Print this page

ظالم کو معاف کرنا

   درسِ  حديث  ( نمبر 26 )

ظالم کو معاف کرنا 

*۔۔۔حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ابوبکر(رضی اللہ عنہ) کو گالیاں دیں، اور رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم تشریف فرما تھے(اور آپ اس شخص کے مسلسل گالیاں دینے پر اور ابوبکر کے صبر کرنے اور خاموش رہنے پر)تعجّب اور تبسّم فرما رہے تھے، پھر جب اس آدمی نے بہت ہی زیادہ گالیاں دیں(اور زبان کو روکا ہی نہیں) تو ابوبکرؓ نے بھی اس کی بعض باتوں کو اس پر الٹ دیا اور کچھ جواب دیا۔ پس رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کچھ ناراضی کے ساتھ وہاں سے اٹھ کر چلدئے(حضرت ابوبکرؓ کو اس سے بہت فکر لاحق ہوئی، اور وہ بھی معذرت کے لئے اور حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کی ناراضی کا سبب معلوم کرنے کے لئے آپ کے پیچھے چلے) پس ابوبکرؓ آپ کے پاس پہونچے اور عرض کیا یارسول اللہ!(یہ کیا بات ہوئی ،کہ) وہ شخص مجھے گالیاں دیتا رہا اور آپ وہاں تشریف فرما رہے، پھر جب میں نے کچھ جواب دیا تو حضور ناراض ہوکر اٹھ آئے؟ آپ ؐ نے ارشاد فرمایا: جب تک تم خاموش تھے اور صبر کررہے تھے، تمھارے ساتھ اللہ کا ایک فرشتہ تھا، جو تمھاری طرف سے جوابدہی کررہا تھا، پھر جب تم نے خود جواب دیا، تو(وہ فرشتہ تو چلا گیا،اور)شیطان بیچ میں آگیا(کیونکہ اسے امید ہوگئی کہ وہ لڑائی کو اور آگے بڑھاسکے گا)

اس کے بعد آپؐ نے فرمایا: اے ابوبکر تین باتیں ہیں جو سب کی سب بالکل حق ہیں: پہلی بات یہ ہے کہ جس بندے پر کوئی ظلم وزیادتی کی جائے اور وہ محض اللہ عزّ وجلّ کے لئے اس سے درگزر کرے(اور انتقام نہ لے)تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں اس کی بھرپور مدد فرمائیں گے۔ دنیا وآخرت میں اس کو عزّت دیں گے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ جو شخص صلہ رحمی کے لئے دوسروں کو دینے کا دروازہ کھولے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس کو اور بہت زیادہ دیں گے۔ اور تیسری بات یہ ہے کہ جو آدمی (ضرورت سے مجبور ہوکر نہیں، بلکہ)اپنی دولت بڑھانے کے لئے سوال اور گداگری کا دروازہ کھولے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کی دولت کو اور زیادہ کم کردیں گے۔(مسند احمد)

(تشریح) انصاف کے ساتھ ظلم کا بدلہ لینا اگرچہ جائز ہے، لیکن فضیلت اور عزیمت کی بات یہی ہے کہ بدلہ لینے کی قدرت کے باوجود محض اللہ کے لئے معاف کردے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ چونکہ اخص الخواص میں سے تھے، اس لئے آپؐ نے ان کی طرف سے تھوڑی سی جوابدہی کو بھی پسند نہیں فرمایا۔

قرآن مجید میں بھی فرمایا گیا ہے:﴿ وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا ۖ فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّـهِ ۚ﴾’’اور برائی کا (قانونی) بدلہ اسی کی مثل برائی ہے(یعنی جس درجہ کی زیادتی کسی نے کی، اس کے بدلے میں اس کے ساتھ اسی درجہ کی زیادتی کی قانوناً اجازت ہے، لیکن)اللہ کا جو بندہ انتقام نہ لے، اور معاف کردے اور صلح واصلاح کی کوشش کرے تو اس کا خاص اجر وثواب اللہ کے ذمّہ ہے۔)معارف الحدیث۔ج؍۲:ص؍۱۸۴(