dushwari

جو اللہ کا ، اللہ اس کا

وَقَالَ اللَّهُ إِنِّي مَعَكُمْ لَئِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلَاةَ وَآَتَيْتُمُ الزَّكَاةَ وَآَمَنْتُمْ بِرُسُلِي وَعَزَّرْتُمُوهُمْ وَأَقْرَضْتُمُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا لَأُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَلَأُدْخِلَنَّكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ {سوره مائدة 12}

ترجمہ: اور اللہ نے (ان سے یہ بھی) کہہ دیا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں
تفسیر: یہ معیت الہی کا تصور ایک خدا پرست قوم کے لئے کس درجہ ہمت آفریں و شوق افزا ہے! دل اسکے بعد کس قدر قوی اور مطمئن ہوجاتا ہے، اور شکست کا کوئی سوال بھی اسکے بعد ذہن کے سامنے نہیں آسکتا، آج ایک بڑا حاکم اگر رعایا کے ایک معمولی فرد سے کہہ دے کہ گھبرانا مت ہم تمہارے ساتھ رہینگے تو اسے کس قدر قوت و اطمینان حاصل ہوجائے، چہ جائیکہ یہاں خالق کائنات ، مالک الملک، حالم علی الاطلاق اپنی معیت کا یقین دلا رہا ہے، تسکین و اطمینان کا کوئی درجہ اسکے بعد کیا ہوسکتا ہے؟ یہ ایک پہلو تھا۔ اب دوسرے پہلو سے دیکھئے، کوئی معصیت اس استحضار معیتِ الہی کے بعد بندہ سے ممکن ہے؟ جہاں کوئی اپنے سے ذرا بڑا نگرانی کے لئے پاس موجود رہتا ہے، جب تو اسکی مروت لحاظ یا دباؤ سے ہم اپنے اوپر قابو حاصل کرلیتے ہیں اور کوئی کوتاہی یا لغزش اپنے سے سرزد نہیں ہونے دیتے، چہ جائیکہ ہمہ بیں و ہمہ تواں، مالک و مولیٰ کی معیت کا استحضار! کوئی معصیت بھی اسکے بعد ممکن رہ جاتی ہے۔
غرض ترغیب و ترہیب کے جس اعتبار سے بھی دیکھا جائے معیت الہی کا مراقبہ بہتریب اور مؤثر ترین ہے ۔ محققین نے یہ بھی صاف کردیا ہے کہ معیت سے یہاں مراد معیت جسمانی نہیں جیسے مخلوق کے درمیان ہوتی ہے۔ بلکہ احاطۂ علم و قدرت و نصرت کے لحاظ سے ہے۔
( تفسیر ماجدی/ج:۲/ص:۳۶ )
’’
وقال اللہ انّی معکم‘‘ ایک جامع تعبیر ہے، خدا کی تایید و نصرت کے وعدے کی۔ ظاہر ہے کہ جن کے ساتھ خدا ہو انکے ساتھ خدا کیپوری کائنات ہے۔

( تدبر قرآن/ج:۲/ص:۴۷۵ )


Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES