dushwari

   درسِ  حديث  ( نمبر 22 )

ریا سے اجتناب

 حضرت ابو بردہ ؒ سے روایت ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک غزوہ میں ہم رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے ساتھ گئے۔ ایک اونٹ تھا اس پر یکے بعد دیگرے سوار ہوتے تھے۔ لوگوں کے پاؤں میں سوراخ ہوگئے اور میرے پاؤں کے ناخن تک گرگئے تھے تو ہم لوگوں نے پیروں پر چھتڑے باندھ لیے،اس لیے اس غزوہ کا نام ذات الرّقاع رکھ دیا گیا۔ ابو بردہ کہتے ہیں کہ یہ واقعہ بیان کرکے ابو موسیٰؓ کو افسوس ہوا کہ میں نے یہ تذکرہ کیوں کیا، گویا انھوں نے اپنے نیک عمل کو ظاہر کرنا ناپسند کیا۔(بخاری ومسلم)(زادِ سفر۔ج؍۱:ص؍۲۵۱۔ترجمہ ریاض الصّالحین:از:،امۃ اللہ تسنیم)

   

 

*۔۔۔حضرت عمر بن خطّابؓ سے روایت ہے کہ وہ ایک دن مسجدِ نبوی تشریف لے گئے تو دیکھا حضرت معاذ بن جبلؓ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی قبر مبارک کے پاس بیٹھے رو رہے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے پوچھاآپ کیوں رو رہے ہیں؟ انہوں نے کہا : مجھے ایک بات کی وجہ سے رونا آرہا ہے جو میں نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم سے سنی تھی۔ آپ ؐ نے ارشاد فرمایا تھا: تھوڑا سا دکھاوا بھی شرک ہے، اور جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے کسی دوست سے دشمنی کی تو اس نے اللہ تعالیٰ کو جنگ کی دعوت دی۔ اور بے شک اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے محبّت فرماتے ہیں جو نیک ہوں، متقی ہوں اور ایسے چھپے ہوئے ہوں کہ جب موجود نہ ہوں تو ان کو تلاش نہ کیا جائے، اور اگر موجود ہوں تو نہ انھیں بلایا جائے اور نہ انہیں پہچانا جائے، ان کے دل ہدایت کے روشن چراغ ہیں، وہ فتنوں کی کالی آندھیوں سے(دل کی روشنی کی وجہ سے اپنے دین کو بچاتے ہوئے) نکل جاتے ہیں۔ابن ماجہ(بحوالہ منتخب حدیث:؍۶۰۰)
*
۔۔۔حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم(اپنے حجرہ مبارک سے )نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے، اس وقت ہم لوگ آپس میں مسیح دجّال کا تذکرہ کررہے تھے۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تم کو وہ چیز نہ بتاؤں جو میرے نزدیک تمہارے لئے دجّال سے بھی خطرناک ہے؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! ضرور ارشاد فرمائیں۔ آپ ؐ نے ارشاد فرمایا: وہ شرک خفی ہے(جس کی ایک مثال یہ ہے کہ آدمی نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہو اور نماز کو سنوار کر اس لئے پڑھے کہ کوئی دوسرا اس کو نماز پڑھتے دیکھ رہا ہے)۔ابنِ ماجہ(بحوالہ سابق:ص؍۶۰۷)
*
۔۔۔حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: جس نے دکھلانے کے لئے نماز پڑھی اس نے شرک کیا، جس نے دکھلانے کے لئے روزہ رکھا اس نے شرک کیا اور جس نے دکھلانے کے لئے صدقہ کیا اس نے شرک کیا۔ (مسند احمد)

 

   درسِ  حديث  ( نمبر  19 )

زبان کی حفاظت

 

*حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کو چاہیے کہ بات کہے تو تو بہتر کہے ورنہ خاموش رہے۔(بخاری ومسلم)
*
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم سے عرض کیا: یا رسول اللہ مسلمانوں میں سب سے افضل کون ہے ؟ آپ نے فرمایا جس مسلمان کی زبان اور ہاتھ کے شر سے لوگ محفوظ رہیں(بخاری ومسلم)
*
۔۔۔حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا جو شخص مجھ سے اس بات کا عہد کرلے کہ میں اپنی زبان اور شرمگاہ کی حفاظت کروں گا اور اسے حرام سے بچاؤں گا تو میں اس کے لئے جنّت کی ضمانت کرتا ہوں۔(بخاری ومسلم)
*
۔۔۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: بندہ کوئی بات کہتا ہے اور اس کو اس کا خیال بھی نہیں ہوتا کہ اس بات کے ذریعہ وہ آگ میں مشرق ومغرب کی مسافت سے زیادہ گر جاتا ہے۔(بخاری ومسلم)
*
۔۔۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: بندہ بعض اوقات ایسی بات بول جاتا ہے جس سے اللہ کی رضا حاصل ہوجاتی ہے مگر اس کو اس کی اہمیت نہیں معلوم ہوتی،اس بات کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اس کے درجوں کو بلند کردیتا ہے۔ اور کوئی بندہ ایسی بات کہہ بیٹھتا ہے کہ جس کے کہنے سے اللہ تعالیٰ کا غصّہ نازل ہوتا ہے، اس کو کچھ خبر نہیں، کوئی کھٹکا نہیں کہ اس کے سبب سے وہ آگ میں جارہا ہے(بخاری)(بحوالہ :زادِ سفر: امۃ اللہ تسنیم۔ج؍۲۔ ص؍۲۲۲)
*
۔۔۔حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم سے عرض کیا یا رسول اللہ کس بات سے نجات حاصل ہوسکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: اپنی زبان کو روکو۔ اور گھر تمہارے لئے کافی ہو۔ اور اپنی خطاؤں پر رویا کرو۔(ترمذی)
*
۔۔۔حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: ہر صبح کو انسان کے تمام اعضاء زبان کے آگے عاجزی کرتے ہیں، کہتے ہیں خدا کے لئے ہمارے بارے میں اللہ سے ڈر۔ اگر تو سیدھی ہے تو ہم بھی سیدھے رہیں گے، اگر تو ٹیڑھی ہے تو ہم بھی ٹیڑھے رہیں گے۔(ترمذی)
*
۔۔۔حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم سے عرض کیا۔۔۔۔۔۔(حدیث کے اخیر میں ہے کہ)میں نے عرض کیا :یا حضرت! کیا ہماری گفتگو کا بھی ہم پر مؤاخذہ ہوگا۔ فرمایا تیری ماں تجھ کو روئے، لوگ آگ میں چہروں کے بل اپنی زبان کی بدولت گرائے جائیں گے۔(ترمذی)(بحوالۂ سابق:ص؍۲۲۴)

 

   درسِ  حديث  ( نمبر 20 )

صلہ رحمی کی سخت تاکید

 حضور اقدس صلّی اللہ علیہ وسلّم کا ارشاد ہے کہ: نہیں ہے کوئی گناہ جو زیادہ مستحق اس بات کا ہو کہ اس کا وبال آخرت میں ذخیرہ رہنے کے باوجود دنیا میں اس کی سزا بہت جلد نہ بھگتنی پڑے ان دو کے علاوہ ایک ظلم، دوسرا قطع رحمی۔(رواہ الترمذی وابوداؤد

   

۔۔۔ بہت سی احادیث میں یہ بھی مضمون ہے کہ حق تعالیٰ شانہ قیامت کے دن رحم(قرابت ) کو زبان عطا فرمادیں گے۔ وہ عرشِ معلّی کو پکڑ کردرخواست کرتا رہے گاکہ یاللہ جس نے مجھے ملایا تو اس کو ملا اور جس نے مجھے قطع کیا تو اس کو قطع کر۔
بہت سی احادیث میں ہے کہ حق تعالیٰ شانہ فرماتے ہیں کہ رحم کا لفظ اللہ تعالیٰ کے پاک نام رحمٰن سے نکالا گیا ہے جو اس کو ملائے گا، رحمٰن اس کو ملائے گا ۔ جو اس کوقطع کرے گا رحمٰن اس کو قطع کرے گا۔ ایک حدیث میں ہے کہ اس قوم پر رحمت نازل نہیں ہوتی جس میں کوئیے قطع رحمی کرنے والا ہو۔ ایک حدیث میں ہے کہ ہر پنجشنبہ کو اللہ جلّ شانہ کے یہاں اعمال پیش ہوتے ہیں، قطع رحمی کرنے والے کا کوئی عمل قبول نہیں ہوتا۔
فقیہ ابو اللّیث ؒ فرماتے ہیں کہ قطع رحمی اس قدر بدترین گناہ ہے کہ پاس بیٹھنے والوں کو بھی رحمت سے دور کردیتا ہے، اس لئے ضروری ہے کہ ہر شخص اس سے بہت جلد توبہ کرے اور صلہ رحمی کا اہتمام کرے۔
حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کا ارشاد ہے کہ صلہ رحمی کے علاوہ کوئی نیکی ایسی نہیں جس کا بدلہ بہت جلد ملتا ہو اور قطع رحمی اور ظلم کے علاوہ کوئی گناہ ایسا نہیں جس کا وبال آخرت میں باقی رہنے کے ساتھ ساتھ دنیا میں جلدی نہ مل جاتا ہو۔(فضائل اعمال:ج؍۲۔فضائل صدقات :ص؍۲۱۵)

 

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES