dushwari

اس اخبار کا نام انقلابِ لکھنؤ ہے

حفیظ نعمانی

ہر لکھنے والے سے پڑھنے والوں کا کسی نہ کسی حد تک تعلق ہوتا ہے۔ ہزاروں لوگ پڑھتے ہیں اور رکھ دیتے ہیں۔ بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو رابطہ کرکے اپنے تاثرات اچھے یا برے ظاہر کردیتے ہیں۔ ہمیں اپنے معاملہ میں کوئی خوش فہمی نہیں ہے کہ ہم بھی ہیں پانچویں سواروں میں۔ لیکن اللہ گواہ ہے کہ نہ جانے کتنے ٹیلیفون آتے ہیں جو دعائیں دیتے ہیں اور ایسا ہی اور لکھنے کی فرمائش کرتے ہیں۔ کسی کسی دن تو ایسا ہوتا ہے کہ لکھنا مشکل ہوجاتا ہے اور کہنا پڑتا ہے کہ ٹیلیفون 2:00 بجے کے بعد کرلیا کیجئے۔

کئی دن پہلے امروہہ میں ہونے والی مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مجلس عاملہ کی ایک خبر پر لکھا تھا کہ پریس کانفرنس میں۔ بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی اللہ رحمانی نے کسی سوال کے جواب میں فرمایا کہ ملک میں عدم رواداری کا تو ماحول نہیں ہے۔ البتہ حالات اچھے بھی نہیں ہیں۔ ہم نے اس بات پر وہ سب لکھ دیا تھا جو ایک ایسے لکھنے والے کا فرض تھا کہ یہ تو انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی صاحب کو بچانے والی جیسی بات کہہ دی۔
اس مضمون کے چھپتے ہی کہرام مچ گیا۔ ہم نے وہ اخبار سامنے رکھ دیا جس میں صاف صاف وہ سب لکھا تھا جس کے جواب میں بتایا گیا کہ پوری پریس کانفرنس میں رواداری اور عدم رواداری کا نہ کسی نے سوال کیا نہ جواب دیا گیا۔ ہم نے معذرت کے انداز میں اس کی صفائی دے دی لیکن اخباری برادری بھی دوسری برادریوں کی طرح ہے۔ یہ اچھا نہیں لگا کہ اخبار کا نام بھی لکھ دیں۔
اس کے بعد سے ایک سوال یہ کہ وہ کون سا اخبار ہے؟ اور دوسرا یہ کہ اگر مولانا نے نہیں کہا تو اس نے کیسے لکھ دیا؟ اور یہ کہ بڑا اخبار ایک نہیں کئی ہیں اور آپ کی مراد بڑے اخبار سے کیا ہے؟ اور کیا آپ بڑے اخبار سے ڈر گئے؟ ہمارے وضاحت والے بیان کے بعد ہمارے بھائی سجاد میاں اپنے مستقر چلے گئے۔ اور مولانا رحمانی مونگیر، لیکن پرسنل لاء بورڈ سے تعلق رکھنے والے سنجیدہ مسلمانوں میں بے چینی ایک قدرتی بات ہے۔ بات کوئی راز کی نہیں ہے۔ وہ اخبار انقلاب ہے اور ہم نے اسے اس لئے بڑا لکھ دیا تھا کہ وہ دیکھنے میں تو واقعی بڑا ہے لیکن اس نے جو حرکت کی ہے اس کے بعد اسے ہمیں بڑا نہیں لکھنا چاہئے تھا۔
انقلاب نام کا اخبار کبھی ممبئی سے نکلا کرتا تھا اور اس کے مالک مسلمان تھے لیکن اللہ جانے کیا ہوا کہ اسے فروخت کرنے کی ضرورت پیش آگئی اور اسے ہندی کے زعفرانی مزاج کے اخبار دَینک جاگرن کے مالکوں نے خرید لیا اور انہوں نے دوگنی تین گنی تنخواہوں کا اعلان کرکے صحافیوں کی ایک ٹیم خریدلی جو شاید سب ہی مسلمان ہیں۔ اب دونوں اخبار ایک ہی گروپہ کی ملکیت ہیں اور جاگرن کو جو ہر دن لاکھوں روپئے کے اشتہار کمرشیل ملتے ہیں وہی کم پیسوں میں اپنے اردو اخبار کے لئے لے لیتے ہوں یا جو بھی کرتے ہوں اسے پورے پورے صفحہ کے اشتہار ملتے ہیں۔
جاگرن اس گروپ کا اخبار ہے جنہیں ہم اردو والے زعفرانی کہتے ہیں اور ان کا مشن ہے کہ وہ سیکولرازم سے ملک کو نجات دلادے۔ اس کے لئے ظاہر ہے کہ اگر مضامین لکھواتے تو ایسے بے ضمیر مسلمان بھی انہیں مل جاتے جو پیسوں کے لئے ایمان فروخت کردیتے لیکن انہوں نے اخبار کو مسلمانوں کے لئے بنایا اور انتہائی خوبصورتی سے کسی وقت کوئی ایسا بظاہر بے ضرر شوشہ چھوڑ دیا کہ پڑھنے والوں کو یقین ہوجائے۔ جیسے انہوں نے پریس کانفرنس میں مولانا رحمانی کے یہ جملہ منسوب کردیا کہ ملک میں عدم رواداری نہیں ہے اور انہوں نے ایک خوبصورت جملہ اور جوڑ دیا کہ ہاں مگر حالات اچھے بھی نہیں ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ رپورٹ ان الفاظ کے ساتھ امروہہ سے نہیں آئی ہوگی بلکہ یہ جملہ لکھنؤ میں شامل کیا ہوگا۔ اور مقصد ظاہر ہے کہ جو لوگ عدم رواداری کی بات کررہے ہیں ان کا اشارہ مسلمانوں کی طرف ہے لیکن جب مسلمانوں کے سب سے محترم بورڈ اور مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم مسلم پرسنل لاء بورڈ کا جنرل سکریٹری کہہ رہا ہے کہ عدم رواداری نہیں ہے تو سب کو چاہئے کہ وہ آئیں اور اپنے ایوارڈ واپس لے لیں۔
اردو کے اخبار آج کے دَور میں روزی روٹی کا ذریعہ نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو ممبئی کا انقلاب اور کلکتہ کا آزاد ہند کیوں فروخت ہوتے؟ اور اب غیرمسلم کاروباریوں نے مسلمانوں کی اس آواز کو بھی اپنے کنٹرول میں کرلیا ہے۔ لکھنؤ میں سہارا، انقلاب، جدید عمل، قومی خبریں وغیرہ وغیرہ کے مالک مسلمان نہیں ہیں۔ ان میں جو جس سیاسی پارٹی کی ترجمانی کرتا ہے وہ اس کا خرچ اٹھاتی ہے۔ اس لئے کہ جب ٹکٹ دینے کا کروڑوں روپیہ لگتا ہے تو دو چار کروڑ اخبار پر خرچ کرنے میں کیا جاتا ہے؟ اور اس کا مقابلہ وہ اخبار نہیں کرسکتے جو نکالنے والے صرف مسلمانوں کے لئے نکال رہے ہیں اور اپنے بل بوتے پر اتار رہے ہیں۔
ہمارا کسی اخبار سے نہ کوئی لینا ہے نہ دینا اور اگر ہم نے کسی اخبار کو بڑا لکھ دیا تو اس کا مقصد نہ اس کی عظمت کو سلام کرنا ہے نہ اس سے ڈرنا۔ اس لئے کہ بڑا اخبار دیکھنے میں چاہے جو ہو اصل میں وہ ہے جس سے پڑھنے والے تعلق رکھیں۔ ہم نے تو وہ زمانہ بھی دیکھا ہے کہ لکھنؤ میں ایک جہازی سائز کا اخبار قومی آواز نکلتا تھا اور ایک سب سے چھوٹا سب سے خراب کاغذ پر سب سے کم معیاری کتابت اور طباعت والا ہفتہ میں ایک بار نکلنے والا صدق جدید نکلتا تھا اور قومی آواز کے ایڈیٹر حیات اللہ انصاری کو مولانا عبدالماجد دریابادی خون تھکوا دیتے تھے اور آج بھی مولانا دریابادی کا کوئی ذکر کرتا ہے تو اسے کہنا پڑتا ہے کہ وہ اپنی اسی لکڑی کی جیسی چھری سے سب کو حلال کردیتے تھے اور کوئی ان کے اس دیکھنے میں بے حیثیت ایک ہفتہ میں نکلنے والے اخبار کو نیچا نہ دکھا سکا۔
ہم نے لکھ دیا تھا کہ مولانا رحمانی نے کیا جواب دیا اور یہ تو ہر دن کہیں نہ کہیں سے خبر آجاتی ہے کہ ایک ٹرک پر گائے کے شبہ میں گولیاں برسائی گئیں جس میں ایک یا دو مرگئے باقی زخمی ہوگئے۔ اس سے بڑھ کر عدم رواداری اور عدم برداشت کیا ہوگا؟ فکر کی بات یہ ہے کہ یہ وبا گاؤں تک پہونچ گئی ہے۔ ہر شہر سے پہلے جنگی ہوتی ہے اور وہیں ڈھابے ہوتے ہیں جہاں ٹرک والے کھاتے اور سستاتے ہیں۔ وہیں یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ کس نمبر کے ٹرک میں مسلمان ہیں۔ یہ خبر موبائل سے آگے روانہ کردی جاتی ہے اور کسی خاص جگہ گولی باری ہوجاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ٹرک میں گائے کی دُم بھی نہیں تھی تو ان غنڈوں کو تھانے میں لاکر اتنا کیوں نہیں مارا جاتا جتنا ذرا ذراسی بات پر مسلمان لڑکوں کو مارا جاتا ہے۔
انقلاب جاگرن گروپ کا اخبار ہے۔ اس کی حیثیت سہارا جیسے اخبار کی طرح صرف کاروبار نہیں ہے بلکہ وہ اس مشن کا ترجمان ہے جس کی اس وقت جنگ چھڑی ہوئی ہے اور پورا ملک سیکولر اور غیرسیکولر کے خانوں میں بٹ گیا ہے۔ انقلاب میں تو مہینوں ہمارے والد کی کتاب معارف الحدیث چھپتی رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مسلمانوں کو حدیث پڑھا رہا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے جاگرن میں اب رمضان میں افطار و سحر کا وقت اس لئے چھپتا ہے کہ جاگرن مسلمانوں کے گھروں میں بھی جاتا ہے۔ لیکن اس بات کے لئے کسی کو بھی معاف نہیں کیا جاسکتا کہ نہ سوال ہو نہ جواب اور اتنی اہم شخصیت کو 17 کروڑ مسلمانوں میں مشتبہ کردیا جائے۔ یہ بدترین صحافت کہلاتی ہے جو ایک بہت پرانے اخبار جاگرن کے ادارے سے نکلنے والے اخبار میں نظر آئی۔ قاعدہ میں تو انہیں اس کی معذرت کرنا چاہئے۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES