dushwari

ظالم کو معاف کرنا

    درسِ  قرآن  ( نمبر 26 )

ظالم کو معاف کرنا

 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے 

 
﴿۔۔۔ فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّـهِ۔۔۔الاية﴾ ﴿ سورة الشورى -٤٠ ﴾  

ترجمہ: پھر بھی جوکوئی معاف کردے اور اصلاح سے کام لے تو اس کا ثواب اللہ نے اپنے ذمّے لیا ہے۔ (آسان ترجمۂ قرآن؍ مفتی محمد تقی عثمانی۔ج؍۳ :ص؍۱۴۷۹)
یعنی: جو معاف کردے اور اصلاح کا راستہ اختیار کرے، اس کا اجر اللہ کے ذمّہ ہے۔ جس میں یہ ہدایت کردی کہ معاف کردینا افضل ہے۔(معارف القرآن:ج؍۷۔ص؍۷۰۷)
اس کا مطلب یہ ہے کہ زیادتی کرنے والے سے بدلہ لینا اگرچہ جائز ہے لیکن جہاں معاف کردینا اصلاح کا موجب ہوسکتا ہے وہاں اصلاح کی خاطر بدلہ لینے کے بجائے معاف کردینا زیادہ بہتر ہے۔ اور چونکہ یہ معافی انسان اپنے نفس پر جبر کرکے دیتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کا اجر ہمارے ذمّہ ہے، کیونکہ تم نے بگڑے ہوئے لوگوں کی اصلاح کی خاطر یہ کڑوا گھونٹ پیا ہے۔ (تفھیم القرآن۔ج؍۴:ص؍۵۱۱)
آیت کا سیاق سباق:(مومنین کی صفات کا ذکر ہورہا ہے) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔۔۔’’اور جب ان پر ظلم وزیادتی ہو تو وہ صرف بدلہ لے لیتے ہیں، برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی ہے۔ اور جو معاف کردے اور صلح کرے اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمّہ ہے، فی الواقع اللہ تعالیٰ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا ۔ اور جو شخص اپنے مظلوم ہونے کے بعد برابر کا بدلہ لے لے تو ایسے لوگوں پر الزام کا کوئی راستہ نہیں۔ یہ راستہ صرف ان لوگوں پر ہے جو خود دوسروں پر ظلم کریں اور زمین میں ناحق فساد کرتے پھریں، یہی لوگ ہیں جن کے لئے دردناک عذاب ہیں۔ جو شخص صبر کرے اور معاف کردے یقیناً یہ بڑی ہمّت کے کاموں میں سے ایک کام ہے‘‘۔ (تفسیر ابن کثیر:ج؍۵۔ص؍۲۱)
عفو وانتقام میں معتدل فیصلہ:۔ حضرت ابراہیم نخعیؒ نے فرمایا کہ سلف صالحین یہ پسند نہ کرتے تھے کہ مومنین اپنے آپ کو فسّاق فجّار کے سامنے ذلیل کریں اور ان کی جرأت بڑھ جائے۔ اس لئے جہاں یہ خطرہ ہو کہ معاف کرنے سے فساق فجار کی جرأت بڑھے گی، وہ اور نیک لوگوں کو ستائیں گے وہاں انتقام لے لینا بہتر ہوگا۔ اور معافی کا افضل ہونا اس صورت میں ہے جب کہ ظلم کرنے والااپنے فعل پر نادم ہو اور ظلم پر اس کی جرأت بڑھ جانے کا خطرہ نہ ہو۔ (معارف القرآن:ج؍۷۔ص؍۷۰۷)



Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES