Print this page

بھرشٹاچار کی گھر پر دستک

حفیظ نعمانی

دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال کے دفتر میں سی بی آئی افسروں نے قدم کیا رکھا جیسے شہد کے چھتہ میں کسی نے اینٹ ماردی۔ شکور بستی میں کئے گئے مظالم کی طرف سے توجہ ہٹانے کے لئے کسی نے وزیر اعظم کو مشورہ دیا کہ دہلی کے ایک افسر کی بدعنوانیوں کا پردہ فاش کرنے کے لئے اس پر ہاتھ ڈالا جائے۔ جس پر کجریوال ضرورت سے زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔ اس افسر کی فائل اور اس کے گھر کی تلاشی اور برآمد ہونے والی معمولی رقم یا شراب تو ایک طرف ہوگئی۔ کجریوال اور ان کی پوری ٹیم نے فیروز شاہ کوٹلہ اسٹیڈیم میں ہونے والی کروڑوں کی بدعنوانی کا پٹارہ کھول دیا اور نشانہ پر انہیں لے لیا جو حکومت کے نمبر دو یعنی ارون جیٹلی ہیں۔

دو دن سے برابر اخبار اور ٹی وی چینل اس بحث میں الجھے ہوئے ہیں اور ہمیشہ کی طرح جیٹلی صاحب کی طرف سے جتنی جتنی صفائی دی جارہی ہے اتنا ہی معاملہ الجھتا جارہا ہے۔ بی جے پی کے لیڈر اور وزیر بس ایک ہی رٹ لگائے ہیں کہ جیٹلی صاحب پر آج تک کسی کی ہمت نہیں ہوئی کہ کوئی داغ لگادے۔ ان کی زندگی بالکل پاک صاف ہے لیکن یہ کجریوال کی ایمانداری کا تحفہ ہے کہ کرکٹ کے پرانے کھلاڑی بشن سنگھ بیدی، کیرتی آزاد اور کھنہ جیسے نہ جانے کتنے سامنے آکر کجریوال کے ساتھ کھڑے ہوگئے ہیں۔
فیروز شاہ کوٹلہ اسٹیڈیم 114 کروڑ میں بن کر تیار ہوا تھا اس زمانہ کے کھلاڑی بتا رہے ہیں کہ جس کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا تھا وہ 57 کروڑ روپئے میں بناکر چلی گئی تھی۔ اس کے بعد وہ ہوا جو صرف لوٹ کھسوٹ میں ہوتا ہے۔ ابھی کسی نے یہ تو نہیں کہا کہ اس میں سے ارون جیٹلی نے کتنا لیا۔ البتہ یہ سب کہہ رہے ہیں کہ جس جس نے لیا وہ سب جیٹلی صاحب کو معلوم ہے۔ کل آٹھ بجے رات سے دس بجے تک این ڈی ٹی وی نے بہت کچھ بتا دیا ہے جسے دلچسپی رکھنے والوں نے دیکھا اور سنا ہوگا اہم بات یہ ہے کہ کیرتی آزاد نے کہا ہے کہ جو کچھ سامنے آیا ہے وہ صرف پندرہ فیصدی ہے 85 فیصدی وہ ہے جس کا خلاصہ میں اتوار کو پریس کانفرنس میں کروں گا۔
ارون جیٹلی صاحب دہلی کرکٹ ایسوسی ایشن کے 14 سال صدر رہے۔ وہ صرف یہ چاہتے تھے کہ انہیں صدارت سے نہ ہٹایا جائے اور جس کا جو جی چاہے وہ کرتا رہے۔ اسی سلسلہ میں یہ سامنے آیا کہ اس اسٹیڈیم کو پانچ کمپنیوں نے بنایا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کمپنیوں کا ڈائرکٹر ایک ہی ہے۔ یہ تو ایک عام بات ہے، حکومت کے وزیر گڈکری صاحب جب بی جے پی کے صدر تھے تو معلوم ہوا تھا کہ ان کی نہ جانے کتنی کمپنیاں ہیں جو سب فرضی ہیں اور اسی الزام کی وجہ سے دستور میں تبدیلی کے باوجود وہ دوبارہ صدر نہیں بن سکے اور ان کا کیا ذکر ہم جب 40 سال پہلے پریس میں بیٹھتے تھے تو ہمارا کام پسند کرنے والے بعض افسر بلاکر کام دے دیا کرتے تھے کہ تین پریسوں کے ٹنڈر دے دیجئے گا۔ جن میں اپنا سب سے کم ہو ہم منظور کریں گے اور یہ بھی کہتے تھے کہ بے وقوف حکومت نے یہ قانون بنا رکھا ہے۔
اور کبھی تو یہ بھی کرانا پڑا کہ تین ایسے اخبار تلاش کرنا پڑے جو چھپتے تو ہوں مگر پڑھے نہ جاتے ہوں۔ ان میں ٹنڈر چھپوایا اور پھر تین ٹنڈر دے دیئے۔ پہلے تو ہم دوسرے پریسوں سے لیٹر پیڈ کا ایک صفحہ مانگ کر کام چلا لیتے تھے اس کے بعد خود ہم نے اپنے ہی تین پریس بنا لئے اور کسی کا احسان لینے سے بچ گئے۔ اپنے گناہ کا اعتراف اس لئے کرنا پڑا کہ بقول اس افسر کے کہ کیا جائے بے وقوف سرکار نے یہ قانون بنا دیا ہے۔ اس وقت پرانے کرکٹ کے کھلاڑی انگاروں پر لوٹ رہے تھے۔ وہ جس وقت کھیلتے تھے تو ٹی وی کا تو وجود ہی نہیں تھا۔ دیکھنے والے بھی کم قیمت کا ٹکٹ ہونے کے باوجود اسٹیڈیم خالی رہتا تھا۔ ون ڈے اور 20 اوور کی عیاشی اور جوا یا سٹہ کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔
اور اچھے موسم میں کرکٹ کھیلی جاتی تھی۔ آج ان کے سامنے کے یا کل کے لونڈوں میں کوئی نہیں ہے جس کے پاس سیکڑوں کروڑ روپئے نہ ہوں اور انتہا یہ ہے کہ سچن تندولکر بھارت رتن بن گئے اور آئی پی ایل نے تو اسے اتنا گندہ کردیا کہ اب اسے کرکٹ کہتے منھ کا مزہ خراب ہوتا ہے۔
یہ تمام باتیں اپنی جگہ لیکن وزیر اعظم مودی صاحب بہت برے پھنس گئے ہیں۔ وہ جن انڈوں پر مرغی کی طرح بیٹھ گئے تھے انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ گندے ہیں اور ان میں سے چوزے نہیں نکلیں گے۔ ارون جیٹلی جب امرتسر میں ہار گئے تو، یا اسمرتی ایرانی جب ہار گئیں تو 280 ممبروں کی موجودگی میں انہیں وزیر بنانے کا فیصلہ کیوں کیا؟ اور وزیر بناتے وقت بھرشٹاچار مکت بھارت بنانے کا اعلان کرنے والے نے یہ کیوں نہیں دیکھا کہ کس کا اعمال نامہ کیسا ہے؟ اور یہ فیصلہ کیوں نہیں کیا کہ کسی پر بھولے سے بھی اگر کوئی الزام آئے گا تو اسے اس وقت تک میدان سے باہر بٹھا دوں گا جب تک وہ پاک صاف ثابت نہ ہوجائے؟ سُشما سوراج صاحبہ پر للت مودی سے متعلق جو الزام ہے وہ آج بھی اسی طرح ہے اور اسمرتی ایرانی کی ڈگری کی کہانی بھی صاف نہیں ہوئی اب یہ جیٹلی صاحب کا مسئلہ کھڑا ہوگیا۔
مسٹر ونکیا نائیڈو نے اس معاملہ میں نہیں، ارونا چل معاملہ میں کہا ہے کہ ہر معاملہ میں وزیر اعظم کا نام کیوں لیا جاتا ہے؟ انہوں نے جن سے کہا ہے اس کا جواب وہ دیں گے لیکن ہم یہ اس لئے لیتے ہیں کہ جب حکومت کا نام وزیر اعظم ہو اور حالت یہ ہو کہ پارلیمنٹ کا الیکشن پورا تنہا لڑیں گے۔ دہلی کی آدھی سرکار کا بھی خود ہی لڑیں گے۔ ہریانہ اور جھارکھنڈ جیسے چھوٹے صوبوں کا بھی وہی لڑیں گے اور مہاراشٹر اور بہار میں بھی کسی کو نہ گھسنے دیں گے تو ہر معاملہ میں ان کا نہیں تو کس کا نام لیا جائے؟ ملک میں صرف 1967 ء تک جو ہوتا تھا وہ پوری حکومت کرتی تھی۔ لیکن اس کے بعد سے تو یہ ہوگیا ہے کہ اخبار کون سے خریدے جائیں اور اس کی ردّی کس کے ہاتھ فروخت کی جائے یہ بھی صرف وزیر اعظم فیصلہ کریں گے؟ جیٹلی صاحب بہت بڑے وکیل ہیں وہ کیوں چاہتے تھے کہ ایک اسٹیڈیم بنے اور وہ کیوں کھیل کے صدر رہے؟ اور کیوں انہوں نے وہ کیا جو شیلا دکشت نے کیا تھا کہ سریش کلماڈی کو حلق تک حرام کے مال سے بھر جانے دیا؟ وہ ملوث تھے یا نہیں لیکن ذمہ دار وہ ہیں اور وزیر اعظم کو اس کا فیصلہ کرنا پڑے گا۔
پورے ملک کی بات اور ہے وہ کارگل جہاں کے بھولے انسانوں نے جنگ جھیلی ہے وہاں جب وزیر اعظم صاحب گئے تھے تو سب سے زیادہ زور اس پر دیا تھا کہ وہ انہیں بھرشٹاچار مکت بھارت دیں گے۔ یہ ہم آج تک نہ سمجھ سکے کہ بھرشٹاچار مکت کی کارگل کو کیا ضرورت پیش آگئی اور وہ انہیں ملا یا نہیں؟ لیکن بھرشٹاچار جو اُن کی دہلی میں ہی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ اس کے بارے میں اگر کیرتی آزاد کی اتوار کو ہونے والی پریس کانفرنس سے پہلے وہ بیان دے دیں تو کیا بہتر نہ ہوگا؟