں چھوڑتے ہیں۔ یہ اسلام نے بتایا ہے کہ ہر مسلمان ایک دوسرے کا بھائی ہے اور ہم نے لکھنؤ یا دوسرے مشرقی اضلاع میں دیکھا کہ مالک اور مزدور کا رشتہ آقا اور غلام جیسا ہے۔ اور یہ صرف ہندو سماج کی دین ہے۔ اٹل جی نے کبھی ہندو دھرم نہیں کہا بلکہ ہمیشہ ہندو سماج کہا اور یہ حقیقت ہے کہ پوری عمارت سماج پر کھڑی ہے اور سماج میں برابری کا کوئی تصور نہیں۔ اگر سبرامنیم سوامی وزیر ہوتے تو کبھی دلتوں کو تحریک چلانے والا کتا نہ کہتے۔
اور ہم مسلمانوں پر بھی ہندو سماج کا ہی اثر ہے کہ ہم رات دن پڑھتے ہیں کہ ہمارے آقا حضرت محمدؐ کے غلام یہ تسلیم کرتے تھے کہ انہوں نے خدمت کم کی اور ان کے آقاؐ نے ان کی خدمت زیادہ کی لیکن ہم یہ برداشت نہیں کرتے کہ ہم اپنے نوکر کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائیں اور اس کے بچوں کو وہ سب دیں جو اپنے بچوں کو کھلائیں اور پہنائیں۔ ہم مسلمانوں نے اگر اپنے مذہب کی تعلیم پر عمل کیا ہوتا تو آج پورا دلت سماج مسلمان ہوتا یا نہ ہوتا سگے بھائیوں کی طرح ایک طاقت ہوتا۔ لیکن ہر لیڈر نے صرف اس لئے مسلم دلت بھائی بھائی کا نعرہ لگایا کہ اسے دلت ووٹوں کی ضرورت تھی۔ اور جس مسلم لیڈر نے اپنی تنظیم بنائی اس نے ایسی ہی بنائی جیسی مایاوتی نے بنائی کہ ہر چابی دلت کے ہاتھ میں اور ووٹ مسلمان کا۔ کاش کوئی تو سنجیدگی سے یہ کرے کہ دونوں کے ووٹ بھی برابر برابر اور دونوں کا قتدار بھی برابر برابر۔
مسلمان اس خوش فہمی میں نہ رہیں کہ اونچی ذات کے ہندو ان سے کم نفرت کرتے ہیں۔ انہیں آج کے حالات سے تو ہر کسی کو اندازہ ہوجانا چاہئے، مسلمان دلتوں سے کہیں زیادہ نشانے پر ہیں۔ ہم لکھ چکے ہیں کہ ایک مہندرا اگروال نام کا جو لڑکا ڈیڑھ سال میں کم از کم 50 مرتبہ ہمیں چچا کہہ چکا تھا۔ وہ بے خیالی میں ایک دن مسلمانوں کو ملچھ بھائی کہہ گیا۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ہر مسلمان اونچی ذات کے لئے ملچھ (ناپاک) ہے۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES