dushwari

تنظیم ...! تیرے فیصلے کو سلام

اداریہ : انصارعزیز ندویؔ

خوشی و غم یہ زندگی کا ایسا جز ہے جس سے انسان آنکھیں نہیں موڑ سکتا ، دراصل خوشی اپنے ساتھ کوئی پیغام لاتی ہے تو غم بھی اپنے ساتھ کوئی احساس رکھتاہے، وہ دل جو احساس سے خالی ہوتا ہے اسے بے حس کہا جاتا ہے۔ حساس اور دور اندیش قوم کی نشانی یہ ہے کہ وہ ہر ایک کو سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے اسے اپنے ترقی کا زینہ سمجھے ۔ حالیہ انتخابات کو لے کر شہر کے لوگوں کا جو جذبہ تھا اور کسی بھی مطلب اور لالچ سے عاری جنوں کی حد تک احبابِ قوم نے جو محنت کی وہ بھٹکل کے تاریخ میں ہمیشہ سنہرے لفظوں میں لکھا جائے گا ۔

جس کے اندر احساس کا مادہ ہو، قوم کے لیے مرمٹنے کا جذبہ ہو، قوم کے فیصلے کے سامنے اپنے ہر فیصلے کو نامکمل سمجھتا ہو وہ اب بھی شہر بھٹکل کی فضاؤں میں گونجتی اس صدا کو ضرور سن سکے گاکہ ’’ اے تنظیم ! تیرے فیصلے کو سلام ‘‘

ہمیں یہ دیکھنا نہیں ہے کہ جیت کس کی ہوئی ہمیں تو یہ دیکھنا ہے کہ ہم کتنے منظم ہیں؟ میں ہار اور جیت پر سیاسی تبصرہ کرنے کے بجائے تنظیم کی جانب سے لیے گئے فیصلے کو سراہنا چاہتا ہوں اور اس فیصلے سے مستقبل میں پڑنے والے خوش آئند اثرات کو تاکناچاہتاہوں، تنظیم کے فیصلہ سے قومی اتحاد کے طاقت کا اندازہ ا س پارٹی کو ہوگیا جس نے کئی برس تک ہم پر ہمارے شہر میں حکومت کرتی رہی ۔ فرقہ پرست پارٹی سے ٹوٹ کر سیکولر مکھوٹے کے ساتھ میدان سیاست میں اُترنے والے سابق وزیر کا بھی سر نیچا ہوگیا۔ اور فرقہ پرست پارٹی تو ویسے بھی ختم ہوچکی ہے ۔ ایک نیا چہرہ سامنے آیاجس کے سیاسی کیرئیر کا کہیں بھی تذکرہ نہیں۔ تعجب تو ہے مگر یہی سیاست ہے جس کا میں اپنے مختلف اداراتی مضامین میں سیاسی بساط کے مہروں کے چالوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ذکر کیا ہے ۔تنظیم کے اس فیصلے سے سب سے بڑا فائدہ جو ہوا وہ یہ ہے کہ وہ چہرے کھل کر سامنے آگئے جو قوم کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی قوم کے ساتھ نہیں ہیں، ان کو سوائے عہدوں کے قوم کی فلاح و بہبودی سے کوئی تعلق نہیں، باغیوں نے چہرے پر مسکان سجاتے ہوئے زہریلے خنجرکب اور کیسے گھونپ دئے ،پتہ ہی نہ چلا۔اپنے ہی ووٹ مختلف پارٹیوں میں بٹ کر رہ گئے۔یہ شکایت نہیں ہے بلکہ کچھ افسوس کے بول ہیں،شدتِ درد کی دوا ’’کراہنا‘‘ ہے بس اسے ’’کراہنا‘‘ہی سمجھ لیں۔سوال یہ ہے کہ اب ایسے باغیوں کے خلاف تنظیم کوئی تادیبی کارروائی کرے گی؟ یہ ایک ایسا الجھن بھرا مسئلہ ہے جس کو سلجھانا تنظیم کے لیے نہ صرف ضروری بلکہ واجبی حدت تک لازمی ہے۔ بصورتِ دیگرلکڑی کو بھونسے میں تبدیل کرنے ،دیمک کو زیادہ دیر نہیں لگتی۔انتخابات میں قومی میڈیا کا بھی اپنا کردا ر ہوا کرتا ہے ، جی ہاں آزاد صحافت کا مطلب ہے کہ ہر ایک کو بولنے کی آزادی ہے ، مگر جب قوم کی بات آئے تو اس وقت سیاسی حکمتِ عملی کو اپنانا بھی ضروری ہے، ہم قومی میڈیا کا نام نہاد ڈھنڈورا پیٹیں اور حزبِ مخالفین کے اُمیدوارں کو نمایاں ثابت کرنے کے لئے خبروں کی بھرمار کردیں یہ کچھ بات ہضم نہیں ہوئی ، آپ میں سے ہر ایک میری بات سے متفق ہوگا ۔ گذشتہ الیکشن کے تاریخ کے اعلان کے بعد سے 5مئی تک کے تمام الیکٹرانک میڈیا بالخصوص انٹرنیٹ سے وابستہ شہر کے مشہور ویب سائٹ پر ایک نظر کرلیں اور فیصلہ کریں ۔
نتائج کے بعد مختلف تبصرے ، جیسے انتخابات کی رات میں 3گھنٹے تک بجلی نہیں رہی، روپئے پانی کی طرح بہادئے گئے، غیروں کے ووٹ نہ ملے،اپنوں نے بے وفائی کی ،یہ سب دل کو بہلانے والے بول ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ تنظیم کی جانب سے جب یہ فیصلہ لیا گیا اور پورے قوم نے مل کر جو اتحاد کا ثبوت دیا وہ ہماری حقیقی جیت تھی اور اب بھی ہماری ہی جیت ہے کیونکہ تنظیم کے اس فیصلے کی وجہ سے ایک نیا چہرہ سامنے آیا ہے ، وہ اپنی سیاسی کیرئر کو بچانے کے لیے اور اپنا ایک ٹھکانہ بنانے کے لیے شہر کو ترقیات کی جانب لے جائے گا۔ تنظیم کے اس فیصلے سے ہمیں سیاسی حکمت عملی میں پیش آنے والے پیچیدہ مسائل سے واقفیت ہوگئی ۔ قوم میں سیاسی بیداری اور شعور پیدا ہوا۔آزاد اُمیدوار کی جیت میں ہمارا بھی حصہ ہے ۔ تنظیم کے اس فیصلے سے ہمارے روشن مستقبل پر مرتب ہونے والے بہترین اثرات پر مجھے یہ کہنے کا حق ہے اورآپ کو بھی میرے ساتھ کہنا ہوگا ’’ تنظیم !!! تیرے فیصلے کو سلام ‘‘

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES