dushwari

 

   درسِ  قرآن  ( نمبر  23 )

 

اللہ تعالیٰ کی یاد میں رہو

 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے 

 


﴿وَاذْكُرِ‌ اسْمَ رَ‌بِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا﴾﴿ سورة المزمل - ٨﴾

 

 


ترجمہ:۔ اور اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کرو، اور سب سے الگ ہوکر پورے کے پورے اسی کے ہو رہو۔(آسان ترجمۂ قرآن: مفتی محمد تقی عثمانی۔ج؍۳۔ص؍۱۸۲۵)
(تفسیر) ذکر میں دونوں باتیں داخل ہیں، زبان سے اللہ تعالیٰ کا ذکر بھی اور دل سے اللہ تعالیٰ کا دھیان رکھنا بھی۔ اور سب سے الگ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دنیا کے سارے تعلّقات چھوڑدو بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان سارے تعلقات پر اللہ تعالیٰ کے تعلّق کو غالب رکھو، یہاں تک کہ دنیا کے تعلّقات بھی اللہ تعالیٰ ہی کے احکام کے مطابق اور اسی کے حکم کی تعمیل میں ہونے چاہئیں،اسی طرح وہ تعلّقات بھی اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہوجائیں گے۔(آسان ترجمۂ قرآن: مفتی محمد تقی عثمانی۔ج؍
۳۔ص؍۱۸۲۶)
۔۔۔مراد آیت کی یہ ہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو حکم دیا گیا کہ ذکر اللہ کو شب وروز ہمہ وقت جاری رکھیں، اس میں نہ کبھی ذہول ہونا چاہیے نہ سستی۔ اور یہ مراد اسی وقت ہوسکتی ہے جبکہ ذکر اللہ سے مراد عام لیا جائے خواہ زبان سے ہو یا قلب سے یا اعضاء وجوارح کو اللہ تعالیٰ کے احکام میں مشغول رکھنے سے۔۔۔۔
اس آیت میں ذکر اللہ کے حکم کو لفظ اسم کے ساتھ مقیّد کرکے واذکر اسم ربّک فرمایا ہے، واذکر ربّک نہیں فرمایا۔ اسمیں اشارہ اس طرف نکلتا ہے کہ اسم رب یعنی اللہ اللہ کا تکرار بھی مطلوب ومامور بہ ہے۔(مظہری) بعض علماء نے جوصرف اسم ذات اللہ اللہ کے تکرار کو بدعت کہدیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ اس کو بدعت کہنا صحیح نہیں۔ واللہ اعلم(معارف القرآن :ج؍
۸۔ ص؍۵۹۳،۵۹۴)
پھر فرمان ہے کہ اپنے رب کے نام کا ذکر کرتا رہ اور اس کی عبادت کے لئے فارغ ہوجا، یعنی امور دنیا سے فارغ ہوکر دلجمعی اور اطمینان کے ساتھ بہ کثرت اس کا ذکر کر، اس کی طرف مائل اور سراسر راغب ہوجا۔ جیسے اور جگہ ہے فاذا فرغت فانصب یعنی جب اپنے شغل سے فارغ ہو تو ہماری عبادت محنت سے بجالاؤ۔ اخلاص ،فارغ البالی، کوشش، محنت، دل لگی اور یکسوئی سے خدا کی طرف جھک جاؤ۔ ایک حدیث میں ہے کہ حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے تبتّل سے منع فرمایا یعنی بال بچّے اور دنیا کو چھوڑ دینے سے۔ یہاں مطلب یہ ہے کہ علائق دنیوی سے کٹ کر خدا کی عبادت میں توجہ اور انہماک کا وقت بھی ضرور نکالا کرو۔۔۔(تفسیر ابن کثیر اردو:ج؍
۵۔ پارہ؍۲۹۔ص؍۶۲)

 

 

   درسِ  قرآن  ( نمبر  22 )

 

ریا سے اجتناب

 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے 

 


فَمَن كَانَ يَرْ‌جُو لِقَاءَ رَ‌بِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِ‌كْ بِعِبَادَةِ رَ‌بِّهِ أَحَدًا ﴿سورة الكهف- ١١٠﴾

 

 

ترجمہ: سو جو کوئی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو رکھتا ہے تو اسے چاہیے کہ نیک کام کرتا رہے، اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے(تفسیر ماجدی۔ج؍۴ :ص؍۱۶۸)
تفسیر:۔ اور شرک کے اندر شرک خفی اور شرک کی ساری صورتیں آگئیں۔
  فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا اور عمل کے صالح کا معیار یہ ہے کہ عمل شریعت اسلامی کے مطابق ہو۔
وَلَا يُشْرِ‌كْ بِعِبَادَةِ رَ‌بِّهِ أَحَدًا یعنی عمل کا کم از کم نقطۂ آغاز تو صحیح ہو۔ ایمانیات کا جو اقل قلیل مطالبہ ہے وہ تو بہر حال موجود ہو۔
آیت میں امیدوارِ مغفرت کو ایک مختصر وجامع دستور العمل بتادیا گیا، یعنی اسے چاہیے کہ (
۱) توحید پر قائم رہے (۲) اور عملِ صالح میں لگا رہے۔(بحوالہ سابق)
ولا یشرک بعبادۃ ربّہٓ احدا، کا شان نزول جو روایات حدیث میں مذکور ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں شرک سے مراد شرکِ خفی یعنی ریا ہے۔
امام حاکمؒ نے مستدرک میں حضرت عبد اللہ بن عبّاسؓ سے یہ روایت نقل کی ہے، اور اس کو صحیح علیٰ شرط الشّیخین فرمایا ہے، روایت یہ ہے کہ: مسلمانوں میں سے ایک شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرتا تھا، اس کے ساتھ اسکی یہ خواہش بھی تھی کہ لوگوں میں اس کی بہادری اور غازیانہ عمل پہچانا جائے، اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی(جس سے معلوم ہوا کہ جہاد میں ایسی نیّت کرنے سے جہاد کا ثواب نہیں ملتا)۔
اور ابن حاتم اورابن ابی الدنیا نے کتاب الاخلاص میں طاؤسؒ سے نقل کیا ہے کہ ایک صحابی نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم سے ذکر کیا کہ میں بعض اوقات کسی نیک کام کے لئے یاعبادت کے لئے کھڑا ہوتا ہوں اور میرا قصد اس سے اللہ تعالیٰ ہی کی رضا ہوتی ہے ،مگر اس کے ساتھ دل میں یہ خواہش بھی ہوتی ہے کہ لوگ میرے عمل کو دیکھیں۔ آپؐ نے یہ سن کر سکوت فرمایا، یہاں تک کہ یہ آیتِ مذکورہ نازل ہوئی۔ خلاصہ ان تمام روایات کا یہی ہے کہ اس آیت میں جس شرک سے منع کیا گیا ہے وہ ریاکاری کا شرک خفی ہے۔ اور یہ کہ اگرچہ عمل اللہ ہی کے لئے ہو،مگر اس کے ساتھ کوئی نفسانی غرض شہرت ووجاہت کی بھی شامل ہو تو یہ بھی ایک قسم کا شرک خفی ہے، جو انسان کے عمل کو ضائع بلکہ مضرّت رساں بنا دیتا ہے(۔۔۔یہ اس صورت میں ہے جب کہ انسان اپنے عمل سے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے ساتھ مخلوق کی رضا جوئی یا اپنی شہرت ووجاہت کی نیّت کو بھی شریک کرے، یہاں تک کہ لوگوں کی تعریف کرنے پر اپنے اس عمل کو اور بڑھا دے، یہ بلا شبہ ریا اور شرک خفی ہے)۔
 

 

   درسِ  قرآن  ( نمبر  19 )

زبان کی حفاظت

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے  ﴿مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَ‌قِيبٌ عَتِيدٌ ﴾﴿سورة ق - ١٨﴾

ترجمہ: ’’انسان کوئی لفظ زبان سے نکال نہیں پاتا، مگر اس پر ایک نگراں مقرر ہوتا ہے، ہر وقت (لکھنے کے لئے) تیار‘‘۔(ترجمہ بحوالہ: آسان ترجمۂ قرآن:مفتی محمد تقی عثمانی ۔ج؍۳)

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES