dushwari

جو اللہ کا , اللہ اس کا

’’عن أبی هریرۃ قال قال رسول اللہ إن اللہ تعالیٰ یقول أنا مع عبدی اذا ذکرنی وتحرکت بی شفتاہ‘‘۔(رواہ البخاری) حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ

جس وقت بندہ میرا ذکر کرتا ہے اور میری یاد میں اسکے ہونٹ حرکت کرتے ہیں تو اسوقت میں اپنے اس بندہ کے ساتھ ہوتا ہوں۔(صحیح بخاری (

تشریح: اللہ تعالیٰ کی ایک معیت وہ ہے جو اس کائنات کی ہر اچھی بری چیز کو اور ہر مومن و کافر کو ہر وقت حاصل ہے۔ کوئی چیز بھی کسی وقت اللہ سے دور نہیں، اللہ ہر چیز کو محیط ہے، ہر جگہ اور ہمہ وقت حاضر و ناظر ہے۔ اور ایک معیت رضا اور قبول والی معیت ہے۔ اس حدیث قدسی میں جس معیت کا ذکر ہے وہ یہی رضا اور قبول والی معیت ہے۔ اور حدیث کا مدعا یہ ہے کہ جب میرا بندہ میرا قرب اور میری رضا حاصل کرنے کے لئے میرا ذکر کرتا ہے تو اسکو میرے قرب و رضا کی دولت فورا حاصل ہوجاتی ہے، وہ میری چاہت میں میرا ذکر کرتا ہے اور میں اسوقت اسکے بلکل ساتھ ہوتا ہوں۔ اس طرح اسے وہ دولت نقد مل جاتی ہے جو وہ ذکر کر کے حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس دولت کی طلب، اسکا ذوق و شوق اور پھر وہ دولت نصیب فرمائے۔ ( معارف الحدیث/ج:۵/ص:۳۱  )
حضرت ابوہریرۃؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ میرا معاملہ بندے کے ساتھ اسکے یقین کے مطابق ہے۔ اور میں اسکے بالکل ساتھ ہوتا ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے۔ اگر وہ مجھے اپنے جی میں اس طرح یاد کرے کہ کسی اور کو خبر بھی نہ ہو تو میں بھی اسکو اسی طرح یاد کرونگا۔ اور اگر وہ دوسرے لوگوں کے سامنے مجھے یاد کرے تو میں ان سے بہتر بندوں کی جماعت میں اسکا ذکر کرونگا۔(ملائکہ کی جماعت میں اور انکے سامنے) (صحیح بخاری و صحیح مسلم) (معارف الحدیث/ج:۵/ص:۳۲ )

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES