dushwari

مولانااسرارالحق قاسمی

اسلام نے ویسے تو ہمیشہ ہی اپنے بھائیوں،پڑوسیوں اور جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں وہاں کے لوگوں کے ساتھ بلاتفریق مذہب و ملت احسان اور اچھے برتاؤ،خیرخواہی و ہمدردی کا حکم دیاہے مگر بعض خاص موقعوں اور ناگہانی حالات میں ہماری یہ ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔قدرت کی جانب سے بعض دفعہ ہماری آزمائش کے لئے اور کبھی کبھی ہماری بداعمالیوں کی وجہ سے بھی مصیبت و آفت کا سامنا کرنا پڑتاہے ،

نایاب حسن

اس وقت پورا ملک کئی ایک ایسے بحرانوں میں گھراہواہے،جن کی زدمیں کروڑوں لوگ ہیں،اسی دوران ہم نے آزادی کا جشن بھی منالیا،مگر کیایہ جشن ہماری حقیقی خوشی کا اظہارتھایامحض ایک رسم کی ادائیگی یا پھر اجتماعی بے حسی ومردہ ضمیری کا نمونہ،اس پر ہمیں غوروفکر کرنا چاہیے؛کیوں کہ یومِ آزادی سے ٹھیک چند دن پہلے یوپی کے ایک ہسپتال میں پچاس سے زائد معصوم بچے سرکاری سفاکی کی بھینٹ چڑھ گئے اوراس کے ساتھ ہی فوراً ملک کے ایک بڑے حصے میں قدرتی آفت نے کروڑوں لوگوں کواپنی لپیٹ میں لے لیا اور سیلاب و بارش کی قہرناکی سے زندگیاں تباہ وبربادہورہی ہیں،

نورالسلام ندوی

اس وقت شمالی بہار سیلاب سے بری طرح متاثر ہے ،ریاست کے 14اضلاع سیلاب کی زد میں ہیں ، چاروں طرف صرف پانی ہی پانی ہے،تقریبا ایک لاکھ کی آبادی پانی سے بری طرح گھری ہوئی ہے،ریاست میں اب تک 230 لوگ موت کے شکار ہو چکے ہیں،مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ کا امکان ہے ۔وہیں سرکار کا دعوی ہے کہ سیلاب کی وجہ سے صرف 119 لوگوں کی موت ہوئی ہے ۔سمانچل اور کوسی کے علاقوں میں 131لوگوں کے مرنے کی اطلاع ہے،شمالی بہار کے اضلاع میں 20 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں،جبکہ مظفرپور اور اس متصل اضلاع میں مرنے والوں کی تعداد4 9پہنچ گئی ہے۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES