dushwari

تو پھر !!! تمہیں انگلی اُٹھانے کا کوئی حق نہیں۔۔۔؟!

اداریہ : انصارعزیز ندویؔ 

جی ہاں آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آج میں نے کچھ انوکھی سرخی کیوں دے دی ؟ دراصل سرخی میں موجود یہ جملہ میرا جواب تھامیرے اُن دوستوں کے لئے جو باتوں باتوں میں کچھ اعتراض جتائے تھے۔ دو دن پہلے کی بات ہے کہ میں اور اپنے دوست احباب بیٹھے حالیہ انتخابی مسئلہ پر بات کررہے تھے جوآج کل شہر میں ہر عام وخاص کا موضوعِ سخن بن گیا ہے۔

ہر پارٹی کے اُمیدوار کو لے کر ہر ایک کے اپنے اپنے خیالات تھے مگر اس میں سے ایک شخص نے اُس اُمیدوار پر جو کہ قومی تنظیم کا چنیدہ تھا یہ کہتے ہوئے اعتراض جتایا تھا کہ ایک مخصوص عہدہ ملنے کے باوجود ترقیات کے کام نہیں ہوپائے ۔ اس پر میں نے اس کے سامنے کچھ ماضی کے اوراق پلٹنا چاہا ۔ اور پھر یکلخت میں نے اس سے سوال کربیٹھا کہ پچھلے جو انتخابات ہوئے ہیں اس وقت کیا آپ نے اپنا حق رائے دہی کا استعمال کیا تھا؟اس نے ہنستے ہوئے ایک وقفہ کے بعد جواب دیا کہ شاید ہی میں نے اب تک کبھی ووٹنگ کی ہو، ویسے بھی پولنگ بوتھ میں جاکر کون انتظار کرے گا۔ گرمی کی تپش ہم سہیں گے اور کسی اور کو نیتابنائیں گے یہ بھی کوئی عقلمندی کی بات ہے؟۔ میں اس کے اس جواب سے دنگ رہ گیا ، اور اچانک زبان سے یہ جملہ نکلا کہ ’’تو پھر!!! تمہیں کسی بھی نیتا یا اُمیدوار پر انگلی اُٹھانے کا حق نہیں ہے ‘‘۔میں نے اس کے سامنے کئی وجوہات پیش کئے۔ گفت و شنید ختم ہوئی ۔ دوست و احباب محفل سے ہٹ گئے اورمیں ذہن میں کئی سوالات لے کر واپس لوٹا۔
سوچنے کا مقام ہے کہ ایک شخص اپنے حق کو استعمال نہیں کرتا اور اس کو پتہ بھی نہیں ہے کہ شہر میں کیا ترقیات ہوئے ہیں او رکیا نہیں ، کسی کی بھی سن کر اپنے دوست و احباب کے سامنے اچانک انگلی اُٹھا کر اس کو بدنام کرنے کی کوشش کرتا ہے جب کہ اس کا اس کو کوئی حق نہیں، پتہ نہیں ایسے کتنے لوگ ہوں گے جو صرف سستی اور کاہلی کی وجہ سے اپنے قیمتی ووٹ کو ضائع کردیتے ہیں۔ یا پھر میرے اسی دوست کی طرح سوچ کر پوری قوم کو مشکلات میں ڈال دیتے ہیں۔ نہ صرف شہر بھٹکل ، صوبہ کرناٹک، بلکہ پورے ملک میں نیتاؤں کی جو لوٹ مار مچی ہے وہ انہی جیسے کاہل اور ووٹ کی قیمت کو بے قیمت کرنے والوں کا نتیجہ ہے ۔ ہر شخص اگر اپنے ووٹ کی قیمت کو سمجھے تو ہم ملک کے لئے ، قوم کے لیے ، شہر و قصبہ کے لئے ایک بہترین سیاست داں دے سکتے ہیں۔ 
ایک لمبی مدت کے بعد شہر بھٹکل میں ہی نہیں بلکہ پوری ریاست میں ایک انقلاب بپا ہے ، حالیہ کانگریس اور دیگر فرقہ پرست پارٹیوں کے بیچ مسلمان قوم پس کررہ گئی ہے۔ اگر سچرکمیٹی کے لفظ لفظ پر اعتبارکرلیاجائے تو مسلمان کو پسماندہ بنانے میں کانگریس کا سب سے بڑاہاتھ ہے۔ مگر صرف یہ کہہ کر پلو جھاڑ لیں تو یہ کوتاہ نظری کی بات ہوگی ، کیوں کہ کانگریس کو اقتدار میں لانے والے ہی مسلمان تھے ۔ ایک رخ سے ہم خود اس کے ذمہ دار ہیں کیوں کہ ہم نے اپنے ووٹ کی اہمیت کو نہیں سمجھا۔ کوئی بھی پارٹی مسلمان کی وراثتی پارٹی نہیں ہے۔ 
بنگلور جئے نگر میں جے ڈی ایس کی جانب سے مسلمان اُمیدوار سمیع اللہ ہیں، اسی طرح ہیچ بی آر لے آؤٹ کا معاملہ ہے ، بنگلور کے شواجی نگر حلقے میں گذشتہ 22برسوں سے کانگریس کا راج ہے مگر اس بار یہاں کے مسلمانوں کے ساتھ ہوئی ناانصافی کے پیشِ نظر ایک مسلمان کے مقابلے میں مسلمان لایا گیا ہے ۔ خود مسلمان ووٹروں کی مانگ کی وجہ سے یہاں پر جناب عباس علی بوہرہ کو اُمیدوار بنایا گیا ہے تاکہ غرور کا سر نیچا ہو۔ سیاسی سروے رپورٹ یہی کہہ رہی ہے کہ اب عوام مرکزی پارٹیوں سے اور ان کے گھناؤنے حرکا ت سے اوب چکی ہے ۔
اسی طرح کتنی مثالیں دی جائے؟؟ حالیہ یوپی کے انتخابات سے بھی ہم نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں، مسلمان جب متحد ہوئے یوپی میں براجمان مایاوتی کی حکومت کو گم کردیا گیا۔ اور علاقائی پارٹی سماجوادی برسرِ اقتدار آئی ۔ 
جے ڈی ایس بھی کرناٹک کی علاقائی پارٹی ہے ہر سماج اور قوم سے رکھنے والا دوسری پارٹی کے بالمقابل اس پارٹی پر اعتماد کرنا بہتر سمجھ رہا ہے ۔ اسکے وجوہات کئی سارے ہیں اور اس کاتذکرہ ہم اپنے اس سے پہلے والے ادارئے میں کرچکے ہیں۔ 
شہر بھٹکل کے لوگ بھی اب ایک تبدیلی چاہتے ہیں دوسرے الفاظوں میں ایک انقلاب چاہتے ہیں۔ ایسے حالات میں ایک شخص جو ووٹ کی قیمت نہیں جانتا بلکہ اب تک اس کا استعمال ہی نہیں کیا ہے وہ اعتراض جتا کر اپنی کاہلی کو ذمہد ار قرار دینے کے بجائے الزامات کی بوچھار کررہا ہے ۔ تعجب ہے !!! 
اس بار اُمید ہے کہ تبدیلی میں حصہ لینے کے لیے، انقلاب میں اپنا بھی نام درج کرنے کے لیے ہر کوئی گھر سے نکلے گا، اور اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرے گا ، اپنے حق میں، اپنے قوم کے حق میں،اور پنے بہتراور روشن مستقبل کے حق میں!۔۔۔!وہ دن دور نہیں ......بس آج کی ایک رات گذر جانے کی بات ہے !!!

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES