dushwari

اللہ پر کامل بھروسہ

درسِ قرآن  ( نمبر   9 )

اللہ پر کامل بھروسہ


اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے، جسکا ترجمہ یہ ہے کہ’’ اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کئے ہم انکو جنت میں جگہ دینگے بالاخانوں پر جنکے نیچے ندیاں بہہ رہی ہونگی، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے، کیا اچھا اجر ہے نیک کام کرنے والوں کا ، جنہوں نے صبر کیا اور وہ اپنے پروردگارپر توکل رکھتے ہیں۔ (سورہ عنکبوت:۵۸ تا ۵۹/تفسیر ماجدی/ج:۵/ص:۲۲۴)


تفسیر: ’’وعلی ربہم یتوکلون‘‘۔بڑی بات ان نیک اور صالح بندوں میں یہ ہوتی ہے کہ وہ آخری اعتمادچھوٹی بڑی ہر چیز میں اللہ ہی پر رکھتے ہیں۔۔۔ سلسلۂ اسباب کے وہ منکر نہیں، اسباب ظاہری سے بھی پوری طرح کام لیتے ہیں، لیکن اصؒ ی اور آخری بھروسہ ان پر نہیں بلکہ مسبب الاسباب ہی پر رکھتے ہیں۔
ایک جگہ ارشاد ہے: ’’وعلی اللہ فلیتوکل المتوکلون‘‘۔ )  سورہ اٰل عمران:۱۶۰/تفسیر ماجدی/ج:۵/ص:۲۲۵)
اور ایمان والوں کو چاہئے کہ صرف اللہ پر بھروسہ رکھیں۔( تفسیر ماجدی/ج:۱/ص:۶۷۴ (
سورۂ طلاق میں ارشاد ہے: ’’ومن یتوکل علی اللہ فہو حسبہ‘‘۔اور جو کوئی بھروسہ رکھے اللہ پر تو اسکو کافی ہے۔
)
سورہ طلاق:۳/معارف القرآن/ج:۸/ص:۴۷۲ (
تفسیر: یعنی جو شخص اللہ پر توکل اور بھروسہ کریگا اللہ اسکی مہمات کے لئے کافی ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے کام کو جس طرح چاہے پورا کرکے رہتا ہے اس نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر دیا ہے۔ اسی کے مطابق سب کام ہوتے ہیں۔ ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت عمر بن خطاب سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے۔۔۔ اگر تم اللہ پر توکل کرتے جیسا کہ اسکا حق ہے تو بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں اس طرح رزق دیتا ہے جیسا پرندے جانوروں کو دیتا ہے کہ صبح کو اپنے گھونسلوں سے بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھرے ہوئے واپس ہوتے ہیں۔ اور صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابن عباسؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں سے ستر ہزار آدمی بے حساب جنت میں داخل ہونگے ۔انکے اوصاف میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ اللہ پر توکل کرنے والے ہونگے۔ ( مظہری )
توکل کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے پیدا کئے ہوئے اسباب و آلات کو چھوڑدے۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ اسباب اختیار یہ کو ضرور اختیار کرے مگر بھروسہ اسباب پر کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ پر کرے کہ جبتک اس کی مشیت و ارادہ نہ ہوجائے کوئی کام نہیں ہوسکتا۔
( معارف القرآن/ج:۸/ص:۴۸۸ )

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES