dushwari

سبرامنیم مدھوک اور سنگھل کے جانشین بنیں گے

حفیظ نعمانی

بی جے پی کے صدر اور این ڈی اے کے وزیر اعظم کے پاس جتنے کارتوس تھے وہ سب بہار کے الیکشن میں کام آگئے۔ جیسے اگر لالو یادو کی پارٹی جیت گئی تو گاؤں گاؤں اور شہروں کی گلی گلی گائے کے گوشت کی دکانیں کھل جائیں گی۔ یا اگر بی جے پی ہار گئی تو پاکستان میں جشن منایا جائے گا۔ یا وزیر اعظم کا بیان کہ میں ریزرویشن میں کوئی تبدیلی نہیں ہونے دوں گا اور میں اس کے لئے جان دے دوں گا۔ اور اس سے بھی بڑھ کر کہ نتیش اور لالو تو تمہارے ریزرویشن میں سے پانچ فیصدی کاٹ کر مسلمانوں کو دینے کی سازش کررہے ہیں اور میں اسے نہیں ہونے دوں گا وغیرہ وغیرہ۔

ان سب کا حاصل یہ نکلا کہ ٹی وی کے رپورٹر دہل گئے اور انہوں نے جو ایگزٹ پول دکھایا وہ اس طرح تھا کہ ایک نے 122 سیٹیں مودی کو دیں، دوسرے نے 127 ، تیسرے نے 155 ، چوتھے نے 126 ، پانچویں نے 111 اور چھٹے نے 121 ۔ یہ سب اس لئے تھا کہ مودی صاحب کی 30 ریلیوں میں سے ہر ایک میں ہزاروں نہیں لاکھوں آدمی ہوتے تھے اور کسے یہ اندازہ ہوسکتا تھا کہ جب ایک کروڑ کے قریب لوگوں نے مودی صاحب کو سننے کے لئے سفر کیا اور گھنٹوں بیٹھ کر تقریر سنی تو ان میں سے کیا آدھے نہ سہی۔ چوتھائی بھی ووٹ نہیں دیں گے؟ لیکن ان سب کا جو نتیجہ نکلا وہ سامنے ہے کہ اب مودی صاحب یا امت شاہ کے منھ سے بہار کا نام بھی نہیں سنا جاتا۔
اب جہاں جہاں الیکشن ہونا ہیں اس کا نتیجہ سب کو معلوم ہے کہ حکومت کسی کی بھی بنے بی جے پی کی دال گلنے والی نہیں ہے۔ اس لئے انہیں صرف 2017 کی فکر ہے کہ اُترپردیش جہاں سے بی جے پی کو 71 سیٹیں ملی تھیں وہاں اس کی حکومت بنے گی یا نہیں؟ وہ امت شاہ جن کی انتخابی قابلیت کے ڈنکے بجائے گئے تھے ان کے پاس ایک رام مندر کا کارتوس بچا ہے جس کی آواز تو ہوتی ہے لیکن اس میں سے گولی یا چھرے نہیں نکلتے بلکہ صرف کاغذ کے پرزے نکلتے ہیں۔ رام مندر کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ تو بابری مسجد تھی۔ بی جے پی کے بڑے لیڈر اسے نشانہ بناکر سیاست کرتے رہے اور انہوں نے ہندوؤں سے یہ نہیں کہا کہ دیکھو! اسے گرانا نہیں، اگر یہ گرگئی تو ہم نیتا گیری کس کے بل پر کریں گے؟ اس زمانہ کے وزیر اعظم نرسمہاراؤ بھی ہندو تھے اور لوگ کہتے ہیں کہ وہ بی جے پی کے ہندوؤں سے بھی زیادہ ہندو تھے۔ اور یہ بھی الزام ہے کہ مسجد کو شہید کرانے میں وہ کلیان سنگھ کے سرپرست تھے۔ لیکن جب وہ گرادی گئی تو اتنے ڈرے کہ کہہ دیا۔ ’’مسجد وہیں بناکر دی جائے گی۔‘‘ ظاہر ہے اس پر کون بھروسہ کرتا کہ جب اسے روکنا ان کے اختیار میں تھا تو وہ گرانے والوں کی سرپرستی کررہے تھے اور اب وہ بنانے کی بات کررہے ہیں تو کسے یقین ہوجاتا؟
بی جے پی کی قیادت اس کے بعد سے بہت پریشان ہے۔ اس لئے کہ بات مندر کی نہیں ہے بلکہ عظیم الشان مندر کی ہے اور یہ بے وقوف حکمرانوں کی کم عقلی ہے کہ مندر بھی ہے اور پوجا پاٹ اور درشن میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہے تو پھر لڑائی کہاں رہی؟ اگر ان ہندو لیڈروں کو ذراسی بھی عقل ہوتی تو مندر کا ڈھانچہ تو باقی رکھتے مگر پوجا پاٹ پر پابندی لگادیتے تب یہ ممکن تھا کہ 100 کروڑ ہندو اسے حق تلفی کہہ کر اس کے خلاف تحریک چلاتے اور اُترپردیش میں اس نعرہ پر ووٹ مانگتے کہ ہماری حکومت بنوادو تو ہم پوجا شروع کرادیں گے۔ لیکن ایسی حالت میں کہ مندر بھی ہے، پوجا بھی ہورہی ہے، مسلمان کو اندر جانے کی اجازت بھی نہیں ہے اور سیکڑوں مسلح پولیس کے جوان اس کی حفاظت بھی کررہے ہیں تو تحریک کیسی اور کس بات کے لئے؟
بی جے پی کے لیڈر سبرامنیم سوامی ایک منجھے ہوئے سیاست داں ہیں۔ وہ اپنے طور پر خود ایسی صلاحیتوں کے مالک ہیں کہ بی جے پی کے بڑے بھی ان سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ وہ اس جنتا پارٹی کے گذشتہ سال تک صدر رہے جو 1977 ء میں بن کر 1980 ء میں ختم ہوگئی تھی۔ لیکن وہ اس کے انتخابی نشان ہل کو کاندھے پر دھرے 2015 ء تک کھڑے رہے۔ پھر اس اُمید پر کہ شاید انہیں وزارت مل جائے بی جے پی میں آگئے۔ لیکن شری مودی شاید ان کی طرف سے مطمئن نہیں ہیں اور ہوسکتا ہے کہ انہوں نے اسی لئے اپنے معیار سے بہت گھٹیا بات کہہ دی کہ رام مندر دسمبر میں بننا شروع ہوجائے گا۔ جبکہ ہندوستان میں اب کوئی ایسا نہیں ہے جو دسمبر 2016 ء کا مطلب نہ سمجھے اور یہ حساب نہ لگالے کہ دسمبر میں کہہ دیا جائے گا کہ تین مہینے کے بعد بی جے پی کی حکومت بنوادو تاکہ تاج محل سے زیادہ خوبصورت مندر بن سکے۔ اور جب حکومت بن جائے گی تو کہا جائے گا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بغیر اپوزیشن تو کچھ کرسکتی ہے۔ حکمراں پارٹی اگر کرے گی تو سپریم کورٹ اس حکومت کو ہی گرا دے گا۔ اس لئے عدالتی فیصلہ کا انتظار کردیا اس وقت کا کہ راجیہ سبھا میں بھی بی جے پی کی اکثریت ہوجائے اور نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی۔
بی جے پی کے لیڈروں کے دماغ میں صرف یہ ہے کہ اجودھیا کی حیثیت ہندوؤں کی قطر میں وہ بنا دی جائے جو مسلمانوں کی نظر میں مکہ معظمہ کی ہے تاکہ سال بھر تو پوری دنیا سے ہندو ایسے آتے رہیں جیسے مسلمان عمرہ کرنے جاتے ہیں اور ایک خاص مہینہ میں کروڑ دو کروڑ ایسے آئیں جیسے دنیا بھر کے مسلمان حج کو جاتے ہیں۔ لیکن اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے لئے کعبہ تو صرف ایک ہے اور ہندوستان کے شہروں میں نہ جانے کتنے رام مندر ہیں۔ رہی یہ بات کہ اجودھیا کی انفرادیت یہ ہے کہ یہاں رام جنم بھومی ہے یا سیتا رسوئی ہے یا دوسری خصوصیات ہیں تو مسلمانوں یا عیسائیوں کی بات نہیں تمل لیڈر کرونا ندھی جنہیں ہندو مانا جاتا ہے ان کا یہ کہنا کہ ہمارے پوروَج (iwoZt) ہزاروں سال پہلے تھے لیکن کوئی نہیں بتا سکتا کہ وہ کہاں پیدا ہوئے کیسی زندگی گذاری اور کہاں ان کا انتم سنسکار (vfUre laLdkj) ہوا؟ اور شمالی ہند کے ہندو کہتے ہیں کہ رام جی لاکھوں برس پہلے تھے۔ تو کون بتا سکتا ہے کہ ان کا جنم کہاں ہوا اور وہ دنیا سے کب گئے؟ یا رابندر ناتھ ٹیگور کا کہنا کہ رام چندر جی اور راون کی کہانی صرف کہانی ہے جس میں یہ دکھانا ہے کہ برائی پر ہمیشہ اچھائی کی فتح ہوتی ہے۔ اور یہ دونوں وہ ہیں جنہیں کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ ہندو نہیں ہیں۔
رام چندر جی کے بارے میں کوئی نہیں بتاتا کہ ان کا زمانہ کب تھا۔ لاکھوں برس پہلے ہر ہندو کی زبان پر ہے۔ جب یہ نہیں معلوم کہ وہ کتنے لاکھ برس پہلے تھے تو کیسے معلوم ہوسکتا ہے کہ اگر انہوں نے مندر بنوایا ہوگا تو وہ کیسا ہوگا؟ اور جو اس میں اینٹ پتھر یا گارا لگا ہوگا تو وہ کون سا مسالہ تھا؟ ہمیں بھٹے کی اینٹ سے پہلے صرف لکھوری اینٹ ملتی ہے اس سے پہلے آبادی میں یا مٹی کی اینٹ ملتی ہے یا پتھر جس کے لئے سنبھل جیسے قدیم دوسرے شہروں کو دیکھا جاسکتا ہے۔ لاکھوں برس پہلے کے بارے میں کیا کہیں یہ ملے گا کہ اس دَور میں انسان پکاکر کھاتا تھا یا کچا اور کیا رسوئی کی ایجاد ہوچکی تھی اور کیا للا کا لفظ ہندی میں اسی وقت سے شامل ہوا ہے؟
کل اویسی صاحب کے ساتھ ایک مذاکرہ میں سبرامنیم سوامی آنجہانی بلراج مدھوک اور اشوک سنگھل کی جانشینی کا فرض ادا کررہے تھے۔ انہوں نے دسمبر میں مندر بنوانے کی بات کی وضاحت میں کہا کہ ہم سپریم کورٹ میں جیتیں گے۔ اس لئے عظیم الشان مندر بنے گا۔ دلیل یہ دی کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے مان لیا ہے کہ رام جی کا مندر توڑکر بابری مسجد بنی تھی اور اس لئے مانا کہ مندر کے آثار ملے تھے۔ فیصلہ اس وقت ہمارے پاس نہیں ہے لیکن ہم کیسے مان لیں کہ جب عدالت کو یہ بھی معلوم نہ ہو کہ کتنے لاکھ برس پہلے رام چندرجی نے مندر بنایا تھا تو وہ کیسے کہہ دیں گے کہ اس مندر کے آثار ملے ہیں۔ جبکہ یہ بھی معلوم نہ ہو کہ اس زمانہ میں تعمیر میں کیا کیا استعمال ہوتا تھا اور مندر میں کیا کیا لگایا جاتا تھا؟ اویسی صاحب نے جب سبرامنیم صاحب کو یاد دلایا کہ مودی سرکار کے لئے عوام نے کون کون سی یقین دہانیوں کی وجہ سے ووٹ دیئے تھے تو وہ ساکشی مہاراج اور یوگی آدتیہ ناتھ یا سادھوی پراچی بن گئے اور کہہ دیا کہ کروڑوں ہندو بغیر چھت کے بھوکے پیاسے بے روزگار رہنے پر تیار ہیں بس ان کو رام مندر مل جائے۔ اور سبرامنیم جیسے ماہر قانون داں بھی جب اتنی نیچی سیڑھی پر آجائیں تو سمجھنا چاہئے کہ پوری بی جے پی اور آر ایس ایس سب نے اُترپردیش میں اپنی شکست دیکھ لی ہے اور تسلیم کرلیا ہے کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے اس لئے دیر سویر کھیل ختم ہونے والا ہے۔ شاید اسی لئے سوامی نے ترکش کا آخری تیر بھی پھینک دیا کہ ہم مسلمانوں کو بھگوان کرشن کی تجویز پیش کرتے ہیں کہ وہ ہمیں تین مندر دے دیں اور چار ہزار مسجدیں رکھ لیں اور دُریودھن نہ بنیں۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES