dushwari

یہ صرف دینی مکاتب کی برکت ہے

(اب تو ہمارے ان مکاتب کو اسی حال میں رہنے دیں)

محترم قارئین! یہ فکروخبر کا دوسرا مہمان اداریہ ہے جس کو جامعہ اسلامیہ جامعہ آباد بھٹکل کا ترجمان ’’ارمغانِ حجاز ‘‘کے مدیرِ اعلیٰ اور اپنے دعوتی و اسلامی خدمات میں عالم بھر میں مشہور مولانا الیاس ندویؔ بھٹکلی مدظلہ نے فکروخبر کے لئے لکھا ہے ، اس موقع پر ادارہ ان کا تہہ دل سے مشکور ہے)

مہمان اداریہ:مولانامحمد الیاس ندوی 

گذشتہ ہفتہ ہمارے ایک دوست مولانا صغیر صاحب ندوی نے بتایا کہ بنگلور میں ایک مسجد سے متصل جوشہر کی نئی تعمیر شدہ اور نہایت خوبصورت ترین مساجد میں سرفہرست ہے ایک ادارے کے پروگرام میں ملک کے اعلی ترین منصب پر فائز ایک مسلمان کی اہلیہ آئی تھیں، واپسی میں وہ اس مسجد میں بھی آئیں ،

سرکاری پروٹوکول اور اعلی سطحی حفاظتی انتظامات کے ساتھ جب وہ مسجد میں داخل ہوئیں تو وہاں زیر تعلیم مکتب کے بچوں کے قریب آئیں تو بچوں نے بجائے اس کے کہ ان سے آٹوگراف اور ساتھ کھڑے ہوکرفوٹو نکالنے کامطالبہ کرتے یا ان کی آمد پر رسمی طور پر ان کو خوش آمدید کہتے ہوئے ان کاشکریہ اداکرتے سب نے بیک وقت جھٹ سے اپنے جس سوال سے ان کا استقبال کیا وہ یہ تھا کہ آنٹی:۔ آپ کی پیشانی پر مسلمان ہونے کے باوجود یہ تلک کیوں لگاہواہے ؟ اس نے جواب دیا کہ ہم جس علاقے میں رہتے ہیں یہ وہاں کی تہذیب ہے ، بچوں نے بغیر کسی مرعوبیت کے برجستہ جواب دیا کہ آنٹی:۔ اسلام میں تواس کی اجازت نہیں، یہ غیر اسلامی تہذیب ہے ۔

۱۱/۱۰ سال قبل گجرات کے بھیانک فسادات کے بعد مسلم تنظیموں کی طرف سے بڑے پیمانے پر ریلیف کیمپ قائم کئے گئے جہاں موجود مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے ملک بھر سے وقتاً فوقتاً متعددتنظیموں نے اپنے امدادی سامان پہنچائے، ایک دن ایک واقعہ رونماہواجس سے زیادہ حیرت انگیز واقعہ کم از کم ان دنوں اس پورے علاقہ میں نہ چشم فلک نے دیکھا تھا اور نہ زمین نے سناتھا،ایک مشنری ادارہ کی طرف سے سامان خورد ونوش کے ساتھ گاڑی ایک پناہ گزین کیمپ کے پاس آکررکی، لو گ باری باری گاڑی پرچڑھ کر سامان لیتے اورنیچے اترتے اور اپنی اپنی پناہ گاہ میں چلے جاتے ،ایک ۹/۸ سال کا بچہ جو مدرسہ میں زیر تعلیم تھا،جس کے بدن پر پھٹے پرانے بوسیدہ کپڑے تھے ،بے چارگی، فقروفاقہ اورمفلسی اس کی جبین نیازسے عیاں تھی، اس کے والدخود اس فساد میں شہید ہوچکے تھے ،ماں بیوہ ہوچکی تھی اور وہ خود یتیم بن گیاتھا ،سامان دیتے ہوئے مشنری ادارہ کے ذمہ دار نے اس کے کان میں کچھ کہا تو وہ اسی وقت سامان زمین پر پھینک کرگاڑی سے کودکر واپس اپنے کیمپ میں بھاگنے لگا،لوگوں نے جب قریب جاکر اس سے پوچھا کہ سب کی طرح تمہیں بھی کھانے پینے کے سامان کی ضرورت تھی لیکن تم نے انکار کرکے اس کو پھینک دیا ، کیا قصہ ہے ؟ اس نے جو جواب دیا وہ سننے ہی سے نہیں بلکہ سونے کے حروف سے لکھے جانے کے قابل تھا، اس نے کہا کہ مجھے سامان دیتے وقت اس مشنری ذمہ دارنے کان میں کہاکہ جاتے جاتے تم یہ کہو کہ (نعوذ باللہ )عیسی اللہ کے بیٹے ہیں ،ہم تم کو اگلی باراور زیادہ راشن دیں گے،تومیں نے کہاکہ میں بھوک کی حالت میں تڑپ تڑپ کرمرنا گوارہ کرسکتا ہوں لیکن اللہ تعالی کے ساتھ کسی کو بیٹا یا شریک کہوں یہ ممکن نہیں ہے۔
ان دونوں واقعات میں یہ غیر متزلزل اور قابل رشک ایمان کی جوجھلک ان بچوں میں نظر آئی وہ صرف ہمارے ان مکاتب و مدارس دینیہ ہی کی دین تھی مستحکم ایمان کی یہ بنیادیں اور اس کے نمونے اگراس کرہ ارضی پر آج بھی کہیں نظر آرہے ہیں تو یہ صرف ہمارے دینی مدارس کی بدولت ہیں ، علامہ اقبال مرحوم ابتداء میں ہمارے ان مدارس ومکاتب کے تعلق سے کچھ اچھے تاثرات نہیں رکھتے تھے،ان کا خیال تھا کہ مدرسہ میں دھراکیا ہے بجزموعظت وپند ، لیکن جب وہ اسپین کے دورہ سے واپس آئے تو مسلمانوں سے کہنے لگے کہ اے مسلمانو:۔ ان دینی مکاتب کو اسی حالت میں رہنے دو ،ورنہ ہمارے ملک کی بھی دینی حالت وہی ہوجائے گی جو میں اسپین میں دیکھ کر آیا ہوں کہ دینی مدرسوں کے نہ ہونے کی وجہ سے آج وہاں سے مسلمانوں کا نام ونشان مٹ گیاہے۔لیکن افسوس کہ غیروں سے نہیں بلکہ خود اپنوں ہی سے ان مدارس کو ان کے مقاصد سے ہٹانے اور اس کو روشن خیال وترقی یافتہ بنانے کے نام سے اس میں تبدیلی کرکے اس کی اصل روح سے خالی کرنے کی آوازیں اٹھ رہی ہیں لیکن جن مغربی طرز کے تعلیمی اداروں سے خود اخلاقی اعتبار سے دنیا بھی تباہ ہورہی ہے ،ان کو اسلامی بنیادوں پر قائم رکھنے کی فکریں تونہ ہونے کے برابرہیں اور جو مکاتب ومدارس ہمارے زندہ رہنے کے لیے سانس اور پانی سے زیادہ اہم ہیں اس کو ختم کرنے اورمقصدسے ہٹانے کی منصوبہ بنددشمنوں کی کوششوں میں خود اپنے ہی غیر شعوری اورغیر محسوس طریقہ سے شامل ہورہے ہیں، اسی کو کہتے ہیں ؂
سادگی مسلم کی دیکھ, اور وں کی عیاری بھی دیکھ

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES