dushwari

اہلیانِ بھٹکل کے مسائل اور انتخابات

کانگریس کی جانب سے مجلس اصلاح و تنظیم کا کھلا مذاق!!! چہ معنیٰ دارد ؟

اداریہ :انصارعزیز ندویؔ

عام طور پر دیکھا جاتا ہے جب انتخابات کے بگل بجتے ہیں تو ہر پارٹی کا لیڈر اپنے شہر کے مسائل کے تذکرے کے ساتھ ان مسائل کو حل کرنے کا وعدہ لے کر میدان سیاست میں کود پڑتا ہے اور اپنے انتخابی منشور میں ان مسائل کے ذکر اور اس کے تدارک کو اپنا اولین فریضہ سمجھتا ہے ،

مگر یہاں کا کچھ اور ہی معاملہ ہے ، سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے پر کیچڑ اُچھالنے میں سبقت لے جانے کی کوشش کررہے ہیں، مگر باشندگانِ بھٹکل کے اہم ترین مسائل پر کوئی غور ہی نہیں کررہا۔ پہلا اور سب سے حساس مسئلہ ، میڈیا میں شہر بھٹکل کی بے وجہ بدنامی، دوسرا مسئلہ، اہم شاہراہ کے توسیعی منصوبے کی مخالفت اور دوسری جانب سڑک حادثات میں دن بدن کا اضافہ۔
شہر بھٹکل کی بے وجہ بدنامی اور دہشت گردی سے جوڑنے کا مسئلہ دراصل سیاسی لیڈران اس کا تذکرہ تو درکنار اس کے قریب بھی پھٹکنا نہیں چاہتے۔ بی جے پی کا لیڈرعلی الاعلان اپنے انتخابی جلسہ میں بھٹکل کو دہشت گردوں کا اڈہ کہہ کر چلا جاتا ہے اور ہم چپکی سادھ لیتے ہیں۔ان لوگوں کو اس بات کا علم بخوبی ہے کہ اس حساس معاملہ کو کوئی نہیں چھیڑنے والا ۔
دوسرا مسئلہ ہے شاہراہ کا۔ جب توسیع کے مخالفت کرنے والوں سے اس سلسلہ میں پوچھا جاتا ہے کہ مخالفت کیوں تو ان کا ماننا ہے کہ اگر سڑک کشادگی منصوبہ شہر کے اندر سے منظور ہوا تو شہر بھٹکل ترقیات میں 10دس سال پیچھے چلا جائے گا۔ہوا کی آلودگی ، سواریوں کی کثرت ، انہدامی عمارتوں کی دوبارہ تعمیر میں کئی سال لگ سکتے ہیں، اور شہر کی رونق جونظر آرہی ہے وہ سب دھواں ہوجائے گی۔
مگر کہنے والوں کا کہنا ہے کہ اگر گاڑیوں کی کثرت جہاں ہوگی وہیں یہ سہولت بھی ہوگی کہ کشادگی کی وجہ سے ٹرافک کا نظام بہتر ہوجائے گا۔ شہر کی ترقیات میں اثر نہیں بلکہ مزید ترقی ہوگی کہ نئی عمارتیں تعمیر ہوں گی ، اپنے الگ انداز میں اور بالخصوص عوام کو راحت ہوگی۔ اور جہاں تک گاڑیوں کے دھویں سے پیدا ہونے والی آلودگی کا مسئلہ ہے یہ ضروری نہیں کہ صرف بیرونی سواریوں سے آلودگی پیدا ہو وہ شہر کے اندر کی سواریوں سے بھی آلودگی پید ا ہوسکتی ہے۔جہاں تک سڑک حادثات کا معاملہ ہے جس میں روز بروز اضافہ ہورہاہے اس میں کمی آسکتی ہے ۔ کیوں کہ جہاںیک رخی (ون وے) کا نظام ہوگا وہیں ، ٹرافک کے اصول کے مطابق اسپیڈبریکر، لال بتی وغیرہ کی بھرمار ہوگی۔ٹرافک خفیہ کیمروں کی تنصیب کی جائے گی تو سواریاں اپنی تیز رفتاری میں حتی الامکان قابو پالیں گے۔
دراصل ان مسائل پر وہ سیاسی لیڈران جو اگلے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں ان کو اس سلسلہ میں سوچ کر اس مسئلہ کا حل ڈھونڈنا چاہئے تھا مگر ایسا کہیں بھی کسی بھی پارٹی کے انتخابی اجلاس میں سننے یا دیکھنے کو نہیں ملا۔ 
اس مرتبہ کانگریس نے تو تمام حدیں پار کردی اور ووٹ بٹورنے کے لیے شہر بھٹکل کی سب سے معتبر اور بااعتماد سیاسی و سماجی تنظیم کو اپنے حامیوں کے سامنے نیچا دکھانے کی کوشش کی ۔یہ وہی تنظیم ہے جس نے کانگریس کو اتنے سالوں تک شہر بھٹکل میں پالا پوسا، بڑا کیا اور اسی کے دم پر اب تک شہر بھٹکل میں اپنی کرسی سنبھالتی رہی۔ کانگریس کا ماننا ہے کہ شمبو گوڈا نامی ایک شخص کی جب تنظیم نے حمایت کی تھی تو اس وقت کانگریس ہی جیت سے ہمکنار ہوئی تھی۔
دراصل کانگریس کے اس بیان سے اب تک کچھ نام نہاد مسلم لیڈران کی وجہ سے عوام میں تشویش کی لہر پائی جارہی تھی و ہ ختم ہوگئی اور دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوگیا۔ مطلب پرست کانگریس پارٹی نے اپنے اصلی دانت دکھا دئے ۔ صرف تنظیم کے حالیہ فیصلہ کی وجہ سے اس نے گذشتہ کئی سال کی تنظیم کے انتھک محنت و جدو جہد کا مذاق اُڑاتے ہوئے اس کو بے وقعت ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔عوام اب اتنی بے وقوف نہیں ہے کہ کانگریس کے اس اصلیت کو پہنچان نہ سکے۔ اگر کانگریس کے ساتھ کچھ بجھے بجھے سے اپنے چہرے نظر آتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ پوری قوم اس کے ساتھ ہے ۔ جس پارٹی نے تنظیم کے احسانات کو بھول کر اس کا مذاق اُڑانے کی کوشش کی ہے دراصل تنظیم پر بھروسہ کرنے والے ہر شخص پر ایک زناٹے دار طمانچہ ہے جس کاسبق عوام کوضروردینا ہوگا، کیوں کہ یہ تنظیم نہ صرف مسلمانوں کی بلکہ کاروار ضلع کے ہر سماج سے تعلق رکھنے والے عوام کی تنظیم ہے ۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES