Live Madinah

makkah1

dushwari

طبی جانچ کے لئے مچھلیوں کا سیمپل بنگلور بھیج دئیے گئے 

منگلور 3؍ اکتوبر (فکروخبرنیوز) مخصوص قسم کی مچھلی کھانے سے بیمار ہونے والے مریضوں میں سے بعض مریضوں کی حالت نازک ہونے کی اطلاع فکروخبر کو موصول ہوئیں ہیں۔ ضلع کے طبی ذرائع سے ملی اطلاعات کے مطابق مریضوں کا علاج جاری ہے اور مچھلیوں کے ٹیسٹ بنگلور روانہ کردئیے گئے ہیں اور کچھ ہی دنوں میں اس کی حقیقت سامنے آئے گی ۔ اس دوران ضلع ہیلتھ افسر راما کرشنا راؤ سے مریضوں سے ملاقات کرتے ہوئے ان کی عیادت کی ۔ کرشنا نے کہا کہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے مچھلیاں ان لوگوں سے خریدیں تھیں جو اپنی نجی سواریوں پر فروخت کرنے کے لیے علاقے میں چکر لگارہے تھے جبکہ بعض لوگوں کا ماننا ہے انہوں نے بندرگاہ سے ہی مچھلیاں خرید کراس کو پکایا تھا اور اس سے تیار کردہ کھانا کھانے سے طبیعت بگڑگئی تھی۔

مریض کئی اسپتالوں میں زیر علاج : بعض کی حالت نازک 

منگلور : یکم اکتوبر (فکروخبرنیوز) ایک خاص قسم کی مچھلی کھانے والے دو سے زائد افراد کے بیمار ہونے کی خبر فکروخبر کو موصول ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق براکا مچھلی کارخانہ کے دو سو ملازمین اور اس کے آس پاس رہائش پذیر علاقے والوں نے ایک خاص قسم کی مچھلی کو ’’ متے‘‘ کا کھانا کھانے سے وہ بیمار ہوئے جس کے بعد انہیں دیرلا کٹے اور تھوکوٹو کے مختلف اسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے ۔بتایا جارہا ہے کہ مریضوں میں بعض کی حالت نازک ہے جنہیں انتہائی نگہداشت والے کمرے میں رکھا ہے۔ ذرائع سے ملی اطلاعات کے مابق الال کے ایک مچھلی کے کار خانہ کے دو سو ملازمین بھی بیمارہیں۔

منگلور 30ستمبر (فکروخبرنیوز ) رواں مہینے ستمبر کے اوائل سے اب تک یہاں کے انٹرنیشنل ایرپورٹ کے کسٹم افسران کی جانب سے جملہ باون لاکھ روپئے قیمت کی غیر قانونی سوناسمیت دیگر اشیاء ضبط کرنے کی خبر فکروخبر کو موصول ہوئی ہے ، اس میں بیرونی کرنسی بھی موجود ہے ، تفصیلات کے مطابق ان غیرقانونی اشیاء میں 1133گرام سونا، بیرون کرنسی اور 236سگریٹ بکسے ہیں ،جن کی جملہ مالیت باون لاکھ بتائی گئی ہے ،ابھی دو دن قبل 7ستمبرکوکسٹم افسران نے 1.05کلو سونا جو کہ سلاخوں کے شکل میں تھا اس کو ضبط کا جس کی جملہ مالیت 32.91لاکھ روپئے بتائی ہے ، یہ سونا ایر انڈیا طیارے پر دبئی سے منگلور آنے والے ایک مسافر سے ضبط کیا گیا تھا، دوسرے معاملہ میں 3سونے کے بسکٹ اور 25گولڈ سکے ضبط کرلئے گئے تھے ۔

مینگلور۔29؍ستمبر۔(فکروخبرنیوز)بد معا شوں اور لٹیروں نے اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے اے ٹی ایم کو لوٹنے کی کو شش کی ،مگر ناکام رہے ،فکرو خبر کے مطابق 28؍ستمبر منگل کے دن کوٹا را چو کی علاقہ میں واقع کراولی کالج کے قریب کے اسٹیٹ بینک آف انڈیاکے اے ٹی ایم کو چند لٹیروں اور بدمعا شوں نے نشانہ بنا کر کسی دھاری دھار چیز کی مدد سے اس کے دروازے کو توڑنے میں کامیاب ہو گئے،پھر لوہے کی سلاخ اور پتھروں کے ذریعہ اس کی توڑ پھوڑ کی ،

منگلور 29؍ ستمبر (فکروخبرنیوز) بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے وزیر خوردونوشت یوٹی قادر پر لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہوئے یوٹی قادر نے کہا کہ یہ سفید جھوٹ ہے اوراس کی کوئی بنیاد نہیں۔ فکروخبر کے مطابق سابق کو آپریٹر این آر رمیش کی نے وزیر خوردونوشت پر الزام عائدکرتے ہوئے کہا ہے کہ یوٹی قادر جب وزیر صحت نے اس وقت اس نے اس عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھایاہے اور دوائی خریداری کے وقت0 14,00کروڑ روپئے کا گھپلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ یوٹی قادر پر پانچ سو کروڑ کے گھپلے کے بھی الزامات ہیں ۔ رمیش نے کہا کہ ریاست کی ایڈز سوسائٹی جو کہ وزارتِ صحت کے زیر انتظام ہے اس نے دوائی کی خریداری کے لیے ایک نجی کمپنی کو ٹھیکہ دیاتھا اوراس وقت چیف منسٹر صدر تھے اور وزیر صحت یوٹی قادر نائب صدر تھے ۔

منگلور پاسپورٹ اتھاریٹی کی درخواست پر شیموگہ پولیس نے ادا کیا اہم کردار 

منگلور 28؍ ستمبر (فکروخبرنیوز) پاسپورٹ بنانے کے دوران دئیے گئے دستاویزات میں ایس ایس ایل سی کی سرٹیفکٹ جعلی ہونے پرکی گئی تحقیقات کے بعد جعلی مارک شیٹ بنانے والے ایک گروہ کا پردہ فاش ہوا ہے۔ فکروخبر کو ملی اطلاعات کے مطابق ان پر الزام ہے کہ پندرہ ہزار روپئے لے کر ان افراد کے لیے ایس ایس ایل سی کے جعلی سرٹیفکٹ بنارہے تھے جنہوں نے دسویں کا امتحان ہی نہیں دیا ہے یا جو لوگ دسویں میں فیل ہوئے ہیں۔ شیموگہ کے سپرنڈنٹ آف پولیس ابھینو کھارے کے مطابق گروہ کا پردہ اس وقت فاش ہوا جب منگلور پاسپورٹ اتھاریٹی نے ایک خط لکھتے ہوئے ایس ایس ایل سی کے مشتبہ سرٹیفکیٹ کی تحقیقات کی درخواست کی گئی تھی۔

منگلور پولیس بنگلور کے فیس بک دفتر پر چھاپہ مارنے کی تیاری میں 

منگلور 25؍ ستمبر (فکروخبرنیوز)توہین آمیز فیس بک پوسٹ کے متعلق جاری تحقیقات میں فیس بک کمپنی کی جانب سے پولیس کا تعاون نہ کیے جانے کی وجہ سے سٹی پولیس فیس بک دفتر واقع بنگلور پر چھاپہ مارکارروائی کرنے کا منصوبہ بنارہی ہے ۔ اس با ت کی اطلاع فکروخبر کو مصدقہ ذرائع سے موصول ہوئی ہے۔ پولیس ان فیس بک افسران کے خلاف کارروائی کرنے کے بارے مکمل منصوبہ بند تیار کررہی ہے جو کمپنی کی جانب سے صحیح معلومات فراہم نہ کرائے جانے کے ذمہ دار ہیں۔ ساحلی کرناٹکا کے مختلف پولیس تھانوں میں گستاخانہ پوسٹ کے متعلق معاملات درج کیے گئے ہیں اور پولیس کو ان معاملات میں فیس بک کمپنی کی جانب سے مکمل تعاون حاصل نہ ہونے کی وجہ سے انہیں تحقیقات مکمل کرنے میں پریشانی ہورہی ہے۔

ڈرائیور او رکلینر محفوظ ، تیز رفتاری سڑک حادثہ کا سبب 

منگلور 12؍ ستمبر (فکروخبرنیوز) تیز رفتار لاری ڈوائیڈ ر سے ٹکرانے کے بعد الٹ جانے کی واردات اہم شاہراہ 66پر اے جے اسپتال کے قریب پیش آئی ہے۔ لاری پر سوار ڈرائیور اور کلینر محفوظ بتائے جارہے ہیں۔ فکروخبر کو موصولہ اطلاعات کے مطابق مذکورہ لاری منگلور سے جانے کے دوران تیز رفتاری کے ساتھ ڈوائیڈر سے ٹکراگئی جس سے لاری الٹ گئی اور اس پر سوار لاری ڈرائیور او رکلینر بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔جائے واردات پر ون وے روڈ ہونے کی وجہ سے اکثر ڈرائیور گاڑی کی رفتار حد سے زیادہ تیز کرنے سے وہ لاری پر قابو نہیں رکھتے جس کی وجہ سے سڑک حادثات رونما ہوتے ہیں۔

بھٹکل کا نوجوان احمد ریان چنا جاں بحق 

نصف گھنٹہ گذرنے کے باوجود لاش سڑک ہی پر پڑی رہی 

منگلور 21؍ ستمبر (فکروخبرنیوز) آج منگلور میں پیش آئے ٹپر لاری اور بائک کے آپسی تصادم میں بھٹکل کے ایک نوجوان کے جاں بحق ہونے کی واردات پیش آئی ہے۔ جاں بحق ہونے والے نوجوان کی شناخت احمد ریان ابن ریاض چنا کی حیثیت سے کرلی گئی ہے جو منگلور کے سہیادری کالج میں زیر تعلیم تھا ۔ فکروخبر کو ملی اطلاعات کے مطابق یہ واردات آج شام ناگوری کے قریب پیش آئی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ سڑک حادثہ کے بعد قریب نصف گھنٹہ گذرنے کے باوجود لاش سڑک ہی پر پڑی رہی اور کسی نے بھی اسے اسپتال تک پہنچانے کی زحمت گوارہ نہ کی۔منگلور دیہی پولیس نے جائے واردات پر پہنچ کر ضروری کارروائی مکمل کرنے کے بعد لاش اسپتال پہنچائی ۔

منگلور:20ستمبر(فکروخبرنیوز ) منگلور سے ملی اطلاعات کے مطابق یہاں مہاکالی پدی نامی ریلوے ٹراک پر سر دھڑ سے الگ ایک لاشک ملی ہے ۔ شبہ ظاہر کیاجارہاہے کہ مہلوک پٹری پر سررکھ خودکشی کی ہوگی ، مہلوک کی شناخت ونسینٹ جیکسن ڈ کنہا (22) کی حیثیت سے کرلی گئی ہے ۔ یہ یف آر ملر انسٹی ٹیوشنس کے سیفٹی ڈپارٹمنٹ میں ٹرینی کی حیثیت سے ملازمت کررہا تھا، ، وہ چھ بجے کے آس پاس کمپنی کے قریب نظر آیا اس کے بعد غائب تھا،