dushwari

گذارش

یہ محض اللہ ہی کی توفیق ہے کہ فکروخبر کو صرف پانچ ہی مہینوں میں اللہ رب العزت نے غیر معمولی مقبولیت سے نوازا، نہ صرف ہندوستان بلکہ سرحد کے اُس پار سے بھی قلم کے دھنی حضرات اپنے تحریروں کے ذریعہ فکروخبر کو تقویت پہنچانے اور اپنے دو ست واحباب میں فکروخبرکی صدا بلند کرنے کی کوشش کررہے ہیں،اس کے لئے ہم آپ تمام احباب کے تہہ دل سے شکرگذار ہیں۔

دراصل آج میں ایک خصوصی اور اہم درخواست کے ساتھ آپ لوگوں کے سامنے حاضر ہوں، فکروخبر اپنے آغاز کے اول دن ہی سے اپنے اُصولوں کا پابندہے، قارئین اور ناظرین کو تازہ بہ تازہ خبروں سے واقف رکھنے کے ساتھ ساتھ سماجی ، سیاسی اور بالخصوص دینی و دعوتی مضامین قارئین کے سامنے رکھنااس کا اولین مقصد ہے۔ گذرتے ایام کے ساتھ ہند وبیرون ہند کے مشہور و معروف قلمکار، تبصرہ نگار، تنقید نگار، اور مضمون نگاروں کے مضامین کا ایک سلسلہ چل نکلا ہے ، اور فکروخبر میں مواد اتنا جمع ہوچکا ہے کہ ہم ہر دن تین تین مضامین شائع کررہے ہیں، اس بیچ کئی مضمون نگاروں کے یاددہانی پیغامات موبائل پر موصول ہوتے ہی رہتے ہیں، اور کبھی کبھی فون پر گفت و شنید بھی۔
ہمیں اس بات کا پوری طرح اندازہ ہے کہ ایک تحریر جب تخلیق ہوکر قلمکار کے سامنے آتی ہے تو اسے کتنی دشوار گذار گھاٹیوں سے گزرنا پڑتا ہے ، احساسات اور جذبات کو حالات کے دائرہ میں رہ کر اس کو یکجا کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ، ایسے حالات میں ہم ایسے قیمتی مضامین کوکسی ایک کونے میں شائع کرکے تخلیق اور تحریر کے ساتھ ناانصافی نہیں کرسکتے ، بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ تخلیق کا ر کی محنت رائیگاں نہ جائے ۔اس وجہ سے جن احباب کے مضامین شائع نہیں ہوئے یا دیر سے ہورہے ہیں ان سے مؤدبانہ درخواست ہے کہ دھیرج رکھیں ہم وقت پر اس کی اشاعت کریں گے ، مگر جلی حروفوں میں شائع کریں گے تاکہ آپ کے احساسات قاری کے ذہن پر حاوی ہوکر اس کے دل میں آپ کے الفاظ جگہ بنا سکیں بلکہ صدابہ صحراء ثابت ہونے کے بجائے قاری پر اثر انداز ہوسکے۔
فکروخبر کو دیکھ کر آپ کو اندازہ ہوہی رہا ہوگا کہ ہر دن خبروں کی بھرمار رہتی ہے ، بلکہ بسااوقات کئی ساری خبریں اشاعت سے صرف اس وجہ رہ جاتے ہیں کہ کہیں اہم ضروری خبریں اس کے نیچے دب نہ جائیں، فکروخبر کی اس تیزی اور اس کے اُصولوں کے پیشِ نظر ہم تمام قلمکار جو ہمارے ادارے کے جان ہیں ان سے مؤدبانہ درخواست ہے کہ اپنی تحریروں کی اشاعت کا انتظار کریں، کوئی بھی تحریر جو فکروخبر کے اُصولوں سے نہ ٹکراتی ہووہ ضرور شائع ہوگی، مگر مضامین کی ایک لمبی قطار کی وجہ سے ہوسکتاہے نمبر کچھ دیر سے آئے مگر شائع ضرور ہوگی اور ہم اُمید کرتے ہیں کہ آپ کا قلمی تعاون فکروخبر سے یوں ہی جڑا رہے گااور مزید اس کو تقویت پہنچانے کے لیے دعاؤں کے ساتھ ساتھ اپنے دوست واحباب کے حلقے میں اس کے پیغامات کو پہنچاتے رہیں گے..............آپ کا اپنا...........انصارعزیز ندویؔ

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES