dushwari

مسئلہ تو دلت اور غیردلت کا ہی ہے

حفیظ نعمانی

فروغ انسانی وسائل کی وزیر اسمرتی ایرانی اور پوری بی جے پی کے لئے اب اہم بات یہ ہے کہ انہیں دلت مخالف نہ سمجھا جائے۔ روہت ویمولا کی خودکشی کی ذمہ داری نہ وزیروں اور پارلیمنٹ کے ممبروں پر ہے اور نہ حیدر آباد یونیوہرسٹی کے وائس چانسلر پر بلکہ ہائی کورٹ کے ایک فیصلہ کی وجہ سے اس نے اپنی جان دے دی۔ اب تک جو تفصیلات اخباروں میں آئی ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جن سنگھ کے زمانہ سے چلی آرہی ’’اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد‘‘ ہمیشہ اونچی ذات کے ہندو لڑکوں کی تنظیم رہی ہے۔

جب تک بی جے پی کی حکومت نہیں بنی تھی اس وقت تک بھی کانگریسی لڑکوں کی اور کمیونسٹ لڑکوں کی تنظیم سے اس کا مقابلہ رہتا تھا اور جہاں کہیں بھی یونین کے الیکشن ہوتے تھے وہاں ان کے نتیجوں کو اسمبلی یا کارپوریشن کے الیکشن کی طرح سمجھا جاتا تھا۔ ہمیں یاد نہیں کہ کبھی ’’امبیڈکر اسٹوڈنٹ ایسوسی ایشن‘‘ کا کہیں ذکر بھی سنا ہو۔
یہ ریزرویشن کی مہربانی ہے کہ اب تعلیم کی میدان میں دلت لڑکوں کی تعداد بھی قابل لحاظ ہوگئی اور انہوں نے دوسری تنظیموں کی دریاں بچھانے اور کرسیاں اُٹھانے کے بجائے اپنی تنظیم بنالی۔ یہ وہ بات ہے جو وہ کیسے برداشت کرسکتے ہیں جنہوں نے دیکھا ہے کہ ان کے بڑوں کے سامنے کوئی دلت بیٹھ کر بات کرنے کی ہمت نہیں کرتا تھا اور چاہے جتنی دیر بات کرے کھڑا ہی رہتا تھا۔ اور ہر جملہ کے بعد ہجور، سرکار اور مالک کہہ کر ہی اپنی بات پوری کرتا تھا۔ یہ راج کمار وہ ہیں جنہوں نے تاریخ کے پرانے اوراق میں پڑھا ہے کہ ممبئی میں ہر دلت کو حکم تھا کہ وہ اپنے گلے میں ہانڈی لٹکائے رہے اور اگر تھوکنا ہو تو اسی میں تھوکے اور کمر سے ایک جھاڑو باندھے رہے تاکہ اس کے قدموں کے نشان اس کی جھاڑوں سے مٹتے رہیں اور اس سے بھی بہت آگے کی باتیں۔ پھر جب وہ یہ دیکھیں کہ ان کے اندر اتنی ہمت آگئی ہے کہ وہ ہر وہ حرکت کریں جس سے ہمیں تکلیف ہو تو سب کچھ ہوسکتا ہے اور یہ اسی سب کچھ کا نتیجہ ہے کہ روہت نے جب دیکھا کہ اس کا دانا پانی سب بند ہوگیا ہے اور وہ اپنی خودی کو قربان کئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا تو اس نے مزید ذلت برداشت کرنے کے بجائے اپنے کو ہی قربان کردیا۔
وزیر تعلیم اسمرتی ایرانی سارا زور اس پر دے رہی ہیں کہ یہ دلت اور غیردلت کا معاملہ نہیں ہے بلکہ لڑکوں کی سرکشی اور ہائی کورٹ کے فیصلہ کا معاملہ ہے۔ اب اسے اتفاق ہی کہا جائے گا کہ وہ لڑکا دلت تھا اور جو اس کے ساتھ لڑکے یونیورسٹی سے نکالے گئے وہ بھی دلت تھے۔ لیکن جب ٹی وی کے مذاکرات میں بی جے پی کے ترجمان حکومت کے گندے کپڑے دھونے بیٹھتے ہیں تو الفاظ ان کے جو بھی ہوں روح وہ ہوتی ہے جیسے کہہ رہے ہوں کہ میاں کی جوتی میاں کے سر؟ یا ’’ہماری بلّی ہمیں سے میاؤں‘‘ اور یہ حقیقت ہے کہ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے راج کمار جس جس بات سے چڑتے ہیں امبیڈکر ایسوسی ایشن کے لڑکے کمیونسٹوں سے مل کر وہی کرتے ہیں جیسے ’’یوم عاشقاں‘‘ کے موقع پر یا عام طور پر ودیارتھی پریشد کے لڑکے لڑکوں اور لڑکیوں کے ملنے پر سخت رویہ اختیار کرتے ہیں اور جگہ جگہ ایسے جوڑوں کی پٹائی بھی کردیتے ہیں۔ لیکن امبیڈکر ایسوسی ایشن کے لڑکے محبت ہو یا نہ ہو صرف انہیں چڑانے کے لئے ایسی حرکتیں کرتے ہیں اور انتہا یہ ہے کہ انہوں نے یعقوب میمن کی پھانسی کی بھی مخالفت کی اور دل خراش نعرے لگائے جبکہ میمن کا دلت لڑکوں سے کیا لینا دینا؟
جن پانچ دلت لڑکوں کو یورنیورسٹی ہاسٹل سے نکالا گیا۔ شہر ت کی حدتک ان پر کینٹین کے دروازے بھی بند کردیئے گئے، انہیں صرف اس کی اجازت دی گئی کہ وہ کلاس میں آسکتے ہیں۔ ان میں سب کا کیا حال ہے اس کا ذکر کیا کرنا۔ روہت کے بارے میں معلوم ہوگیا ہے کہ اس کی ماں دوسرے گھروں کے ایسے ہی کام کرتی تھی جیسے کاموں کو یاد کرکے ہمارے وزیر اعظم امریکہ میں رو پڑے تھے۔ اور روہت کا باپ سیکورٹی گارڈ جیسی معمولی تنخواہ کا نوکر ہے اور جب روہت ہزاروں روپئے کا مقروض ہوگیا اور اسے جو پونے دو لاکھ روپئے ملنے والے تھے اس کے بارے میں بھی اسے معلوم ہوگیا کہ وہ بھی خطرے میں ہیں تو اس نے جان دینے کا فیصلہ کرلیا۔ حالانکہ اس کے آخری خط سے اس کی قابلیت اور ذہنیت کا جو اندازہ ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ اگر ہمت نہ ہارتا تو ہوسکتا ہے دیر میں اسے اس کا مقام ملتا لیکن ملتا ضرور۔
یہ بیماری جیسے احساسِ برتری کہتے ہیں اس کے جانے میں ابھی دو تین نسلوں تک اور انتظار کرنا پڑے گا۔ برہمن اور اپنے کو اونچی ذات کا سمجھنے والے دلتوں کا تو ذکر کیا مسلمانوں کو بھی برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اور جب اور جہاں موقع ملتا ہے آٹھ سو برس کی تاریخ یاد کرنے لگتے ہیں۔ 1978 ء میں سنبھل میں فساد کے الزام میں جن مسلمان لڑکوں کو گرفتار کیا تھا ان سب کے بارے میں پولیس اور مقامی ہندوؤں کو معلوم تھا کہ کسی کو بھی مارنے یا جلانے میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ لیکن ان کا قصور یہ تھا کہ وہ دولتمند خاندانوں کے چشم و چراغ تھے اور آزادی کے بعد سے ہر کلفی دار ہندو یہ برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہے کہ کلفی اس کے سر کے علاوہ کسی دوسرے کے سر پر بھی ہو۔ اس لئے انہیں پہلے پولیس نے مار مارکر دل کی بھڑاس نکالی اور جس نے پانی مانگا اسے پیشاب پلانے کا سپاہیوں کو حکم دیا۔ 1987 ء میں جب میرٹھ کے ہاشم پورہ اور ملیانہ کے روزے دار مسلمانوں کو گرفتار کرکے لائے تو مسلمانوں نے مغرب کی اذان سن کر کہا کہ ’’ہم روزے سے ہیں ہمیں پانی دے دو‘‘ تو اس کے جواب میں بھی کہا گیا کہ انہیں پیشاب پلادو یہی ان۔۔۔ کی افطاری ہے۔
بچپن میں کسی سلطانہ ڈاکو کی کہانی سنا کرتے تھے۔ ہوش سنبھالا تو جتنے بھی بڑے ڈاکوؤں کا نام سنا وہ سب ہی ہندو تھے۔ پھر چنبل گھاٹی کی دل کو دہلانے والی کہانیاں سنیں۔ ان میں بھی سردار مسلمان نہیں تھے اور جو ہندو تھے ان کے بارے میں کہانیاں اخبار کی زینت بنتی تھیں اور بتایا جاتا تھا کہ کس نے کتنے ساہوکاروں اور سیٹھوں کو تڑپا تڑپاکر مارا ہے۔ وہ جب گرفتار ہوئے یا انہوں نے خودسپردگی کی تب بھی کسی کے بارے میں یہ نہیں سنا کہ انہیں پیشاب پلایا گیا۔ اور یہ تو وہ بات ہے جس کا ثبوت ہم خود ہیں کہ جب 9 مہینے ہم جیل میں رہے اور ہم نے ایسے ایسے خطرناک ڈاکوؤں سے انٹرویو لئے جن کی جیل کے اندر بھی ایسی دہشت تھی کہ ہر رات ان کی بیرک بدل دی جاتی تھی۔ اور جیل کے کسی بڑے یا چھوٹے افسر کی یہ ہمت نہیں ہوتی تھی کہ ان سے اونچی آواز میں بات کرسکے۔ ان میں سے کسی نے یہ نہیں بتایا کہ جب انہیں گرفتار کرلیا گیا تو پولیس کے کسی افسر نے انہیں گالی بھی دی ہو۔ رہا پیشاب پلانا تو یہ تو صوبہ کی پوری پولیس بھی نہیں کرسکتی تھی اس لئے کہ ہر افسر کو معلوم ہوتا تھا کہ ہمارا اپنا کوئی نہ کوئی باہر ہے۔
اب ذرا پولیس ایس ٹی ایف کی اس بہادری کی داد دیجئے کہ وہ پانچ مسلمان لڑکے جنہیں ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے عدالت نے باعزت بری کیا ہے اور جو اس کا ثبوت ہے کہ وہ باعزت تھے بے قصور تھے اور بے گناہ تھے۔ انہیں ناک کے ذریعہ پیشاب اور پانی پینے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ انہیں ننگا رکھا جاتا تھا اور ان پر پیٹرول ڈالا جاتا تھا۔ یہ وہی دلت اور غیردلت سے بہت آگے کی چیز مسلمان اور غیرمسلم کا معاملہ ہے۔ اور وزیر فروغ انسانی وسائل جسے الیکشن کے خوف سے تسلیم کرنے سے بچ رہی ہیں انہیں تو برہمن غیربرہمن، ٹھاکر غیر ٹھاکر، جاٹ غیر جاٹ اور یادو غیر یادو کی ہم سیکڑوں مثالیں دے سکتے ہیں۔ آزادی کے بعد پہلے وزیر اعلیٰ پنڈت پنت تھے تو ہر اہم عہدہ پر برہمن تھا۔ ان کے بعد سمپورنانند کائستھ آئے تو ہر بڑی کرسی پر کائستھ تھا اور ان کے بعد سی بی گپتا آئے تو ہر کرسی پر بنیا بیٹھا تھا۔ اور ہم نے تو یہ بھی دیکھا ہے کہ چودھری چرن سنگھ جب وزیر اعلیٰ بنے تو لکھنؤ کے ہر اہم تھانے کا انسپکٹر بھی جاٹ تھا۔ اسمرتی ایرانی صاحبہ کو شک ہو تو لکھنؤ سے رجسٹر منگواکر دیکھ لیں۔
یہ بات کسی منصوبہ کے تحت نہیں ہوتی بلکہ حکومت کے دلالوں کی پوری ٹیم اپنے مفاد کے لئے یہ سب کرتی ہے اسے بس یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ اب جو راج سنگھاسن پر بیٹھے ہیں وہ کس بات سے خوش ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ جمہوریت میں صرف ووٹ ہی سب سے بڑی رشوت ہے۔ جو فرقہ یا طبقہ اعلان کرکے ووٹ نہ دے وہ سب سے بڑا دشمن ہے۔ اس فہرست میں سب سے اوپر مسلمان آتے ہیں اس لئے کہ حکومت کی دست و بازو پارٹیاں بھی جب یہ کہیں کہ عربی مدارس میں اردو اور عربی کو ذریعہ تعلیم نہیں ہونا چاہئے اور یہ احمقانہ بات ایسی صورت میں کہی جائے کہ مدارس سرکاری امداد کو حرام سمجھتے ہوں؟ اور جنہیں اب دلت کہا جارہا ہے وہ کبھی بھی ہندو نہیں رہے۔ انہیں تو ووٹ کی مجبوری نے ہندو کہنا پڑا۔ لیکن یہ کیسا ہندو ہے جو ہر مندر میں نہیں جاسکتا؟ جبکہ وہ بھگوان کا گھر کہا جاتا ہے اور یہی باتیں ہیں جنہوں نے دلت اور غیردلت کے درمیان دیوار کھڑی کردی ہے جو نازک ہاتھوں سے نہیں گرے گی۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES