dushwari

بھٹکل اسمبلی انتخابات میں بوگس ووٹنگ !!؟

کیا ہے حقیقت کیا ہے فسانہ ۔۔۔’’!!!‘‘

افواہوں پر "انصارعزیز ندوی "کا خصوصی تجزیہ

آج کل شہر بھٹکل کے ہر عام و خاص کا ایک ہی موضوعِ سخن ہے وہ یہ کہ بھٹکل اسمبلی انتخابات کے حالیہ انتخابات میں Bogus Voting کی گئی ہے ۔ یعنی کے ہیرا پھیری کی گئی ہے ، لوگوں کاماننا ہے کہ 5مئی کویعنی جس دن حق رائے دہی کی جارہی تھی اس رات اس بات کی اطلاع دی گئی تھی کہ بھٹکل اسمبلی حلقے سے 62فیصد ووٹنگ ہوئی تھی جبکہ نتائج کے بعد تمام بوتھوں کی ووٹنگ اور پھر مختلف اُمیدواروں کو ملے ووٹ کے حساب سے جملہ فیصد82%بتائی جارہی ہے ،

اس صورت میں بقیہ فیصدی ووٹ یعنی کے 20فیصد ووٹ کہاں سے آئے ؟ عوام ایک بار پھر شک و شبہ میں مبتلا ہوتے ہوئے یہ دلائل پیش کررہے ہیں کہ 5مئی کی رات جب ووٹنگ ختم ہوگئی تو پورے شہر میں لگ بھگ تین گھنٹے تک بجلی غائب کردی گئی تھی ۔ اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے ، ایک اور دلیل دیتے ہوئے عوام کا سوال یہ ہے کہ نتیجہ کے ایک دن قبل ہی آزاد اُمیدوار منکال ویدیا کو کیسے خبر مل گئی کہ جیت اسی کی ہے ، عوام میں یہ افواہ بھی پھیلائی جارہی ہے کہ نتیجہ سے قبل ہی مذکورہ اُمیدوار اور حالیہ رکن اسمبلی نے کثیر تعداد میں مٹھائیوں کے خریدوفروخت کے لئے پیشگی اطلاع کیوں دی تھی؟ 
ان تمام افواہوں میں ایک ہی ایسی دلیل ہے جس کے ذریعہ قانونی رہنمائی حاصل کرکے ہم دودھ کا دودھ پانی کا پانی ثابت کرسکتے ہیں، وہ ہے فیصد میں ہیرا پھیری ، اگر الیکشن کمیشن کے دئے گئے جملہ ووٹنگ فیصد اور نتائج ووٹنگ کے فیصد میں فرق نظر آرہا ہے تو آئینِ ہند کے مطابق ہم Right to Information قانون کا استعمال کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے ساری تفصیلات فراہم کرسکتے ہیں۔ اور پھر اس کے بعد ہم ایک وکیل کے سہارے سے ، کرناٹک الیکشن کمیشن میں شکایت درج کراسکتے ہیں۔ 
میں نے بھٹکل الیکشن کمیشن کا تذکرہ نہیں کیا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر فیصدی میں واقعی کوئی تبدیلی نظر آرہی ہے تو اس میں علاقائی ہاتھ ہوسکتا ہے ۔ آج سائبر کرائم پر نظر دوڑائیں تو کئی ایسے پاسورڈ ہیکرس ہیں جو بینکوں کو لوٹ رہے ہیں تو ایسے حالات میں ووٹنگ مشین سے چھیڑ خانی کرنا تو آسان ہے ۔ ایساممکن ہے ۔ سیاست میں ہی سب سے گھناؤنے چال چلے جاتے ہیں، دولت کے دم پر سرکاری افسران کو خریدا اور بیچا جاتا ہے ۔ حالیہ انتخابات کے دوران ہی کئی علاقوں میں ووٹنگ مشین میں خرابی نظر آئی تو وہاں ری الیکشن کرائے گئے۔ ابھی حالیہ بنگلور کے ہیچ بی آر لے آؤٹ کے ہمارے قریبی ساتھی نے بتایا کہ وہاں بھی اسی طرح کا ایک معاملہ پیش آیا ہے ، ایک ایسا علاقہ جہاں پر مسلمانوں کے 5ہزار ووٹ ہیں، ہمارے مسلمان نمائندے جو جے ڈی ایس کے اُمیدوار ہار گئے ۔ نتائج کے بعد چھان بین کی گئی تو صرف 17ووٹ ہی مشین کاؤنٹنگ میں تھے۔جب کہ مسلمان ووٹرس کا کہنا تھا کہ قریب 3ہزار لوگوں نے اپنا حق رائے دہی جے ڈی ایس اُمیدوار کے لئے استعمال کیا تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ مشین میں ایسی تبدیلی لانا ممکن ہے کہ آپ کسی بھی اُمیدو ار کو حق رائے دہی دیں مگر وہ صرف ایک ہی شخص کے اکاؤنٹ میں چلے جائیں یا یہ ہوسکتا ہے کہ ووٹنگ کے بعد ان لوگوں کو خریدلیا جائے جو مشین کے نگراں کار ہوتے ہیں۔سیاست میں سب کچھ ممکن ہے۔
ایسے حالات اور خبروں سے شک یقین میں بدل جاتا ہے ۔ اگرواقعی جو افواہیں یا پھر خبریں شہر بھر میں گشت کررہی ہیں سچ ہیں تو پھر ہم قانون کا ساتھ لے کر اپنا حق دوبارہ استعمال کرسکتے ہیں، مگر شرط یہ ہے کہ ہم کو اس بات کا پورا یقین ہوکہ واقعی ووٹنگ مشین کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا ہے یا پھر Fake Voting کی گئی ہے ۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES