dushwari

الیکشن اور قومی اتحاد ۔۔۔!!!

انعام بھی جیت ہے اور انجام بھی جیت
اداریہ ۔ سید ہاشم نظام ندوی

الیکشن آیا، اور گیارہ گھنٹوں میں لوگوں کا جوش وخروش الکٹرانک مشینوں میں بند کرکے لے گیا، الیکشن کا دن جمہوریت کا ایک ایسا دن ہے جس سے عوام الناس کی خوشیاں، خوش حالیاں اور خوش آئند مستقبل کی خوش رنگیاں وابستہ ہوتی ہیں، ہر بالغ نظر مرد وعورت ہر تندرست اور بیمار، ہر جوان وبزرگ، ہرعالم و جاہل اور عاقل و بے عقل اپنا حقِ رائے استعمال کرتا ہے، اور حکومت کو اپنے باعزت شہری ہونے کا ثبوت دیتا ہے،

اپنے ہونے کا احساس دلاتا ہے، اپنی طاقت کا اظہار کرتا ہے، اکثریت میں ہو تو سر چڑھ کر بولتا ہے، اور اقلیت کا ہو تو فسطائی نگاہوں میں کانٹا بن کر چبھتا ہے، الیکشن اگر خوشگوار ہے تو فرحت ومسرت کا ضامن ہے، لوگوں میں اجتماعی اور معاشرتی جذبات کو مہمیز کرتا ہے، یکجہتی کا باعث ہوتا ہے، امن کا پیغام دیتا ہے، اور سلامتی کا سبق پڑھاتا ہے، خدا نخواستہ اگر ناخوشگوار ہوتا ہے، تو تلخ تر حقیقت بن کر سیکڑوں خونی یادوں کا باعث بن جاتا ہے، ماحول میں خوف ناکیاں، معاشرہ میں تباہیاں، اوردلوں میں نفرتوں کی آندھیاں اور قدم قدم ظلم وبربریت کی نشانیاں چھوڑ جاتا ہے۔
پانچ مئی ۲۰۱۳م بروز اتوار کو کرناٹک اسمبلی کے انتخابات ہوئے، اور خوشگوار ماحول میں ختم بھی ہوگئے، اللہ کے فضل سے پوری ریاست میں کوئی بڑا واقعہ رونما نہیں ہوا، یا کوئی نفرت آمیز کشیدگی پیدا نہیں ہوئی، قابلِ مبارکباد ہیں سارے کاروار ضلع کے باشندے بالخصوص اہلِ بھٹکل کہ انھوں نے ہر طرح امن وامان کا ماحول برقرار رکھا، اور اپنی تنظیم کے فیصلہ پر مہر ثبت کرکے اتحاد واتفاق کا ثبوت دیا، اور ایک مثالی اجتماعیت کا نمونہ پیش کیا، اور ایسی خوشی اور ایسا جذبہ یگانگت اور ایسی رواداری کا مظاہرہ کیا جس کا انعام بھی جیت ہے اور انجام بھی جیت،اور اگر سکے کے دوسرے رخ کو دیکھیں تو اس کی ہار میں بھی جیت ہے اور جیت تو جیت ہی۔
ہم آج کی اس تحریر سے جیت کی پیش گوئی تو نہیں دے رہے ہیں، بلکہ آپ لوگوں کی اجتماعی وفاداری اور تنظیم کے فیصلہ کے بابت اس قدر محبت اور اپنائیت پر مبارکباد دیتے ہیں، اور قائدِ قوم کے انتخاب کی کوششوں کو سراہتے ہیں اور ہمارے نمائندہ کی جیت ہو کے ہار ، فتح ہو کہ شکست کا مرحلہ وہ تو بعد کاہے، اور ہمارے عقیدہ کے مطابق مقدر سے جڑا بھی، لیکن جو دلوں کو فتح کرلے وہی فاتحِ زمانہ ۔فکروخبر ادارے نے ہمیشہ سے اپنے قوم کے اُمیدوار کی سراہنا کی، شخصی اور انفرادی سوچ سے آزاد ہوکر تنظیم کے فیصلے اور کوششوں کی اور ان کے جدوجہد کی مدح سرائی کی۔عوام کے جوش و جذبہ، ان کے امنگوں کو لفظوں کا لبادہ اوڑھا کر ان کے دلوں میں مہر ثبت کرنے کی کوشش کی۔نتیجہ جو بھی ہو مگر !!!’’انعام بھی جیت ہے اور انجام بھی جیت‘‘
اب اللہ کرے کہ ہمارا نمائندہ کامیاب ہو، اور آپ کی نیک خواہشات ودعاؤں کے طفیل قوم کے سالہا سال کا خواب شرمندہ تعبیر ہو ۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES