dushwari

والدین کے ساتھ حسن سلوک

   درسِ  حديث  ( نمبر 21 )

والدین کے ساتھ حسن سلوک

 حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم سے پوچھا کہ: حضرت! اولاد پر ماں باپ کا کتنا حق ہے؟ آپ ؐ نے فرمایا کہ وہ تمھاری جنّت اور دوزخ ہیں۔(سنن ابن ماجہ)

   

*۔۔۔تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر تم ماں باپ کی فرمانبرداری وخدمت کرو گے اور ان کو راضی رکھو گے، تو جنّت پالو گے اور اس کے برعکس اگر ان کی نافرمانی اور ایذا رسانی کرکے انھیں ناراض کرو گے اور ان کا دل دکھاؤ گے تو پھر تمھارا ٹھکانا دوزخ میں ہوگا۔(معارف الحدیث:ج؍۶۔ص؍۴۵)

*۔۔۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: وہ آدمی ذلیل ہو، وہ خوار ہو،وہ رسوا ہو، عرض کیا گیا یا رسول اللہ کون؟(یعنی کس کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا گیاہے)آپؐ نے فرمایا: وہ بدنصیب جو ماں باپ کو یا دونوں میں سے کسی ایک ہی کو بڑھاپے کی حالت میں پائے پھر(ان کی خدمت اور ان کا دل خوش کرکے)جنّت حاصل نہ کرلے۔(صحیح مسلم(

)تشریح) حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث اوپر درج ہوچکی ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ ماں باپ تمھاری جنّت اور تمھاری دوزخ ہیں(یعنی ماں باپ کی خدمت اور راحت رسانی جنّت حاصل کرنے کاخاص وسیلہ ہے۔ اوراس کے برعکس ان کی نافرمانی اور ایذا رسانی آدمی کو دوزخی بنا دیتی ہے)۔پھر یہ بھی ظاہر ہے کہ ماں باپ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ کے از کاررفتہ ہوجائیں تو اس وقت وہ خدمت اور راحت رسانی کے اور زیادہ محتاج ہوتے ہیں، اور اس حالت میں ان کی خدمت اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہایت محبوب اور مقبول عمل اور جنّت تک پہنچنے کا سیدھا زینہ ہے۔ پس اللہ تعالیٰ جس بندے کو اس کا موقعہ میسّرفرمائے اور وہ ماں باپ کا یا دونوں میں سے کسی ایک ہی کا بڑھاپا پائے اور پھر ان کی خدمت کرکے جنّت تک نہ پہونچ سکے، بلاشبہ وہ بڑا بدنصیب اور محروم ہے، اور ایسوں کے حق میں رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کا فرمانا ہے کہ وہ نامراد ہوں، ذلیل وخوار ہوں،رسوا ہوں۔(بحوالہ سابق:ص؍۴۸(

*۔۔۔حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں جہاد میں جانا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کیا تمھارے ماں باپ ہیں؟ اس نے کہا : ہاں ہیں۔ آپ ؐ نے فرمایا: تو پھر ان کی خدمت اور راحت رسانی میں جدوجہدکرو(یہی تمہارا جہاد ہے)۔(سنن ابی داؤد(

)تشریح( غالباً رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم پر یہ بات منکشف ہوگئی تھی ہیا کسی وجہ سے اس کے بارے میں یہ شبہ ہوگیا تھا کہ کہ اس آدمی کے ماں باپ اس کی خدمت کے محتاج ہیں، اور یہ ان کو چھوڑ کے ان کی اجازت کے بغیر جہاد کے لئے آگیا ہے۔ اس لئے آپ نے اس کو حکم دیا کہ وہ گھر واپس جاکر ماں باپ کی کدمت کرے، کیونکہ ایسی حالت میں اس کے لئے ماں باپ کی خدمت مقدّم ہے۔

اس حدیث سے یہ نتیجہ نکالنا غلط ہوگا کہ جس کسی کے ماں باپ ہوں وہ جہاد اور دین کی کسی خدمت کے لئے کبھی گھر سے باہر نہ نکلے اور صرف وہی لوگ جہاد میں اور دین کی خدمت میں لگیں جن کے ماں باپ نہ ہوں۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے ساتھ جو صحابہ کرامؓ جہاد کرتے تھے ان میں بڑی تعداد انہی کی ہوتی تھی جن کے ماں باپ زندہ ہوتے تھے۔(بحاولہ سابق؍۴۹)

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES