dushwari

ماهِ رجب اورہم ۔۔۔

اداریہ:سيد ہاشم نظام ندوى

اسلامى سال كے تمام مہینے اپنے اندر مذہبی اہمیت كے ساتھ ساتھ تاریخی حقیقت بھی ركھتے ہیں، جو كل بارہ ہیں ، جن كی تعداد لوحِ محفوظ میں آسمان وزمین كی پیدائش كے ساتھ متعین كردی گئی ہے ، جن میں سے چار مہینے حرمت والےہیں ۔

قرآن كریم میں ان كی طرف اشارہ موجود ہے، اور نبی اكرم نبی ﷺ نےحجتہ الوداع کے موقع پر اپنے تاریخی خطاب میں ان كی حرمت وعظمت بھی ارشاد فرمائی جو چار مہینے ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم الحرام اور رجب المرجب كہلاتے ہیں ۔
ماہِ رواں ماہِ رجب ہے ،جس كا بیشتر حصہ گذر چكا ہے ، آنحضور اكرم صلی اللہ علیہ وسلم اس ماہ كا چاند طلوع ہوتے ہی رمضان مبارك تك پہنچنے كی تمناظاہر كرتے تھے، اور رب كے حضور دعا فرما تے كہ اے اللہ ہمیں رجب اور شعبان میں بركت نصیب فرما، اور رمضان المبارك تك پہنچادے۔دورِ جاہلیت میں بھی رجب کی عظمت وبركت کے سارے عرب قائل تھے، اور اس کی عظمت کے پیش نظر اس میں جنگ وجدال بھی منع تھا، مگر اسلام نے اس ماہ مبارک کی فضیلت بعض تاریخی واقعات کی بناء پر اور بڑھا دی۔ 
اس ماه متعدداسلامى تاريخ تاریخی واقعات پیش آنے کا ذکر ہے ان میں سے ایک ہجرت حبشہ اولیٰ ہے،اورسریہ عبداﷲ بن حجش الاسدی ہجرت مدینہ سےتقریبا سترہ ماہ بعدماهِ رجب میں پیش آیا،جس میں اسلامی تاریخ کا پہلا مال غنیمت تقسیم ہوا،پہلا خمس متعین كیا گیا،اور اسلام كا پہلا شہید اور پہلا قیدی بھی اسی سریہ كا حصہ ہے، اور 9 ہجری میں پیش آنے والا غزوہ تبوک بھی ماہ رجب ہی میں پیش آیا تھا جسے غزوہ ذات العسرہ کا نام دیا گیا۔،اور سلطان صلاح الدین ایوبی نے 583 ہجری میں رجب ہی کے مہینے میں فتح بیت المقدس کے بعد مسلمانوں کے ہمراہ مسجد اقصیٰ میں فاتحانہ داخل ہوکر عاجزانہ سجدہ شکر ادا کرنے کا شرف حاصل کیا۔
جن واقعات میں سے اہم ترین واقعہ اسراء اور معراج كا كہلاتا ہے، اگرچہ اس بات میں اختلاف ہے کہ یہ واقعہ کب اور کس ماہ میں پیش آیا، مختلف روایات كے حوالوں سے ربیع الاول، ربیع الثانی اور بعضوں كے نزدیك رمضان كا بھی قول موجود ہے ، البتہ اکابر علماء کی بڑی جماعت کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ ماہِ رجب ہی میں پیش آیا ، اور ستائیسویں ۲۷ شب كا واقعہ ہے، صحيح روايات میں اس كی مكمل تفصیلات موجو ہیں۔
یہ مہینہ بابركت ضرور ہے، اس میں تاریخ اسلامی كے بعض اہم واقعات رونما ہوئے ہیں، جن میں سے واقعہ اسراء ومعراج ہی كافی ہے، لیكن اس ماہ كے متعلق كوئی خاص عبادت احادیثِ صحیحہ میں منقول نہیں ہے، اور نہ ہی روزہ كو مسنون كیا گیا ہے،اور شبِ معراج كی عظیم ترین اسلامی تاریخ ہونے كے باوجود نہ ہی اس رات میں كوئی عبادت مخصوص كی گئی ہے، بعضوں كے نزدیك رجب کے مہینے میں عمرہ کو بہت افضل سمجھا جاتا ہے جبكہ شریعت میں اس كی كوئی اصل موجود نہیں ہے، کی سُنّت میں کوئی دلیل نہیں ملتی
مندرجہ ذیل حوالہ جات میں اپنے تئیں بھی دلائل ڈھونڈ سکتے ہیں جب کہ کچھ احادیث کا تذکرہ کرنا ہم نے اس موقع پر ضروری سمجھا ملاحظہ فرمائیں۔
وروى مالك والبخاري ومسلم عن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم ما كان يخص شهرا من السنة بصوم187 .
وروى ابن وضاح أن عمر بن الخطاب كان يضرب الرجبيين الذين يصومون رجبا كله.
الكتاب: الحوادث والبدع ج 1. صفحه: 139
الناشر: دار ابن الجوزي
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَليْهِ وسَلَّمَ نَهَى عَنْ صِيَامِ رَجَبٍ.
سنن ابن ماجه باب: كتاب الصيام ج 1 صفحه: 630
الناشر: مكتبة أبي المعاطي

بدھ - 5 - جون - 2013 = 26 - رجب - 1434

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES