dushwari

بعض صفات اہلِ نفاق کے

   درسِ  حديث  ( نمبر 25 )

بعض صفات اہلِ نفاق کے 

*۔۔۔حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ: چار عادتیں ایسی ہیں کہ جس میں وہ چاروں جمع ہوجائیں ،تو وہ خالص منافق ہوگا، اور جس میں ان چاروں میں سے کوئی ایک خصلت ہو تو اس کا حال یہ ہے کہ اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے،اور وہ اسی حال میں رہے گا جب تک کہ اس عادت کو نہ چھوڑدے۔ وہ چار عادتیں یہ ہیں: کہ جب اس کو کسی امنت کا امین بنایا جائے تو اس میں خیانت کرے، اور جب باتیں کرے تو جھوٹ بولے، اور جب عہد ومعاہدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے، اور جب کسی سے جھگڑا اور اختلاف ہو تو بدزبانی کرے۔
’’بخاری ومسلم‘‘(معارف الحدیث :ج؍۱۔ص؍۱۵۶)
*۔۔۔حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ: جو شخص اس حال میں مرا کہ نہ تو اس نے کبھی جہاد کیا اور نہ اپنے جی میں اس کی تجویزیں سوچیں اور تمنّا کی تو وہ نفاق کی ایک صفت پر مرا۔(مسلم)
(تشریح) یعنی ایسی زندگی جس میں دعوائے ایمان کے باوجود نہ کبھی راہِ خدا میں جہاد کی نوبت آئے، اور نہ دل میں اس کا شوق اور اس کی تمنّا ہو، یہ منافقوں کی زندگی ہے، اور جو اسی حال میں ا س دنیا سے جائے گا وہ نفاق کی ایک صفت کے ساتھ جائے گا۔(بحوالہ سابق:ص؍۱۵۸)
*۔۔۔حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایاکہ: یہ تو منافق والی نماز ہے کہ بے پروائی سے بیٹھا آفتاب کو دیکھتا رہا یہاں تک کہ جب وہ زرد ہوگیا، اور اس کے غروب کا وقت آگیا، تو نماز کو کھڑا ہوا اور چڑیا کی طرح چار چونچیں مار کر ختم کردی، اور اللہ کا ذکر بھی اس میں بہت تھوڑا کیا۔ (مسلم)
(تشریح)۔۔۔۔۔۔منافقوں کا رویّہ یہ ہوتا ہے کہ وہ نماز ان کے لئے ایک بوجھ ہوتی ہے، وقت آجانے پر بھی اس کو ٹالتے رہتے ہیں، مثلاً عصر کی نماز کے لئے اس وقت اٹھتے ہیں جب سورج بالکل ڈوبنے کے قریب ہوجاتا ہے، اور بس چڑیا کی سی چار چونچیں مار کے نماز پوری کردیتے ہیں، اور اللہ کا نام بھی بس برائے نام ہی لیتے ہیں۔۔۔۔

*۔۔۔حضرت عثمان بن عفّانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ : جو شخص مسجد میں ہو اور اذان ہوجائے اور وہ اس کے بعد بھی بلا کسی خاص ضرورت کے مسجد سے باہر چلا جائے، اور وہ نماز میں شرکت کے لئے واپسی کا ارادہ بھی نہ رکھتا ہو، تو وہ منافق ہے(ابن ماجہ)
(تشریح) مطلب یہ ہے کہ یہ منافقانہ طرزِ عمل ہے۔ پس ایسا کرنے والا اگر عقیدے کا منافق نہیں ہے تو وہ ’’منافق عملی‘‘ ہے۔ (بحوالہ سابق:ص؍۱۵۹)

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES