Print this page

اپنے رب کی تعریف کر

درسِ قرآن   (  نمبر   8  )

اپنے رب کی تعریف کر

الحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ { سورہ الفاتحہ 1 }ساری تعریف اللہ کے لئے ہے(وہ) جہانوں کا مربی (ہے)
 ) تفسیر ماجدی/ج:
۱/ص:۵۵ (
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ ثُمَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ { سورہ الانعام 1}

ہر تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تاریکیوں اور روشنی کو بنایا اس پر بھی جو کافر ہیں وہ اپنے پروردگار کے برابر دوسروں کو ٹہرارہے ہیں۔ ) تفسیر ماجدی/ج:۲/ص:۱۶۲(
ایک جگہ ارشاد ہے :(
’’وَقُلِ اَلحَمدُلِلّٰہِ الَّذِی لَم يتَّخِذ وَلَدًا وَّلَم يکُن لَہُ شَرِیکٌ فِی المۃلکِ وَلَم يکُن لَّہُ وَلِیٌّ مِّنَ الذُلِّ وَکَبِّرہُ تَکبِیرًا‘‘(سورہ بنی اسرائیل/۱۱۱))اور آپ کہئے کہ ساری حمد اسی اللہ کے لئے ہے جس نے نہ کسی کو بیٹا بنایا ہے اور نہ حکومت میں کوئی اس کا شریک ہے اور نہ کوئی کمزوری کی وجہ سے اس کا مددگار ہے اور اس کی خوب بڑائیاں بیان کیجئے۔)  تفسیر ماجدی/ج:۴/ص:۸۸ (

قرآن میں ہے:(
’’وَقَالُواالحَمدُ لِلّٰہِ الَّذِی ہَدَانَا لِہٰذَا وَمَا کُنَّا لِنَہتَدِیَ لَولَا أَن ہَدَانَااللّٰہُ‘‘(سورۃ الاعراف/۴۳))اور وہ لوگ کہیں گے(جنتی لوگ جنت میں پہنچنے کے بعد) ساری تعریف ہے اللہ کے لئے جس نے ہم کو اس مقام تک پہنچادیا اور ہم تو(کبھی بھی یہاں تک) نہ پہنچتے اگر اللہ نے ہم کو نہ پہنچا دیا ہوتا۔ ( تفسیر ماجدی/ج:۲/ص:۳۱۷ )
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (’’وَسَلَامٌ عَلَی المُرسَلِین، وَالحَمدُلِلّٰہِ رَبِّ العَالَمِینَ‘‘(سورۃ الصافات/
۱۸۱تا۱۸۲))اور تمام تر تعریف اللہ کی ہے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔ ( آسان ترجمہ قرآن/مفتی محمد تقی عثمانی/ج:۳/ص:۱۳۸۷ )
ایک جگہ ارشاد ہے :(
’’لَہُ الحَمدُ فِی الأُولیٰ وَالآخِرَۃ، وَلَہُ الحَکمُ وَاِلَیہِ تُرجَعُونَ‘‘(سورہ قصص/۷۰) (سب) تعریف اسی کی ہے دنیا(میں بھی)اور آخرت میں (بھی) حکومت بھی اسی کی ہے اور اسی کے پاس تم (سب) لوٹ کر جاؤگے۔
(تفسیر ماجدی/ج:
۵/ص:۱۷۱)
ایک جگہ ارشاد ہے:(
’’اَلحَمدُلِلّٰہِ الّذِی أَنزَلَ عَلیٰ عَبدِہِ الکِتَابَ وَلَم يَجعَل لَّہُ عِوَجًا‘‘(سورۃ الکہف/۱) ساری خوبی اللہ کے لئے ہے جس نے اپنے بندہ(خاص) پر کتب نازل کی اور اس میں (ذرا) کجی نہیں رکھی۔(تفسیر ماجدی/ج:۴/ص:۹۱ )
ایک جگہ ارشاد ہے:
(’’يَومَ يَدعُوکُم فَتَستَجِیبُونَ بِحَمدِہِ وَتَظُنُّونَ إن لَّبِثتُم إلَّا قَلِیلًا‘‘(سورۃ بنی اسرائیل/۵۲) تہ اس روز ہوگا جب اللہ تمہیں پکاریگا سو تم اسکی حمد کرتے ہوئے حکم کی تعمیل کروگے اور تم اسی خیال میں رہوگے کہ تم رہے ہی کتنا کم تھے۔
( تفسیر ماجدی/ج:
۴/ص:۴۷ )