dushwari

صحافت وہ جو سرخیوں کو حق اور حقیقت کے پیمانے پر رکھیں

فکروخبر کی دعائیہ تقریب میں ایڈیٹر انچیف کا پیغام 

الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسام علی سید المرسلین، وعلی آلہ وصحبہ اجمعین ، اما بعد ۔
تمام تعریفیں اس ذاتِ اقدس كے لئے ہیں جس كے فضل وتوفیق سے نیك كام پورے ہوتے ہیں، اور درود وسلام ہو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر، آپ كے آل واصحاب پر، اور قیامت تك آپ كے نقشِ قدم پر چلنے والوں پر ۔....آج مجھے جس قدر فكر وخبر ڈاٹ كام كے نئےدفتر كے افتتاحی اجلاس كے انعقاد پر خوشی ہورہی ہے، اس سے كہیں زیادہ آپ معزز ومكرم مہمانوں كی حاضری پر ہو رہی ہے،

اور اپنی عدم حاضری اور آپ كے سامنے نہ ہونے پر شدید احساس بھی، تو خوشی واحساس كے اس سنگم میں مناسب سمجھا كہ چندكلمات استقبالیہ كے طور پر تحریراً آپ كے گوش گزاركروں،اور شكریہ و جذبات كے احساسات صفحہ قرطاس پر رقم كروں۔

ہمارا سفر جو تقریبا ایك سال پہلے شروع ہوا تھا، محض فضلِ خداوندی، توفیقِ الہی ، اساتذہ وسرپرستان كی رہنمائی اور مخلص معاونین كے سہارےآگے بڑھتا رہا، اور شروع دن سے جنہوں نے بھی ہمارا ساتھ دینے كا ارادہ كیا، یاجو بھی ہمارے كارواں میں شامل ہوا،اس میں سے كسی نے بھی ہمیں تنہا نہیں چھوڑا، دعا ہے كہ اللہ رب العزت ہمیں مل جل كر محبت وتعاون كے جذبہ كے ساتھ اس سفر كو جاری ركھنے كی توفیق بخشے ،اور صفوں میں انتشار سے حفاظت فرمائے، ہم سمجھتے ہیں كہ یہی فكر وخبر كی مقبولیت كا راز ہے، اور قبول عند اللہ كا سبب كی طرف اشارہ بھی، اس لئے كہ ید اللہ علی الجماعۃ۔ بات یہ ہے كہ صحافت سے ہمارا رشتہ نیا نہیں ہے، مگر اس قدر پختہ بھی نہیں تھا جو اب ہے، صحافت كا یہ میدان اور اس كے یہ نا ہموار راستے، راستوں كے یہ پیچ وخم اور راہ رو كی ضعف و ناتوانی، فكر ونظریہ كے یہ چوراہے اور صراطِ مستقیم كی یہ شاہراہ، اخبار اور ذرائعِ ابلاغ كی بلند پروازی اور ہماری اس میڈیا میں شمولیت كا آغاز، یقینا آسان نہیں تھا یعنی 
كچھ سمجھ كر ہی ہوا ہوں موجِ دریا كا حریف *** ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے
لیكن ہم جیسے تشنگانِ علم كی پیاس عافیتِ ساحل میں بھی نہیں ہے، ہم اپنے عزائم اور جواں حوصلہ كے ساتھ سمندر كی گہرہیوں میں اتر چكے ہیں، موجوں كی تلاطم خیزیاںہم میں ڈوب جانے كا خوف وہراس پیدا نہیں كر سكتی، ہم غواصی علو وادب ہیں، ہمیں لعل وصدف سے مطلب ہے، ساحل پر بیٹھ كر تماشائی نہیں بن سكتے، اور نہ ہی خذف ریزوں پر ملمع سازی كرنا جانتے ہیں، ہمیں صحافت چاہیے اور ان تمام تر سچاہیوں كے ساتھ چاہیئے، ہمیں صحافت اپنے تمام تر آزادیوں كے ساتھ چاہیے، صحافت وہ جو عوام كو عوام سے ملائے، بلكہ عوام كو حكام سے قریب كرے، آزادیاں وہ جو كسی بے زباں كی بے زبانی كو زباں دے سكے، آزادیاں وہ جو كسی مظلوم و بے كس كی آہ وفغاں كو فریاد اور داد رسی كر سكے، ہم اس صحافت كو صحافت گردانیں گے، جو خبروں اور سرخیوں كو حق اور حقیقت كے پیمانوں پر ركھیں گے، اور اسی صحافت كو ہم اپنی صحافت كہیں گے جو ہمیں اپنی تہذیب وثقافت كے آداب سكھاتی ہے، اور اس \" سچ\" كے لكھنے كا شعور دیتی ہے جو سماج ومعاشرہ میں اصلاح كا سبب بنے، ہم نے اسی خبر كی تخیل آفرینی اور ان خبروں كی حقیقت بیانی كو ملخص اور مختصر كر كے \" فكر وخبر\" كا مركب بنایا ہے، اور اس كے ساتھ \" حق اور حقیقت كا آئینہ دار \" جملے كا لاحقہ لگا كر ہم نے اپنی صحافتی كاوشوں كو اجاگر كرنے كی كوشش كی ہے۔
اور آخر میں اس مختصر پیغام كے ساتھ یہ حقیقت بھی واضح كرنا مناسب سمجھتے ہیں كہ ہم اور ہمارے ساتھیوں میں اس صحافت كے بنیادی اجزاء \" ارمغانِ جامعہ \" سے مربوط ہیں، جامعہ اسلامیہ كے طلباء كی انجمن \" اللجنۃ العربیۃ \" سے نكلنے والا اردو میں\" ارمغان جامعہ\" اور عربی میں\" الزہرۃ \"نے ہمارے شوق كی آبیاری كی ہے، جامعہ كی تعلیمی زندگی پر نظر ڈالیں تو یہ چیز ایك \" لاشئی \" نظر آتی ہے، مگر آج سوچنے پر لگتا ہے كہ اسی \" لاشئی\" كے نكتہ صفر تے غیر شعوری طور پر ہمارے شعور وآگہی میں صحافتی انقلاب كے جذبوں كو مہمیز كیا ہے، آج اس مقام پر ہم طلبۂ جامعہ كو یہی پیغام دیں گے كہ اللجنہ، ارمغان اور الزہرہ كے اس صحافتی ودعوتی میدان میں شہسواری كی مشق كریں، جو انشاء اللہ دنیا كے ذرائع ابلاغ میں ایك نقشِ انقلاب ثبت كرے گا، ساتھ ہی وہ جو ہمارے انجمن اور دیگر قومی وملی اسكولوں میں زیرِ تعلیم ہیں ، ان سے بھی ہماری یہی خواہش وتمنا ہے كہ اپنے تعلیمی دور میں اسكولوں كی انجمنوں اور سرگرمیوں میں حصہ لے كر اپنے روشن مستقبل كو تعمیر كریں،پھر آپ دیكھیں گے كہ زمانہ یہ كہنے پر مجبور ہوگا كہ مرد وہ ہیں جو زمانے كو بدل دیتے ہیں۔
آخر میں ایك بار پھر آپ كا استقبال كرتے ہوئے آپ كے مصروف اوقات میں سے كچھ وقت فارغ كركے یہاں كی حاضری پر دل كی گہرائیوں سے شكر گذار ہیں، چونكہ شكر جہاں ایك اسلامى حكم ہے ، نبوی طریقہ ہے وہیں ايك نفيس اور خوبصورت احساس بھى ہے اور شكر ايك ايسا حسين جذبہ بھى ہے جو كرنے والے اور جس كا ادا كيا جائے اسے بھى لوگوں كى نظروں ميں حسين بنا ديتا ہے، شكريہ شكر يہ كہہ كر، جزاك اللہ خيرا كہہ كر، دعا دے كر،دو جملے لكھ كر ، قلم كاتعاون كر كے، مالى مدد دے كر، دو ميٹھے بول بول كر، اور ہنستے مسكراتے ہونٹوں كى جنبش سے بھى ادا ہوتا ہے، لہذا صحافت و دعوت كےاس سفر میں جس نے ہمارا جو بھی اور جس طرح سے بھی تعاون كیا ہو، اللہ دارین میں انھین جزائے خیر عطا فرمائے۔ فجزاكم اللہ خيرا ؛ والسلام علیكم ورحمۃ اللہ وبركاتہ

استقبالیہ كلمات ( بمناسبت ۔ افتتاحی تقریب فكر وخبر دفتر ۔ بتاریخ ۔ ۱۰ محرم الحرام ۱۴۳۵ہجری، مطابق ۔ ۱۴ نومبر ۲۰۱۳ عیسوی 

سید ہاشم نظام الدین ندوی

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES