Live Madinah

makkah1

dushwari

نازنین زغاری ریڈکلف کو سفارتی تحفظ فراہم کرنا اوران کے رہائی کے لیے غور ہو رہا ہے،برطانوی وزیراعظم

لندن۔14نومبر2017(فکروخبر/ذرائع )برطانوی وزیر اعظم کے دفتر ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ نے کہا ہے کہ ایرانی جیل میں قید برطانوی خاتون نازنین زغاری ریڈکلف کو سفارتی تحفظ فراہم کرنا ان امکانات میں سے ایک ہے جن پر ان کے رہائی کے لیے غور ہو رہا ہے۔نازنین زغاری ریڈکلف کو پچھلے سال اپریل میں اس وقت تہران ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا جب اپنی دو سالہ بیٹی کے ہمراہ اپنے والدین کے ساتھ چھٹیاں منانے کے بعد برطانیہ آرہی تھیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق نازین زغاری ریٹکلف کو ایران میں پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

لندن۔07اکتوبر2017(فکروخبر/ذرائع ) برطانیہ میں مسلمان ٹیکسی ڈرائیور نے معمرشخص کی جمع پونجی واپس کرکے ایمانداری کی نئی مثال قائم کردی۔برطانوی میڈیا کے مطابق نوسربازوں نے 78 سالہ شخص سے پیسے ہتھیانے کا منصوبہ بنایا جو ایماندار مسلمان ٹیکسی ڈرائیور کی بدولت مکمل طور پر ناکام ہوگیا۔اسٹون نامی برطانوی شہری کو فراڈیوں نے گھر کے نمبر پرفون کرکے خود کو اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس کا افسر ظاہر کیا اورڈھونگ رچایا کہ وہ ملک میں ہونے والی بینک فراڈ کی تحقیقات کررہے ہیں لہذا وہ فوری طور پرجمع شدہ رقم لے کر کسی ٹیکسی ڈرائیور کے پاس جمع کروادیں ۔

مسلمان نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اچھے روزگار کے مناسب مواقعے میسر نہیں ہیں ، سوشل موبلٹی کمیشن کی رپورٹ 

لندن ۔05اکتوبر2017(فکروخبر/ذرائع)برطانوی حکومت کی جانب سے حال ہی میں جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق برطانوی مسلمانوں کو معاشرے کے دیگر تمام لوگوں کے مقابلے میں سب سے کم اقتصادی مواقعے حاصل ہیں۔رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں مسلمان نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اچھے روزگار کے مناسب مواقع میسر نہیں ہیں۔برطانیہ میں معاشی ناہمواری کو ختم کرنے کے لیے کام کرنے والے ادارے سوشل موبلٹی کمیشن کی جانب سے حال ہی میں جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانوی معاشرے میں مسلمان نوجوانوں کو سکول سے لے کر ملازمت تک ہر جگہ ناموافق حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

چاقوبردارحملہ آورفرار،پولیس کا سرچ آپریشن،دومشتبہ افرادکو گرفتارکرلیاگیا

لندن۔26ستمبر2017(فکروخبر/ذرائع ) برطانیہ کے شمال مغرب میں گریٹر مانچسٹرکے علاقے میں ایک مسلمان آرتھوپیڈک سرجن کو اسلامی مرکز کے باہر چاقو کے ذریعے حملے کا نشانہ بنایا گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق سرجن کا نام ناصر کْردی ہے برطانوی قصبے میں اپنی بیوی اور تین بچوں 22 سالہ اسماء ، 19 سالہ محمد اور 13 سالہ احمد کے ساتھ سکونت پذیر ہے۔ وہ اسلامی مرکز میں باجماعت نماز کی امامت بھی کرتا ہے۔57 سالہ ناصر کردی اتوار کے روز نماز کی امامت کے لیے جب اسلامی مرکز پہنچا تو ایک نا معلوم شخص نے پیچھے سے اس کی گردن پر چاقو کا وار کیا اور فورا فرار ہو گیا۔