dushwari

کدھر کو چلے ہم ....................؟

(جالی روڈ میں پیش آئے خودکشی واردات کے پسِ منظر میں)
اداریہ : انصارعزیزندویؔ 

۱)حضرت سلیمان علیہ السلام کا دربار سجا ہے، اُ س دربار میں چرند پرند،ہر قسم کے جانور، جنات سب موجود ہیں، ایک ایک کی حاضری لی جارہی ہے ، مگر ہد ہد پرندہ غائب ہے ۔ ایک سے دو بار نام لیا جاتا ہے مگر ہدہد کا کہیں پتہ نہیں، جہاں پناہ کی آواز ایوانوں میں گونج اُٹھتی ہے کہ ’’ہد ہد کو غیر حاضری کی سزا دی جائے گی یا یہ کہ وہ کوئی قابلِ قبول عذرلے آئے‘‘

کچھ وقفہ کے بعد ہد ہد پرندہ حاضر ہوتا ہے ، معصوم سا چہرہ لئے جس میں ڈر اور خوف کی آمیزش تھی، اور پھر خود کو دربارِ سلیمان میں ایسا ڈھیر کردیتا ہے جیسے کہ وہ خوف سے کپکپارہا ہو، سامنے کے پیر سامنے کئے پیر پھیلا کر،جیسے رحم کی بھیگ مانگ رہا ہو، (اس کی آسان تعبیر،’’ گرتے پڑتے ‘‘)۔جہاں پنا ہ کے رعب دار لہجے سے سارا دربار گونج اُٹھتا ہے ،اور ہد ہد سے غیرحاضری کی وجہ پوچھی جاتی ہے ، تو وہ یکلخت کہہ اُٹھتا ہے جہاں پناہ!!! آپ کی بادشاہت تو تاحد نگاہ ہے ، مگر آپ ہی کے حدود میں ایک ایسی ملکہ بھی ہے جو اللہ رب العزت پر ایمان نہیں رکھتی..................
۲) وہ کوڑھی مرض والا شخص ، جیسے لامساس(متعدی) کی بیماری چھوگئی ہو،قوم اس سے گھن محسوس کرتی ہے اور اسے اُٹھا کر شہر کے ایک کونے میں پھینک دیتی ہے تاکہ اس کے بیماری سے شہر کے عوام محفوظ ہوں،وہ قوم توحید سے دور شرک میں مبتلا تھی ، اللہ اپنے عادت کے مطابق یہاں دو رسولوں کو بھیجتا ہے ۔ وہ نبی در در ، گھر گھر، گلی گلی ، کوچہ کوچہ، شہر کے ہر نکڑ پر وحدہ لاشریک کی صدائیں لگاتا ہے ، مگر کوئی نہیں ماننے والا، کوئی نہیں سننے والا، نبی کو پتہ چلتا ہے کہ ایک شخص شہر کے کنارے ایک متعدی مرض میں مبتلا پڑا ہوا ہے ، وہ اس کے پاس پہنچتے ہیں، دین کی دعوت دیتے ہیں، وہ شخص ایمان کی قبولیت کے لیے شرط رکھتا ہے کہ اس کی بیماری ٹھیک ہوجائے۔ نبی اللہ کے روبرو اپنے دامن پھیلادیتے ہیں،دعاقبول ،وہ شخص بھی صحت مند، ایمان بھی قبول کرلیتا ہے۔ایام گذر جاتے ہیں، نبی اپنا فرض ادا کرکے رخصت ہوجاتے ہیں ، مگر پورا شہر ابھی بھی باطل کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں غرق۔ اسی قوم میں ایک اور نبی آتا ہے وہ بھی وہی صدا لگاتا ہے جو پہلے کے انبیاء نے لگائی۔ مگر نالائق قوم بات نہیں مانی، یہ خبر اس شخص کو مل جاتی ہے وہ دوڑتا ہوا آتاہے،نبی کے ساتھ مل کر تبلیغ میں جٹ جاتا ہے، اللہ کی وحدانیت کی طرف دعوت دیتا ہے ، قوم کے سامنے اپنا دامن پھیلا دیتا ہے کہ اس کی بات مان لو کامیاب ہوجاؤ گے،مگر قوم اس کے بدلے اس کو قتل کردیتی ہے ، راہ حق میں شہادت حاصل کرنے والے اس شخص کو اللہ تعالیٰ جنت میں ملنے والے انعامات سے پردہ کھول دیتاہے تو اس وقت اس کے زبان سے یہ جملہ نکلتا ہے کہ کاش میری قوم مجھے سمجھ پاتی.............
قرآن کے ان دونوں واقعات میں مجھے ایک ہی چیز کی طرف نشاندہی کرنا ہے، ہدہد پرندے کی کیا حیثیت کے اس کا تذکرہ قرآن میں ہو، اور پھروہ کوڑھی والا شخص جس سے قوم گھن محسوس کرتی تھی، ان دونوں نے ایسا کیا عمل کیا کہ تاقیامت ان کے واقعہ کا تذکرہ اللہ نے قرآن میں زندہ رکھا اور ہمارے لئے ثواب کا باعث ، دراصل ہد ہد پرندے نے ایک ملکہ کی خیر خواہی چاہی، اور پھر کوڑھی مرض والے نے اپنے قوم کی خیرخواہی، اللہ کو ان دونوں کا عمل اتنا پسند آیا کہ ان کی ہر ادا کا تذکرہ قرآن میں کردیا۔ہدہد کا ہر انداز اور پھر کوڑھی مرض والے شخص کادیوانہ پن ۔ 
 اللہ رب العزت کو اس روئے زمین پر اگر سب سے محبوب ترین کوئی عمل ہے تو وہ ہے دوسروں کی بھلائی چاہنا، گرتوں کو تھامنا، اور جو غلط ڈگر اختیار کرکے راہ جہنم اختیار کئے ہوئے ہیں ان کو جنت کی دعوت دینا۔ 
شہر بھٹکل کے جالی روڈ میں پیش آیا حالیہ حادثہ ہوکہ کچھ مہینے پہلے وطن سے دور رہ کر بیرون شہر میں خودکشی کا واقعہ، شوہر کی ظلم و زیادتی ہو یا پھر بیوی کا سوتیلے بچوں کے ساتھ سوتیلا رویہ۔ جہیز ہراسانی ہوکہ والدین کے ساتھ بدسلوکی۔ آج دولت مندشخص بھی پریشان ہے اور غریب بھی۔ ہماری عادت سی بن گئی ہے کہ ہم اپنے مسائل کا حل دولت میں ڈھونڈتے ہیں۔ دولت مند پریشان اس لئے ہے کہ وہ عقل سے ماوراء سوچنے لگا ہے، اور غریب پریشان اس لئے کہ اسلامی تعلیمات سے عاری ہے ۔ اور ہم پریشان اس لئے کہ دونوں چیزیں ہونے کے باوجود ہدہد اور کوڑھی مرض والے شخص کے تڑپ کو بھول گئے ہیں۔ ہد ہد کو ملکہ بلقیس سے کیا لینا دینا، اور کوڑھی والے شخص کو اپنے اس قوم سے کیا مطلب جس نے اسے شہر کے باہر پھینک دیا تھا......... اور اس کا دیوانہ پن دیکھئے کہ اس کی تڑپ جان قربان ہونے کے بعد بھی برقرار ہے اور جنت کے نعمتوں کو دیکھنے کے بعد قوم کے تئیں لالچی بن جاتا ہے کہ کاش اس کی قوم اس کو سمجھ پاتی ؟!’’اسی کو کہتے ہیں بے غرض و بے مطلب ہوکر کسی کا بھلا چاہنا۔‘‘
افسوس تو یہ ہے کہ معاشرہ میں پنپنے والی برائیوں کو ہم ، ملت ، طبقہ ، قوم اور مذہب میں بانٹنے لگے ہیں، ہم آپ ﷺ کی وہ تڑپ ہی بھول گئے کہ ایک یہودی کے جنازے کو دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتے ہیں، اور وجہ دریافت کرنے پر ایک ایسا جملہ ارشاد فرما جاتے ہیں کہ جس کو سن کر ایک سچا مسلمان اپنے زندگی کا مقصد ڈھونڈلے،’’ اس سے بڑی دکھ کی کیا بات ہوسکتی ہے کہ محمد (ﷺ) زندہ ہو اور ایک یہودی جہنم میں جارہا ہو۔
کل کا منظر اب بھی میرے نظروں کے سامنے ہے، وہاں موجود ہر شخص اسی بات کو تاکنے میں مصروف تھا کہ کیاہوا؟ کیوں ہوا؟کس نے کیا؟
قتل یا خودکشی کے اصل اسباب اور اس کے ذریعہ مستقبل میں نومسلم افراد پر مرتب ہونے والے منفی اثرا ت کے بارے میں کسی نے نہیں سوچا۔اسی طرح اس سے پہلے بھی دبئی میں پیش آنے والے ایکخودکشی کے واقعہ میں بھی لوگ اسباب دولت میں ہی ڈھونڈتے رہے کسی کا خیال اسلامی تعلیمات کی طرف نہیں گیا۔ 
دراصل معاشرہ میں ایک ہی نہیں بلکہ کئی برائیاں پنپ رہی ہیں، کچھ بے پردہ تو کچھ پسِ پردہ،غیر تعلیم یافتہ لوگوں تک یہ تعلیم کون پہنچائے گا؟؟اور تعلیم یافتہ لوگوں کو ان کا مقصدکون بتائے گا؟
خبر پر تبصرہ کرنے کے بجائے ہمیں تو یہ سوچنا ہے کہ یہ کوتاہی کس کی ہے ؟ میری؟ آپ کی ؟ یا پورے سماج کی؟؟

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES