dushwari

اللہ پر کامل بھروسہ

درسِ حدیث  ( نمبر   9 )

اللہ پر کامل بھروسہ

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے زمانہ میں اللہ کا ایک بندہ اپنے اہل وعیال کے پاس پہنچاجب اس نے انکو فقروفاقہ کی حالت میں دیکھاتو (الحاح کے ساتھ اللہ سے دعا کرنے کے لئے) جنگل کی طرف چل دیا، جب اسکی نیک بی بی نے دیکھا( کہ شوہر اللہ تعالٰی سے مانگنے کے لئے گئے تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم پر بھروسہ کرکے اس نے تیاری شروع کردی)وہ اٹھ کر چکی کے پاس آئی اور اسکو تیار کیا(تاکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے کہیں سے کچھ غلہّ آئے تو جلدی سے اسکو پیسا جاسکے) پھر وہ تنور کے پاس گئی اور اسکو گرمکیا(تاکہ آٹا پس جانے کے بعد پھر روٹی پکانے میں دیر نہ لگے)۔ پھر اسنے خود بھی دعا کی اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ ائے مالک ہمیں رزق دے۔ اب اسکے بعد اس نے دیکھا کہ چکی کے ارد گرد آٹے کے لئے جو جگہ بنی ہوتی ہے (جس کو چکی کا گرانڈ اور کہیں کہیں چکی کی پِھر بھی کہتے ہیں) وہ آٹے سے بھری ہوئی ہے۔ پھر وہ تنور کے پاس گئی تو دیکھا کہ تنور بھی روٹیوں سے بھرا ہوا ہے(اور جتنی روٹیاں اس میں لگ سکتی ہیں لگی ہوئی ہیں) اسکے بعد اس بیوی کے شوہر واپس آئے اور بیوی سے پوچھا کہ میرے جانے کے بعد تم نے کچھ پایا؟ بیوی نے بتایا کہ ہاں، ہمیں اپنے پروردگار کی طرف سے ملا ہے(یعنی براہ راست خزانۂ غیب سے اس طرح ملا ہے)یہ سن کر یہ بھی چکی کے پاس گئے(اور اسکو اٹھا کر دیکھا ، یعنی تعجب اور شوق میں اسکا پاٹ اٹھا کر دیکھا) پھر جب یہ ماجرا رسول اللہﷺ سے ذکر کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ معلوم ہونا چاہئے کہ اگر یہ اسکو اٹھا کر نہ دیکھتے تو چکی قیامت تک یوں ہی چلتی رہتی اور اس سے ہمیشہ آٹا نکلتا رہتا۔(مسند احمد)
تشریح: اس روایت میں جو واقعہ نقل کیا گیا ہے وہ خوارق کے قبیل سے ہے۔ اس دنیا میں عام طور سے اللہ تعالیٰ کی عطائیں اسباب ہی کے سلسلہ سے ملتی ہیں ، لیکن کبھی کبھی اللہ کی قدرت کا یہ تماشا بھی ظہور میں آتا ہے کہ عالم اسباب کے عام دستور کے خلاف براہ راست اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ایسے واقعات ظاہر ہوتے ہیں۔بے شک اللہ تعالیٰ جو زمیں و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے اسکے لئے یہ کچھ بھی مشکل نہیں۔ پھر اس قسم کے واقعات اگر اللہ کے کسی پیغمبر کے ہاتھ ظاہر ہوں تو انکو معجزہ کہا جات اہے، اور اگر انکے کسی متبع امتی کے ہاتھ پر ایسے واقعہ کا ظہور ہو تو اسکو کرامت کہا جاتا ہے۔
ان دونوں میاں بیوی نے اللہ تعالیٰ پر پوری طرح یقین کرکے اس سے روزی مانگی تھی، اللہ تعالیٰ نے انکی دعا کو اس طرح قبول کیا کہ خارق عادت طریقہ سے انکے لئے رقزی کا سامان بھیجا، غیب سے چکی میں آٹا آگیا اور تنور میں روٹیاں لگ گئیں۔
جو لوگ یقین اور توکل کی دولت سے محروم اور اللہ کی قدرت کی وسعتوں سے ناآشنا ہیں انکے دلوں میں شاید اس قسم کی روایات پر شبہات اور وساوس پیدا ہوتے ہیں، لیکن اللہ کے جن بندوں کو یقین و توکل اور اللہ تعالیٰ کی صفات کی معرفت کا کچھ حصہ ملا ہے انکے لئے تو ایسے واقعات میں کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا اعلان ہے’’ ومن یتوکل علی اللہ فہو حسبہ‘‘۔اور جو کوئی اللہ پر توکل کرے(جیسا کہ توکل کا حق ہے) تو اللہ اسکے لئے اور اس کے کام بنانے کے لئے کافی ہے۔(معارف الحدیث/ج:۲/ص:۳۱۷

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES