Live Madinah

makkah1

dushwari

تازہ ترین خبر:

لکھنو :18؍فروری2018(فکروخبر/ذرائع)شیعہ سینٹرل وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی نے ایک پریس ریلیز جاری کرکے کہا ہے کہ شری شری روی شنکر کا جو فارمولہ میڈیا کے توسط سے سامنے آیا ہے ، اسے شیعہ وقف بورڈ پوری طرح سے خارج کرتا ہے ۔ شیعہ وقف بورڈ نے جو فیصلہ کیا ہے کہ مسجد امن اجودھیا کی بجائے لکھنو میں بنائی جائے ، اس پر ہی وہ بضد ہے۔وسیم رضوی کے مطابق شیعہ سینٹرل وقف بورڈ کا فیصلہ صاف ہے کہ وہاں سے بابری مسجد ہٹائی جانی چاہئے اور 14 کوسی پریکرما کے اندر کوئی مسجد کی تعمیر نہیں ہونی چاہئے ۔

بابری مسجد ملکیت مقدمہ کی سماعت ملتوی
جمعیۃ علماء ہند کے وکلاء روزانہ سماعت کے لئے تیاربشرطیکہ ہندو فریقین دستاویزات مہیا کرائیں
چیف جسٹس نے فریقین کو ۲ ہفتہ کے اندر بقیہ دستاویزات عدالت میں داخل کرنے کا حکم دیا 

نئی دہلی 08؍فروری (فکروخبر /پریس ریلیز) ہندوستان اور ہندوستانی عدلیہ کی تاریخ کے سب سے بڑے مقدمہ یعنی بابری مسجد ملکیت تنازعہ کی سماعت آج ایک بار پھر سپریم کورٹ آف انڈیا میں عمل میں آئی جس کے دوران جمعیۃ علماء ہندکی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر راجیو دھون نے عدالت کو بتایا کہ وہ معاملے کی روز بہ روز سماعت کیئے جانے کے لیئے تیار ہیں بشرطیکہ فریق ثانی مقدمہ کے تعلق سے ان کی جانب سے الہ آباد ہائی کورٹ میں داخل دستاویزات مہیا کرائیں۔
چیف جسٹس دیپک مشراء کی سربراہی والی بینچ جس میں جسٹس عبدالنظیر اور جسٹس بھوشن کے روبرو جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سینئر وکلاء ڈاکٹر راجو دھون، ڈاکٹر راجو رام چندر اور اعجاز مقبول پیش ہوئے، جس کے دوان ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں جمعیۃ علماء و دیگر مسلم فریقین کی تیاری تقریباً مکمل ہوچکی ہے، لیکن ہندو فریقین نے ابتک ان کتابوں کی نقول عدالت میں پیش نہیں کی ہے جسے انہوں نے الہ آباد ہائی کورٹ میں داخل کیا تھا۔
اعجاز مقبول نے بتایاکہ ایسی درجنوں کتابیں ہیں جن کا ترجمہ کرکے ہندو فریقین کو مسلم فریقین کو مہیا کرانا ہے جسے انہوں نے ابتک نہیں داخل کیا ہے جس پر عدالت نے ہندو فریقین کو حکم دیا کہ وہ دو ہفتوں کے اندر ان تمام دستاویزات کو مع ترجمہ رجسٹری میں جمع کرائیں۔

حیدرآباد:13؍ڈسمبر2017(فکروخبر/ذرائع)حیدرآباد میں فروری میں ہونے والے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے تین روزہ اہم اجلاس کی تیاریوں کا آغاز کردیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں منگل کی شب بورڈ کے ذمہ داروں ، استقبالیہ کمیٹی کے ذمہ داران کے علاوہ علماء مشائخ معززین کی اور عمائدین ملت کا اہم اجلاس منعقد ہواجس میں تیاریوں کا تفصیلی طور پر جائزہ لیا گیا ۔ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ و صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین بیرسٹر اسد الدین اویسی جو بورڈ کے رکن عاملہ بھی ہیں، نے اس اجلاس کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔

حفیظ نعمانی

25 سال سے ہر سال 06 دسمبر آتی رہی اور جگہ جگہ مسلمانوں کے یوم غم منانے کی خبروں کے بعد گذرتی رہی کبھی کہیں سے ہلکی آواز میں یہ خبر بھی آجاتی تھی کہ وشوہندو پریشد اور بجرنگ دل نے 06 دسمبر کو یوم فتح کے طور پر منایا لیکن یہ اتنی نیچی آواز میں کہا جاتا تھا کہ صرف اخبار کی چند سطریں اسے مل جاتی تھیں۔ لیکن اس سال جو لہراتی ہوئی ننگی تلواروں اور بھگوا جھنڈوں کے ساتھ وجے دیوس یا یوم فتح منایا گیا اور صرف اجودھیا میں نہیں اترپردیش میں جگہ جگہ منایا گیا اور ہر جلوس پولیس کی موجودگی بلکہ اس کی حفاظت میں نکلا اس نے ثابت کردیا کہ اب اترپردیش میں آر ایس ایس کی حکومت ہے اور اب اگر یوم غم منایا تو جواب دینے کے لئے اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔

نئی دہلی :07؍ڈسمبر2017(فکروخبر/ذرائع)مہنگائی سے متعلق غلط اعداد و شمار پیش کرنے کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی کے نشانہ پر آئے کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے آج کہا کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی کی طرح نہیں ہیں بلکہ ایک عام انسان ہیں اور غلطی کرتے ہیں۔مسٹر گاندھی نے بی جے پی کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے ٹوئٹر پر کہاکہ بی جے پی کو ان کی غلطیوں کا ذکرکرتے رہنا چاہئے۔ اس سے انہیں سدھرنے میں مدد ملتی ہے۔کانگریس لیڈر نے کہاکہ یہ میرے تمام بی جے پی کے بھائیوں کے لئے ہے۔

کلکتہ۔06دسمبر201(فکروخبر/ذرائع)  بابری مسجد کی 25ویں یوم شہادت کے موقع پر منعقد ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے ملک کے عوام سے اپیل کی ان طاقتوں کو یکسر مسترد کردیں جو ملک کو مذہب کے نام پر تقسیم کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔اس کے علاوہ ممتا بنرجی نے افواہوں اور غلط خبروں پر توجہ نہ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعہ عوام کے درمیان نفرت پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔

لکھنو۔6دسمبر201(فکروخبر/ذرائع)   میں رام مخالف نہیں ہوں۔ ایودھیا میں ایک رام مندر نہیں ، ہزاروں رام مندر بنیں، مجھے کوئی شکایت نہیں ہے۔ میرا تو بس یہی کہنا ہے کہ بابری مسجد ہماری ہے اور اسی حق کی لڑائی کئی سالوں تک ہمارے والد لڑتے رہے اور ان کے انتقال کے بعد اب میں لڑ رہا ہوں۔ یہ کہنا ہے بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے سب سے پرانے مدعی رہے مرحوم ہاشم انصاری کے بیٹے اقبال انصاری کا۔

عبدالعزیز 

بابری مسجد کے مقدمہ کے فیصلہ کے بارے میں مسلمانوں کا کہنا ہے کہ عدالت کا جو بھی فیصلہ ہوگا اسے وہ قبول کریں گے۔ میرے خیال سے مسلمانوں کو یہ کہنے کے بجائے یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ اگر ان مجرموں کے حق میں فیصلہ ہوتا ہے جو تاریخی مسجد گراکر یہ کہہ رہے ہیں کہ رام مندر وہیں بنے گا جہاں بابری مسجد تھی تو مسلمان مجبوراً برداشت کریں گے یا صبر و تحمل سے کام لیں گے۔

محمد اکرم ظفیر 

ہر سال 06 دسمبر کی تاریخ جب آتی ہے تو 1992 کی وہ کالی رات و سیاہ دن مسلمانوں کے سامنے اپنی روداد و بے بسی پہ آنسو بہاتے ہوئے اپنی شہادت کی المناک واقعہ کو پیش کرکے آواز دیتی ہیکہ کہاں ہیں صلاح الدین ایوبی جیسے مسلمان اور کہاں ہیں کی ملک آئین کی حلف لینے والے حضرات؟؟ جس دن ملک کی آئین و سیکولر ڈھانچے کو کمزور کرتے ہوئے تاریخی بابری مسجد کو فرقہ پرستوں نے شہید کردیا۔یہ کوئی اتفاق نہیں تھااور نہ ہی جلد بازی میں لیا گیا فیصلہ تھا بلکہ اس کے لیے بھگوا بریگیڈ نے آزادی کے قبل سے ہی منصوبہ بنا رکھاتھا۔

ایودھیا:04؍ڈسمبر2017(فکروخبر/ذرائع)سپریم کورٹ کل سے ایودھیا میں  بابری مسجد معاملے کی ہر روز سماعت کرے گی ۔ 6 دسمبر 1992 کو کارسیوکوں نے ڈھانچے کو منہدم کیا تھا ۔ وشو ہندو پریشد اسمقام پر اگلے سال اکتوبر میں رام مندر کی تعمیر شروع کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔ مرکز اور اتر پردیش میں بی جے پی کی حکومتوں نے اس مسئلے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور اس حساس معاملے پر انہیں سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار ہے۔

صفحہ 1 کا 3