dushwari

تنقید برائے تعمیر

اداریہ   ۔ سید ہاشم نظام ندوی

الله تعالى نے اپنی قدرت سے  انسانوں  اور جنوں كو پیدا فرمایا، اور انہیں اپنی بندگی اور عبادت پر مامور كیا، پھر انسان كو اشرف المخلوقات بنایا، اور اس كو نطق اور كلام كی نعمت سے سرفراز فرمایا، اور اسے خیر وشر یعنی نیك وبد، اچھےو برے اور گناہ وثواب كے كاموں كی ہدایت دی، لہذا انسان اچھا بولتا ہے، عمل اچھے كرتا ہے، باتیں اچھی بتاتا ہے، اور اپنے اسی بولنے كی نعمت كو استعمال كركے جنہیں ہم وعظ وارشاد بیان و خطاب اور تقریر كہتے ہیں، اپنے جیسے دوسرے انسانوں كو برائیوں سے روكتا ہے،

دعوت الی اللہ كا كام كرتا ہے، طاغوتی و شیطانی راستوں پر چلنے سے روكتا ہے، ہر اچھی چیز كو اپنانے اور ہر بری چیز سے دور رہنے كی تلقین كرتا ہے، تخلیقِ آدم كے بعد جیسے  جیسے دنیا پھلتی پھولتی گئی، اسی قدر وعظ ونصیحت كی ضرورت بڑھتی گئی، انسان دھیرے دھیرے اپنے فرضِ منصبی سے غافل ہوتا گیا، تو خیروشر اور نیك وبد میں امتیاز كی نعمت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا، خود سری و خود نمائی اور حرص وطمع نے اچھے برے كی تمییز مٹاڈالی، دولت اور مال وزر كے لئے وہ كچھ بھی كر گذرنے لگا، حسد اور بغض كی خصلت سے دوسروں كی نعمتوں اور خوشیوں كو لوٹنے لگا، دنیا كی رنگ رلیوں اور مادیت كی چكا چوند كر دینے والی روشنی نے اس كے دل سے خوف، اسكی آنكھوں سے حیا وبصارت اور ذہن ودماغ سےایمان كی بصیرت ماند كردی ۔ لہذاموجودہ دنیا كے منظرنامہ اور عالمی سیاسی مفادات میں اگر دیكھتے ہیں تو یہ بات كھل كر سامنے آتی ہے كہ انسان اب اسی نشہ اور خمار میں كہیں بھی اور كچھ بھی بولتا ہے، ہر جگہ تنقید، ہر كام پر اعتراض، ہر بزم میں بر سرِ پیكار، ہر اچھے كام پر سوالات كی بوچھار، ہر سماجی خدمت گذار پر لعن طعن، ہر مصلح پر نگاہِ تشكیك، ہرواعظ سے     بدگمانی، ہر آدمی سے شكوہ وشكایت، الغرض معاشرہ میں ہر چھوٹے بڑے سے آمادۂ پیكار نظر آتا ہے، ایسی بے جا تنقید سے سماج میں خرابیاں وجود میں آتی ہیں، جرائم ہونے لگتے ہیں، برائیاں جڑ پكڑنے لگتی ہیں، اور تخریبی سرگرمیاں ہونے لگتی ہیں، اور بے راہ رویاں، بد نامیاں، اور بدكاریاں سماج ومعاشرہ سے اٹھ كر سارے شہر اور ملك كو تباہی كے راستے پر ڈال دیتی ہیں، اس سے ہماری مراد تنقید نہ كرنے سے ہرگز نہیں ، بلكہ ہم ایك صالح تنقید چاہتے ہیں، وہ تنقید جو تعمیری ہو، وہ تنقید جو نوجوانوں میں جذبۂ عمل پیدا كرے، وہ تنقید جو ایك دوسرے كے پاس ولحاظ كو بڑھائے، وہ تنقید جو بڑوں كا احترام اور چھوٹوں پر شفقت كا ہنر دے، وہ تنقید جو معاشرہ كو نیك نامی عطا  كرے، وہ تنقید جو قلم كو پاكیزگی اور بیان كو حكمت ودانائی دے، وہ تنقید جو فكر كو صدق وصفا اور نگاہ كو حیا وعفت بخشے، اور وہ تنقید جو صحافت كو آزادئ رائے كے لا محدود نظریۂكو خدمتِ لوح وقلم كا بے لوث جذبہ دے، جس میں دعوت الی اللہ كو حكمت ودانائی سے آراستہ ، نہی عن المنكر كو خوش كلامی اور  وقت شناسی كے زیور سے مزین اور زبان وبیان كوخلوص وللہیت سے سرشار كرے ۔

تنقید برائے تعمیر سے باہمی اعتماد بڑھتا ہے، خلوص ومحبت كی فضا سے ماحول خوشگوار رہتا ہے، تعمیری رجحانات سے آدمی معاشرہ كے اہلِ رائے، صاحبِ بصیرت، دور اندیش اور زمانہ شناس،  بلند نظر اور عالی ظرف لوگوں كے درمیان بھی لائق وفائق نظر آتا ہے، وہ اپنی رائے مشورے، تبصرے، تجزیئے اور خیر سگالی كے جذبہ سے كی ہوئی تنقید سے لائقِ صد احترام ہو جاتا ہے، جہاں خاموشی نجات اور كم بولنا نیكی كا باعث ہوتا ہے، وہیں عامۃ المسلمین یعنی عوام الناس كو نیكی كے جذبہ سے نصیحت كرنا اور ان كو برائیوں سے روكنا اور صرف رضائے الہی كے لئے نیك نیتی كے ساتھ تنقید كرنا بھی عبادت ہے، جہاد ہے، كارِ ثواب ہے  ۔  والسلام

 

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES