dushwari

اپنے رب کی تعریف کرو

درسِ حدیث  ( نمبر  8 )

اپنے رب کی تعریف کرو


ایک حدیث میں آیا ہے کہ جنت کی طرف سب سے پہلے وہ لوگ بلائے جائینگے جو ہر حال میں راحت ہو یا تکلیف اللہ کی تعریف کرنے والے ہوں۔ ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ اللہ جل شانہ کو اپنی تعریف بہت پسند ہے

اور ہونا بھی چاہئے کہ در حقیقت تعریف کی مستحق ذات صرف اللہ ہی کی ہے ۔ غیر اللہ کی تعریف کیا جسکے قبضہ میں کچھ نہیں حتی کہ وہ خود بھی اپنے قبضہ میں نہیں۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ قیامت کے دن افضل بندے وہ ہونگے جو کثرت سے اللہ کی حمد و ثناء کرتے ہوں۔ ایک حدیث میں وارد ہے کہ حمد شکر کی اصل اور بنیاد ہے، جس نے اللہ کی حمد نہیں کیاس نے اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کیا۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ کسی نعمت پر حمد کرنا اس نعمت کے زائل ہوجانے سے حفاظت ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ اگر دنیا ساری کی ساری میری امت میں سے کسی کے ہاتھ میں ہو اور وہ الحمد للہ کہے تو یہ کہنا اس سب سے افضل ہے۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ جب حق تعالیٰ شانہ کوئی نعمت کسی بندہ کو عطا فرماتے ہیں اور وہ اس نعمت پر حمد کرتا ہے تو وہ حمد بڑھ جاتی ہے خواہ نعمت کتنی ہی بڑی ہو۔ایک صحابیؓ حضورﷺ کے پاس بیٹھے تھے ، انہوں نے آہستہ سے الحَمدُ لِلّٰہِ کَثِیرًا طَیِّبًا مُّبَارَکًا فِیہِ کہا۔حضورﷺ نے دریافت فرمایا کہ یہ دعا کس نے پڑھی؟ وہ صحابیؓ اس سے ڈرے کہ شاید کوئی نامناسب بات ہوگئی ہو ۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ کچھ مضائقہ نہیں ہے اس نے بری بات نہیں کی۔ تب ان صحابی نے عرض کیا کہ یہ دعا میں نے پڑھی تھی۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ میں نے تیرہ فرشتوں کو دیکھا ہے کہ ہر ایک ان میں سے اسکی کوشش کرتا تھا کہ اس کلمہ کو سب سے پہلے وہ لے جائے۔ اور یہ حدیث تو مشہور ہے کہ جو مہتم بالشان کام اللہ کی تعریف کے بغیر شروع کیا جائے گا وہ بے برکت ہوگا۔

 ( فضائل اعمال/ج:۱/فضائل ذکر/ص:۱۳۰)

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES