dushwari

بعض صفات اہلِ نفاق کے

    درسِ  قرآن  ( نمبر 25 )

  بعض صفات اہلِ نفاق کے

 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے 

 
عَفَا اللَّـهُ عَنكَ لِمَ أَذِنتَ لَهُمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَتَعْلَمَ الْكَاذِبِينَ ﴿٤٣﴾ لَا يَسْتَأْذِنُكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَن يُجَاهِدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ ۗ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ ﴿٤٤﴾ إِنَّمَا يَسْتَأْذِنُكَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَارْتَابَتْ قُلُوبُهُمْ فَهُمْ فِي رَيْبِهِمْ يَتَرَدَّدُونَ ﴿٤٥﴾  وَلَوْ أَرَادُوا الْخُرُوجَ لَأَعَدُّوا لَهُ عُدَّةً وَلَـٰكِن كَرِهَ اللَّـهُ انبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَقِيلَ اقْعُدُوا مَعَ الْقَاعِدِينَ ﴿٤٦﴾ لَوْ خَرَجُوا فِيكُم مَّا زَادُوكُمْ إِلَّا خَبَالًا وَلَأَوْضَعُوا خِلَالَكُمْ يَبْغُونَكُمُ الْفِتْنَةَ وَفِيكُمْ سَمَّاعُونَ لَهُمْ ۗ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ ﴿٤٧﴾ ﴿ سورة التوبة ٤٣-٤۷

 
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ۔۔۔’’اللہ نے آپ کو معاف کردیا(لیکن ) آپ نے ان کو اجازت کیوں دے دی تھی جب تک کہ آپ پر سچے لوگ ظاہر نہ ہو جاتے اور آپ جھوٹوں کو جان نہ لیتے۔ جو لوگ اللہ اورروزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ کبھی آپ سے اجازت نہ مانگیں گے کہ اپنے مال وجان سے جہاد نہ کریں اور اللہ پرہیزگاروں سے خوب واقف ہے۔ آپ سے اجازت تو وہی لوگ مانگتے ہیں جو اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان ہی نہیں رکھتے اور ان کے دل شک میں گرفتار ہیں، سو اپنے شک میں پڑے ہوئے حیران ہیں۔ اور اگر ان لوگوں نے چلنے کا ارادہ کیا ہوتا تو اس کا کچھ سامان تو کرتے ، لیکن اللہ نے ان کے جانے کو پسند ہی نہ کیا اس لئے انھیں جما رہنے دیا اور کہہ دیا گیابیٹھنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔ اگر یہ لوگ تمہارے شامل ہو کر چلتے تو تمھارے درمیان فساد بھی بڑھاتے، یعنی تمھارے درمیان فتنہ پردازی کی فکر میں دوڑے دوڑے پھرتے۔ اور تمھارے درمیان ان کے جاسوس(اب بھی) موجود ہیں، اور اللہ ظالموں سے خوب واقف ہے‘‘۔(توبہ؍ آیت:۴۳ تا ۴۷)

 

قُلْ أَنفِقُوا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا لَّن يُتَقَبَّلَ مِنكُمْ ۖ إِنَّكُمْ كُنتُمْ قَوْمًا فَاسِقِينَ ﴿٥٣﴾ وَمَا مَنَعَهُمْ أَن تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقَاتُهُمْ إِلَّا أَنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّـهِ وَبِرَسُولِهِ وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَىٰ وَلَا يُنفِقُونَ إِلَّا وَهُمْ كَارِهُونَ ﴿٥٤﴾فَلَا تُعْجِبْكَ أَمْوَالُهُمْ وَلَا أَوْلَادُهُمْ ۚ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّـهُ لِيُعَذِّبَهُم بِهَا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ أَنفُسُهُمْ وَهُمْ كَافِرُونَ ﴿٥٥﴾ وَيَحْلِفُونَ بِاللَّـهِ إِنَّهُمْ لَمِنكُمْ وَمَا هُم مِّنكُمْ وَلَـٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ يَفْرَقُونَ ﴿٥٦﴾﴿سورة التوبة ٥٣-٥٦﴾


اور فرمایا۔۔۔’’آپ کہدیجئے کہ تم خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشی سے تم سے کسی طرح قبول نہ کیا جائے گا، کیونکہ تم نافرمان لوگ ہو۔ اور اس سے کہ ان کے چندے قبول کئے جائیں کوئی امر مانع نہیں بجز اس کے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے۔ اور یہ لوگ نماز نہیں پڑھتے مگر ہارے جی کے ساتھ اور خرچ نہیں کرتے مگر ناگواری کے ساتھ۔ سو ان کے مال اور ان کی اولاد آپ کو حیرت میں نہ ڈالیں۔ اللہ کو تو بس یہ منظور ہے کہ ان ہی (نعمتوں )کے ذریعہ سے انھیں دنیا کی زندگی میں بھی عذاب دیتا رہے، اور ان کی جانیں ایسی حالت میں نکالی جائیں کہ وہ کافر ہوں۔ یہ لوگ اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ وہ تم میں سے ہیں، حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ،لیکن (ہے یہ کہ) وہ بزدلے لوگ ہیں‘‘(توبہ؍ آیت:۵۳ تا ۵۶)

الْمُنَافِقُونَ وَالْمُنَافِقَاتُ بَعْضُهُم مِّن بَعْضٍ ۚ يَأْمُرُونَ بِالْمُنكَرِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوفِ وَيَقْبِضُونَ أَيْدِيَهُمْ ۚ نَسُوا اللَّـهَ فَنَسِيَهُمْ ۗ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ﴿٦٧﴾ وَعَدَ اللَّـهُ الْمُنَافِقِينَ وَالْمُنَافِقَاتِ وَالْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ هِيَ حَسْبُهُمْ ۚ وَلَعَنَهُمُ اللَّـهُ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّقِيمٌ ﴿٦٨﴾﴿ سورة التوبة ٦٧-٦٨﴾
اور فرمایا۔۔۔’’منافق مرد اور منافق عورتیں(سب) ایک ہی طرح کے ہیں، بری بات کا حکم دیتے رہتے ہیں اور اچھی بات سے روکتے رہتے ہیں، اور اپنے ہاتھوں کو بند رکھتے ہیں انھوں نے اللہ کو بھلا دیا سو اس نے انھیں بھلا دیا، بے شک منافقین بڑے ہی نافرمان ہیں۔ اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں سے اور کافروں(سب)سے دوزخ کی آگ کا عہد کررکھا ہے، اس میں وہ ہمیشہ پڑے رہیں گے، وہی ان کے لئے کافی ہے، اور اللہ ان پر لعنت کرے گا اور ان کے لئے عذابِ دائم ہے‘‘۔(توبہ؍ آیت:۶۷ ؍ ۶۸)

وَمِنْهُم مَّنْ عَاهَدَ اللَّـهَ لَئِنْ آتَانَا مِن فَضْلِهِ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُونَنَّ مِنَ الصَّالِحِينَ ﴿٧٥﴾ فَلَمَّا آتَاهُم مِّن فَضْلِهِ بَخِلُوا بِهِ وَتَوَلَّوا وَّهُم مُّعْرِضُونَ ﴿٧٦﴾ فَأَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِي قُلُوبِهِمْ إِلَىٰ يَوْمِ يَلْقَوْنَهُ بِمَا أَخْلَفُوا اللَّـهَ مَا وَعَدُوهُ وَبِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ ﴿٧٧﴾﴿ سورة التوبة ٧٥-٧٧﴾

اور فرمایا۔۔۔’’اور ان میں وہ بھی ہیں جو اللہ سے عہد کرتے ہیں کہ اگر وہ اپنے فضل سے ہمیں(مال) عطا کردے تو ہم خوب(اس میں سے تصدق) کریں گے اور ہم خوب نیک کام کیا کریں۔ پھر جب ان کو اللہ نے اپنے فضل سے (مال) دیدیا تو لگے وہ اس میں بخل کرنے اور روگردانی کرنے اور منہ پھیرے ہوئے تو وہ تھے ہی۔ سو (اللہ نے ) ان کی سزا مین ان کے قلوب مین نفاق قائم کردیا جو اس کے پاس جانے کے دن تک رہے گا، اس سبب سے کہ انھوں نے اللہ سے اس کے خلاف کیا جو کچھ اس سے وعدہ کرچکے تھے،اور اس لئے کہ وہ جھوٹ بولتے رہے‘‘۔(توبہ؍۷۵ تا ۷۷)
(ترجمہ:۔ بحوالہ تفسیر ماجدی)

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES