dushwari

گیمبیا کی اسلامی شناخت ،ماضی اور حال

محمد ظفر اقبال

گیمبیا براعظم افریقہ کے مغرب میں واقع ایک چھوٹا سا ملک ہے ، اس کا کل رقبہ 10689مربع کیلو میٹر ہے۔ 2013 ء کے اعداد و شمار کے مطابق اس کی آبادی 1,882,450لوگوں پر مشتمل ہے ۔ یہاں کے سکۂ رائج الوقت کا نام ڈالاسی ہے ۔ دنیا کے 187 ممالک کے مابین انسانی ترقی انڈیکس (HDI)میں اس کا رینک172 ہے ،جبکہ افریقہ کے کل 54 (دو ملک متنازعہ فیہ ہے)ممالک میں یہ 37نمبر پر ہے ۔ انسانی ترقی انڈیکس کسی بھی ملک کی ترقی کو ناپنے کا ایک عالمی پیمانہ ہے ، جس کے ذریعہ تین چیز متوقع عمر (Life Expectency)، تعلیم اور فی کس آمدنی(Per Capita Income) کو بنیاد بنا کر اس ملک کی درجہ بندی کی جاتی ہے ۔

ترقی کو ناپنے کیلئے اس پیمانہ کا نظریہ 1990ء میں ایک پاکستانی ما ہر اقتصادیات محبوب الحق نے پیش کیا تھاجس کو اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم اقوام متحدہ ترقیاتی پروگرام نے قبول کر لیا ۔ اب ہر سال اس کی بنیاد پر اس ضمن میں شامل کل 187ملکوں کی درجہ بندی کی جا تی ہے ۔
گیمبیا کی راجدھانی بانجول ہے اور یہاں کی سرکاری زبان انگلش ہے ۔یہ ملک گویا ملک سینی گال کے بطن میں واقع ہے ۔ اس کو تین اطراف سے سینی گال نے اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے جبکہ یہ ملک اپنے مغرب میں بحر اٹلانٹک سے ملا ہوا ہے ۔ ایک طویل عرصہ سے اس ملک کے باشندگان کوغلام بناکر دنیا کے مختلف حصہ میں ان کی خریدو فروخت کی جاتی تھی۔ انگریزی حکومت کی آمد سے پیشتراس ملک میں پرتگالیوں کا قبضہ تھا ۔ 25 مئی 1765ء میں اس علاقے میں گیمبیا ندی کے راستے انگریزوں نے اپنا قدم رکھا اور یہاں اپنی استعماری حکومت قائم کر نے میں کا میابی حاصل کر لی۔ انگریزوں نے یہاں کے غلاموں کو بھاری قیمت میں یورپ اور برازیل کے بازاروں میں فروخت کرنا شروع کیا ۔ تقریبا 150سال تک برطانیہ ، فرانس، ڈچ اور پرتغالیوں نے غلاموں کی خرید و فرخت سے کا فی منافع کمایا ۔ یہ لوگ افریقی باشندوں کو ایک دوسرے کے خلاف اکسا کر دوسرے علاقے پر چڑھائی کرواتے اوران سے قیدیوں کو کپڑے اور بندوقوں کے مقابل خریدا کرتے ۔ برطانوی حکومت نے ایک طویل عرصہ تک اس ملک میں حکومت کی۔ بالآخر 18فروری 1965ء کو اسے برطانوی غلامی سے آزادی ملی لیکن اس کے بعد بھی یہ ملک نوآبادیاتی میراث ہی رہا ۔ ابھی چند سال پہلے تک اس ملک کے برطانیہ کے ساتھ تجارتی و سفارتی تعلقات بہت مضبوط تھے ۔ برطانوی و دیگر یورپی سیاحوں کی کثرت سے اس ملک میں آمدورفت رہی اور وہ یہاں کے خوشنما ساحلی نظاروں سے لطف اندوز ہوتے رہے ہیں ۔ 
اس ملک میں انواع و اقسام کے نباتا ت و جمادات بھی پائے جاتے ہیں ۔ بندروں کی مختلف قسمیں یہاں پائی جاتی ہیں۔ 2002ء کی رپورٹ کے مطابق اس ملک میں 117 جانوروں کی پرجاتیاں پائی جاتی تھیں۔ اسی طرح پرندوں کی 154 پر جاتیاں، اورپودوں کی 900 سے زیادہ پرجاتیاں موجود ہیں۔

گیمبیا 500ء تک ایک مالا مال تہذیب کا حامل ملک تھا۔ عربوں کے ساتھ اس کے خوشگوارتجارتی تعلقات تھے ۔ عرب یہاں سے زیادہ تر غلام اور سونے کی خرید و فروخت کیا کر تے تھے۔ اس لئے سب سے پہلے عربوں نے اس ملک کے بارے میں مختلف قیمتی معلومات کو تاریخ کے صفحات میں قلم بند کیا۔اسی طرح مالی حکومت (تیرہویں صدی سے پندرہویں صدی تک)کے دور عروج میں یہ علاقہ ما لی کے ماتحت تھا۔ پندرہویں صدی(1455ء) میں پرتگالیوں نے گیمبیا ند ی کے کنارے پڑاؤ ڈالا ۔ دراصل گیمبیا گوینا سے نکلنے والی ایک ندی کا نا م ہے جو کئی ملکوں میں پھیلی ہوئی ہے ۔ جس کی لمبائی 1600 کیلو میٹر ہے جس کا آخری سرا بحر اٹلانٹک سے جاملتا ہے ۔ آخر کے 470 کیلومیٹر ندی کے دونوں کناروں پر اسی ندی کے نام سے ہی ملکِ گیمبیا واقع ہے ۔ پرتگالی دھیرے دھیرے اس علاقے سے غلاموں کا خرید و فروخت کر نے لگے۔ اس کے بعد فرانسیسی اور ڈچ بھی یہاں داخل ہو گئے۔ سترہویں صدی کے آغاز میں اس علاقے میں انگریزوں نے قدم رکھا۔ تقریبا 150 سال تک بحر اٹلانٹک کے پار کے علاقے میں جانوروں کی طرح یہاں کے غریب و بے کس عوام کی تجارت کا سلسلہ چلتا رہا ۔ اس سلسلے میں ا س وقت کسی قدر کمی آئی جب برطانیہ نے 1807ء میں غلاموں کی خرید و فروخت کو ممنوع قرار دے دیا۔ اب وہاں پر مقیم برطانویوں نے مونگ پھلی سے منافع حاصل کر نا شروع کیا جس کی کھیتی آج تک وہا ں وافر مقدار میں کی جارہی ہے۔1820 ء تک گیمبیا ایک برطانوی چھاؤنی بن چکا تھا اور 1886ء تک جب یورپی اقوام نے افریقہ کو مختلف ٹکڑوں میں تقسیم کرنے میں کامیابی حاصل کر لی تھی، اس وقت تک گیمبیا ایک نو آبادی علاقہ میں تبدیل ہو چکا تھا۔ بیسویں صدی میں جب برطانوی افواج کمزور پڑنے لگی تو اس کا فائدہ گیمبیا کو ہوا اور 1965ء میں برطانوی پارلیامینٹ نے اس کو ایک آزاد ملک کا درجہ دے دیا۔ 
آزادی کے بعد سے اس ملک میں دو صدر مقر ر ہوئے ہیں ، پہلا داؤدا جاوراجس نے 1970ء سے لیکر 1994ء تک حکومت کی، انہوں نے 1958ء میں People,s Progressive Party(PPP) کے نا م سے ایک سیاسی پارٹی بنائی ۔ا س کے بعد سے تاحال 21سال سے اس ملک کی زمام حکومت یحی جامع کے ہاتھ میں ہے جو1994 ء میں فوجی بغاوت کے بعد وجود میں آنے والی پارٹی Alliance for Patriotic Reorientation and Construction سے منسلک ہیں۔
گیمبیا کی معاشی حالت 
گیمبیا ایک غریب ملک ہے جہا ں کی تقریبا نصف سے زیادہ آبادی خط افلاس سے نیچے کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں ۔اس لیے کہ یہ ملک ایک زراعتی ملک ہے۔ یہاں کے 70% لوگ زراعت پر منحصر ہیں ، جبکہ ملکی مجموعی پیداوار(GDP) میں اس کا حصہ صرف 30%ہے ۔ اس کے علاوہ صنعت کا حصہ 8%اور دیگر خدمات کاحصہ 58% ہے۔ یہاں کی اقتصادیات کا دار و مدار زراعت، ماہی گیری اور سیا حت پرہے ۔ گذشتہ چند سالوں میں برطانیہ اور یورپی ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات خراب ہوئے ہیں جس کی وجہ سے اس کی سیاحت بھی متأثر ہوئی ہے ۔ ان سب کے باوجود بھی یہ ترقی پذیر معیشت ہے ۔ یہاں کی حالت دن بدن بہتر ہوتی جا رہی ہے ۔
تعلیمی اور صحی صورتحال 
گیمبیا کی تعلیمی صورتحال آئے دن بہتری کی طرف گامزن ہے ۔ 2012ء کے اعداد و شمار کے مطابق اس ملک کی شرح خواندگی(15سے 24سال کی عمر کے لوگوں میں) 52.1%ہے جبکہ اسی عمر کے نوجوان لڑکیوں میں 63.6%اورنوجوان لڑکوں میں 72.6% شرح خواندگی ہے ۔ یہاں عصری و دینی دونوں قسم کی درسگاہیں موجود ہیں۔ یہاں کے 20% طلباء اسلامی مدارس میں زیرتعلیم ہیں۔ اس ملک کا آئین بنیادی تعلیم کو مفت اور لازمی قرار دیتا ہے ۔(2008-2011)پرائمری اسکول میں کل اندراج کی شرح 69.5% ہے۔ صحت کے میدان میں بھی اس ملک نے صدر یحی جامع کے دور حکومت میں حوصلہ افزا ترقیاں کی ہیں ۔ 2012ء کے اعداد وشمار کے مطابق یہاں پیدائش کے وقت متوقع عمر 58.6 سال ہے۔ مجموعی طور پر صحت کے میدان میں اس ملک کی حالت میں بہتری ہی آتی جا رہی ہے ۔ (2011)اس ملک کے 89.3% آبادی کو صاف پینے کاپانی دستیاب ہے ۔ 2004ء میں گیمبیا کو پولیو آزاد ملک قرار دیا گیا تھا ۔ اس ملک میں پاور اپ گیمبیاکے نا م سے ایک غیرمنافع بخش جماعت صحت اور ماحولیات پر کا م کر تی ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔
گیمبیا کی مختلف نسلیں اور زبانیں 
گیمبیا میں مختلف نسلیں پائی جاتی ہیں۔ ان میں سب سے معروف نسل مانڈانیک ہے ۔ اسی طرح فولا،اولوف، جولا،سیراہول،سیریرس،کرونینکا،من جاگو،اور بیانونکا وغیرہ کے نام کی مختلف نسلیں بھی پائی جاتی ہیں۔ جس کی ایک علیحدہ تہذیب ہے ۔ لیکن اسلام نے ان مختلف النوع تہذیبوں کے حامل لوگوں کو ایک اور بے مثال اسلامی تہذیب سے جوڑنے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے ۔
یہاں دوسرے ملکوں کی طرح کئی زبانیں بولی اورسمجھی جاتی ہیں ۔ مقامی زبانوں کی تعداد21 ہے ۔ انگریزی زبان کو سرکا ری زبان کا درجہ حاصل ہے ۔ جبکہ اس کے علاوہ مانڈینکا ، اولوف ، فولا، سیریر ، کریو اور دیگر دیسی زبانیں بھی کثر ت سے بولی اور سمجھی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ فرانس کی تہذیب کابھی کچھ اثر اس علاقہ میں پایا جاتا ہے ، فرانسیی زبان اس ملک کے لئے ایک مانوس زبان ہے ۔
گیمبیا کی اسلامی تاریخ
یوں تو جزیرۂ افریقہ میں اسلام کی گونج اسلام کے ابتدائی دور ہی میں سنائی دے دی تھی جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کی ایک جماعت کو اس وقت اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کشیدہ حالات کو دیکھتے ہوئے بحکم خداوندی حبشہ کی طرف ہجرت کر جانے کا حکم دے دیاتھا۔ وہاں عیسائی حکومت تھی ۔ اس کا بادشاہ نجاشی تھا ۔اس کے عدل و انصاف کی خبریں دور دور تک پھیلی ہوئی تھیں۔ جو کسی حدتک اسلام کے تئیں اپنے دل میں نرم گوشہ رکھتے تھے۔اس کی ایک طویل داستان ہے جو سیرت کی کتابوں میں تفصیل سے مذکور ہے۔ یہ بارہ مرد اور چار عورتوں پر مشتمل ایک چھوٹا سا قافلہ تھا۔ مسلمانوں کی یہ جماعت بعثت کے پانچویں سال ماہ رجب کی رات کی تاریکی میں دو تجارتی کشتیوں پر سوار ہو کر بحر قلزم (موجودہ بحر احمرRED SEA)کے راستے حبشہ پہونچے ۔ اس طر ح اسلام شمالی افریقہ میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی حیات طیبہ ہی میں پہونچ چکا تھا۔ لیکن سینی گیمبیا کے علاقے میں اسلام کی تبلیغ شمالی افریقہ کے تاجر قبیلہ بربر کے ذریعہ ہوئی ۔ 

کہاجاتا ہے کہ بربر اس علاقہ میں 1000قبل مسیح سے ہی تجارت کر تے آرہے تھے ۔ اسلام کی آمد کے بعد ان لوگوں نے اسلام قبول کر لیا اور اسلام کی حقانیت کو ان تمام علاقوں تک پہونچایا جہاں سے ان کے تجارتی و سفارتی تعلقات تھے ۔ گیارہویں صدی میں فوتا تورو نے اسلام قبول کر لیا۔ فوتا تورو در اصل سینی گال ندی کے کنارے ایک علاقہ ہے جس پر فولا زبان بولنے والے لوگوں کی حکومت قائم تھی ۔ یہ فولانی لوگ یا تو سامی یا قوقازی نسل سے تھے جو سہارانامی صحرا کا علاقہ پار کرکے مغربی افریقہ میں داخل ہوئے تھے یا پھر سینی گال اور گیمبیا ندی کے نچلے علاقے کے رہنے والے تھے جن کی شادیاں سہارا کے علاقہ میں رہنے والے بربرقوم کے علاوہ سیریر اور اولوف قبیلہ سے ہواکرتی تھیں۔ اسی دور میں مراقش میں بربر قوم کی ایک سلطنت قائم تھی جس کو مرابطین کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ اس سلطنت نے بھی اسلام قبول کر لیا۔ اسی طرح جنوبی موریتانیا کے بربر قوم بھی حلقہ بگوش اسلام ہو گئی ۔ اس سے اس پورے خطہ میں اسلام کی گرفت مضبوط ہو گئی ۔ حکمراں طبقہ کی قبولیت اسلام کے بعد اس کی اکثریتی رعایا نے بھی اسلام کو اپنا دین، اللہ کو اپنا معبود اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنا رسول مان لیا۔ اسلام کی آمد سے پہلے اس علاقہ کا کو ئی خاص مذہب نہ تھا ، زیادہ تر لوگ روایتی مذہب کے ماننے والے تھے ۔ اس لئے لوگ جانوروں ، پیڑ پودوں اور تالابوں کے علاوہ بتوں کی پرستش کیا کر تے تھے ۔ ان کا ماننا تھا کہ یہ اشیاء مافوق الفطرت طاقتوں کے مالک ہیں۔ کچھ لوگ عیسائی مذہب کے ماننے والے بھی تھے۔ان تمام مذاہب و ادیان پر اسلام نے غلبہ حاصل کر لیا۔آج کثیر تعداد میں مسلمان اس علاقہ میں موجود ہیں ۔ ان لوگوں نے اپنی اولاد کو دینی تعلیم سے آراستہ کر نے کے لئے بڑے بڑے دینی مدارس قائم کئے ہیں ۔ان مدارس میں طلباء کے رہنے اور تعلیم حاصل کرنے کا منظم انتظام ہے۔ ان مدارس میں دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری و سائنسی علوم بھی داخل نصا ب ہیں ۔ 
2015میں گیمبیا 
گیارہ دسمبر کو گیمبیا کے صدر یحی جامع نے ایک عوامی ریلی کے اختتام کے وقت اس بات کا اعلان کیا کہ آج سے گیمبیا ایک اسلامی ریاست ہے ۔ واضح رہے کہ گیمبیا اپنی آزادی کے بعد سے اب تک ایک سیکولر ملک رہا ہے ۔ اس ملک کی اکثریت مسلمانوں کی ہے ۔ اس کے علاوہ عیسائی و دیگر مذاہب کے لوگ بھی یہاں بستے ہیں ۔ یہاں اقلیتوں کو مذہبی ، سماجی اور سیاسی آزادی کے ساتھ ساتھ تمام طرح کی سہولیات اور تحفظات حاصل ہیں ۔ اس اعلان کے بعد عالمی میڈ یا میں سخت بحث و مباحثہ کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے ۔ خاص طور پر مغربی میڈیا میں جامع یحی کو زبردست تنقیدوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ صدر یحی جامع کو ایک ناکام صدر اور اس کی حکو مت کو ایک ناکام حکومت قرار دیا جا رہا ہے اور صدر کے اس اعلان کے پس پردہ کئی خدشات کا اظہاربھی کیا جا رہا ہے ۔ کچھ لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ 2013ء میں گیمبیا نے دولت مشترکہ (Commonwealth)ممالک سے اپنے آپ کو الگ کر لیا تھا ۔ اس ادارے سے علیحدگی کے بعد سے اس کے تعلقات برطانیہ کے ساتھ خراب ہوگئے ہیں جس کا اثر اس ملک کی معیشت پر پڑا ہے ۔فی الحقیقت دولت مشترکہ 53 ملکوں پر مشتمل ایک بین الحکومتی ادارہ ہے جس کا تصور 1926میں بیلفور ڈیکلیریشن میں دیا گیا تھااور 1949ء میں لندن ڈیکلیریشن کے ذریعہ اس کو قانونی طور پر عملی شکل دی گئی۔ اس ادارہ کا صدر برطانیہ کی رانی الیزابیتھ دوئم ہے ۔ ان میں وہی ممالک شامل ہیں جو کسی دور میں برطانوی حکومت کے تابع رہ چکے ہیں ۔ صدر یحی جامع پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے اپنے اس حالیہ بیان سے عرب ممالک کی توجہ اپنی طر ف کھینچنے کی کوشش کی ہے ۔ تاکہ ان ممالک سے انہیں کچھ ما لی تعاون مل سکے ۔ جبکہ صدر کا کہنا ہے کہ گیمبیاکی 90 فی صدسے زیادہ آبادی مسلمانوں کی ہے ، ا س لیے میں نے اس کی مذہبی شناخت اور اقدار کو سامنے رکھتے ہوئے اس کے اسلامی ریاست ہونے کا اعلان کیا ہے ۔ اب مزید گیمبیا نوآبادی وراثت کو جاری رکھنے کی سکت نہیں رکھتا ہے ۔اس کے ساتھ انہوں نے اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ ہم ایک اسلامی ریاست ہوں گے جواپنے شہریوں ا ور غیر شہریوں سب کے حقوق کا احترام کریں گے اورکسی کو کوئی خاص لباس اختیار کر نے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔
گیمبیا ایک غیر معروف مسلم ملک ہے ۔ عالمی سیاست میں اس ملک کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے ۔ صدر جامع یحی کے اس ملک کو اسلامی ریاست قرار دینے سے پہلے تک دنیا کی اکثریت اس ملک سے نا واقف تھی تاہم اس اعلان کے بعد لوگوں کو اس کے بارے میں جاننے کی خواہش ہونے لگی ہے ۔ اس سے یہ بھی نتیجہ اخذ کیا جا رہا ہے کہ آئے دن اسلام کے تئیں لوگوں کی دلچسپیاں بڑھتی جارہی ہیں ۔ اور مسلمان اسلامی نظام کی طرف واپسی کے خواہاں ہیں۔حقیقت جو بھی ہو لیکن اب جبکہ یہ ملک ایک آزاد اسلامی جمہوریہ ہے، جو حقوق انسانی کے تحفظ کے لئے پابند عہد ہے ، تمام مسلم ممالک کا اخلاقی اور ایمانی فریضہ ہے کہ اس ملک کی طرف ضرور توجہ دیں اور ترقی کے میدان میں اس ملک کی ہر ممکنہ مدد کریں۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES