Live Madinah

makkah1

dushwari

حفیظ نعمانی

اترپردیش میں حکمراں سماج وادی پارٹی میڈیا کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ بات صرف وزیر اعلیٰ، وزیروں اور افسروں کی نہیں ہے، بلکہ چچا اور بھتیجے کے نازک رشتوں کی بھی ہے۔ ۲۰۱۲ء میں انتہائی کامیابی کے بعدجو اچانک ملائم سنگھ نے فیصلہ کیا کہ وزیر اعلیٰ وہ نہیں بنیں گے بلکہ اپنے بیٹے اکھلیش یادو کو بنائیں گے تو اگرہماری صحت اچھی ہوتی اور شیو پال سے اسی طرح ملنا جلنا ہوتا جیسے ۲۰۰۷ء میں تھا تو ہم ضد کرتے کہ وہ اب وزیر بننے پر آمادہ نہ ہوں بلکہ پارٹی کے صدر بن جائیں یا کوئی اور عہدہ لے لیں۔

حفیظ نعمانی

سیاسی پارٹیوں میں ممبر بنانے کا رواج برسوں سے ختم ہوگیا ہے، جس وقت ابتدائی ممبر بنائے جاتے تھے تو ان کے ممبروں سے کریاشیل ممبر بنتے تھے وہ صوبہ کی کمیٹی کا ممبر بناتے تھے، پھر وہ صدر سکریٹری کے الیکشن لڑتے تھے اور ان کی کوئی حیثیت ہوتی تھی۔ جب کانگریس نے یہ سانچہ توڑ دیا، تو پھر ہر پارٹی نے توڑ دیا۔ اب کچھ لوگ ہیں جن کے تعلقات ہیں وہ اپنے ملنے والوں اور دوستوں کو پارٹی میں مختلف عہدوں پر قبضہ کردیتے ہیں پھر ٹکٹ لیتے اور دیتے ہیں اور وزیر بنتے بناتے ہیں اور حکومت چلاتے ہیں۔

حفیظ نعمانی

تھی خبر گرم کہ غالب کے اڑیں گے پرزے
دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا
لوک سبھا کے الیکشن کے موقع پر وزیر اعظم کے امیدوار شری نریندر مودی نے نہ کہا ہوگا تب بھی پچاس جگہ کہا ہوگا کہ ہریانہ اور راجستھان میں سونیا جی کے داماد رابرٹ واڈرا نے کوڑیوں کے مول زمین خریدی اور سونے کے بھاؤ فروخت کردی، وہ اپنے خاص انداز میں کہا کرتے تھے کہ جادو گری کا اس سے اچھا نمونہ کیا ہوگا کہ رات کو جیب ۵۰لاکھ روپے ہیں اور دوسرے دن ایک شاہی داماد ہریانہ جاتے ہیں اور وہاں صرف دو دن میں وہ ۵کروڑ بن جاتے اور تھوڑے دنوں کے بعد وہ پچاس کروڑ بن جاتے ہیں۔

پیر, 05 ستمبر 2016 12:30

رجت شرما کا سیاسی مذاق

حفیظ نعمانی

انڈیاٹی وی چینل کے مالک رجت شرما پرانے صحافی ہیں مگر ہمیشہ سے یک رُخے ہیں، ۲۰۱۴ء کے لوک سبھا الیکشن سے پہلے بھی وہ بی جے پی کے ترجمان تھے لیکن لوک سبھا الیکشن کے موقع پر تو انھوں نے مودی نوازی کا ایسا حق ادا کیا کہ اگر بی جے پی نواز چینلوں کو ایک پلڑے میں رکھا جائے اور ا نڈیا ٹی وی کو دوسرے پلڑے میں تو وہی جھک جائے گا۔ وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر بھائی مودی سے ایک انٹر ویو لیا تھا، وہ ا نٹرویو آپ کی عدالت پروگرام میں نہ جانے کتنی بار دکھایا اور ہر دن موقع بہ موقع اس کے ٹکڑے ٹکڑے دکھاتے رہے اور کوشش کرتے رہے کہ پڑنے والا ہر ووٹ مودی صاحب کو ملے۔

حفیظ نعمانی

ہندوستان میں تقسیم کے بعد امام الہند مولانا ابوالکلام آزادؒ نے اسی لکھنؤ میں 1948میں مسلمانوں کو مشورہ دیا تھا کہ تم اپنی کوئی الگ سیاسی جماعت نہ بنانااور جس سیاسی پارٹی کے نظریات سے تم اتفاق کرو اس میں شامل ہوجانا،ہم اس بات کو گرہ میں باندھے ہوئے ہیں۔ دو برس پہلے تک حالات دوسرے تھے اور اب جو حالات ہیں وہ حکومتوں اور پارٹیوں کی 68سالہ بدکاریوں کا نتیجہ ہیں، آزادی کے بعد یہ تو سوچا جاسکتا تھا کہ کانگریس کی حکومت اگر نہیں ہوئی تو سوشلسٹ پارٹی یا کمیونسٹ پارٹی کی حکومت بن جائے گی، لیکن یہ تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کبھی ہندو مہا سبھا یا آر ایس ایس کی بھی حکومت بن جائے گی اور حالت یہ ہوجائے گی کہ صرف اتنی سی بات پر کہ پاکستان جہنم نہیں ہے،

حفیظ نعمانی

آگرہ میں بی ایس پی ریلی میں مس مایاوتی مستقل بی جے پی پر برستی رہیں، انھوں نے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے بارے میں کہا کہ وہ جو انھوں نے ہندوؤں کو زیادہ بچے پیدا کرنے کا حکم دیا ہے، کیامودی ان بچوں کے لیے روٹی تعلیم اور روزی کا انتظام کا کریں گے؟ ان کے علاوہ بھی ہر طرف سے کہا جارہاہے کہ موہن بھاگوت صاحب نے مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے ہندوؤں کو زیادہ بچے پیدا کرنے کا حکم دیا ہے۔آر ایس ایس کی طرف سے اس کی وضاحت میں کہا گیا ہے کہ بات صرف اتنی تھی کہ آگرہ کے ہی ایک پروگرام میں بعض ذمہ دار لوگوں نے ان کے سامنے اعداد و شمار رکھ کر کہا کہ اگر صورت حال ایسی ہی رہی تو آئندہ پچاس برس میں مسلمانوں کی تعداد اتنی ہوجائے گی کہ وہ ہندوستان پر حکومت کرنے کے منصوبے بنانے لگیں گے،

حفیظ نعمانی

لیجئے اولمپک رنگارنگ تقریب کے ساتھ ختم ہوگیا، اس میں جتنے ملکوں نے بھی حصہ لیا ان میں ایسے بھی ہیں جو خالی ہاتھ واپس آگئے اور ایسے بھی ہیں جو تمغوں کی جھولیاں بھر کر لے گئے، امریکہ نے سونے چاندی اور تانبے کے ۱۲۱ میڈل جیتے اور جیتنے والوں میں ۶۸واں نام ہندوستان کا ہے جس نے ایک چاندی اور ایک تانبہ کا تمغہ جیتا ہے، اور حیرت کی بات ہے کہ جس ملک میں عورت اپنے شوہر کی چتامیں بیٹھ کر ستی بھی ہوتی تھی، جس کے پیدا ہونے پر خاندان میں سوگ کا ماحول ہوجاتا ہے،

حفیظ نعمانی

اتراکھنڈ اور اتر پردیش کے سابق گورنر عزیز قریشی نے ابھی نہیں اس وقت بھی جب راجیہ سبھا کا الیکشن ہورہا تھا، کہا تھا کہ انھیں کانگریس اور سماج وادی کے اس رویہ سے بہت دکھ ہوا ہے کہ دونوں نے ملک کے کسی مسلمان کو اس قابل نہیں سمجھا کہ وہ ان کو راجیہ سبھا میں بھیجیں، یہ اپنا اپنا سوچنے کا انداز ہے، بہرحال ایک بڑے سیاسی لیڈر کا یہ الزام اپنی جگہ برحق ہے۔ کانگریس ۲۰۰۴ء اور ۲۰۰۹ء میں صرف مسلم ووٹوں کی مدد کی وجہ سے مرکزی حکومت بنا سکی تھی، اور اس کانگریس کو مسلمانوں نے ۲۷ برس سے اترپردیش میں کرسی سے باہر کر رکھا ہے، مرکز میں جو دوبار حکومت بنوائی اس کی وجہ کانگریس سے محبت نہیں تھی بلکہ یہ تھی کہ اگر کانگریس نہیں تو بی جے پی ہے اور جب ان دونوں میں سے کسی ایک بری چیز کو قبول کرنا پڑے تو چھوٹی اور کم بری کانگریس ہے، اس لیے اسے اپنا لیا گیا۔

حفیظ نعمانی

کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ امن کی تلاش میں ساتھیوں کے ساتھ دہلی آئے ہیں اور انھوں نے وزیر اعظم کے بجائے صدر محترم سے فریاد کی ہے کہ کشمیر میں تشدد کی پالیسی ختم کی جائے اور پاکستان سے کشمیر کے مسئلہ میں مذاکرات پر حکومت کو آمادہ کیا جائے، عمر عبداللہ کی حیثیت وہی ہے جو ملک میں پنڈت نہرو کے بعد راجیو گاندھی کی تھی جو نہرو کے نواسے تھے اور عمر عبداللہ شیخ عبداللہ کے پوتے ہیں، انھوں نے یہ کہہ کر کہ وہ ملک کی خارجہ پالیسی پر کوئی بات کرنے نہیں آئے ہیں، یہ وزیر اعظم اوروزیر خارجہ کے دائرۂ اختیارکی بات ہے، وہ صرف اس آگ کو سرد کرانے کے لیے آئے ہیں جو آتش چنار ہر اس جگہ پہنچ رہی ہے، جہاں چنار ہیں۔

حفیظ نعمانی

بہار میں اپریل سے شراب بند ہے، خبر آئی کہ زہریلی شراب پینے سے ۱۴آدمیوں کی موت ہوگئی، حزب مخالف بی جے پی لیڈروں نے مطالبہ کردیا کہ نتیش کمار کو استعفیٰ دے دینا چاہیے، وہ شراب بندی میں ناکام ہوگئے،یہ ان کی نہیں ہر مخالف لیڈر کی عادت ہے، دکھ اس بات سے ہوا کہ ٹی وی چینل کے وہ منجھے ہوئے نیوز ریڈر اس پر تبصرہ کریں اور بجائے نتیش کو سہارا دینے کے یہ کہیں کہ انھوں نے تیاری کے بغیر بہار میں شراب بندی کردی، اور یہ نہیں بتائیں کہ تیاری میں کیا کرنا چاہیے تھا؟ نتیش کمار نے اترپردیش کے وزیر اعلیٰ سے کہا تھا کہ جو اضلاع بہار سے مل رہے ہیں ان میں پانچ پانچ کلو میٹر کے اندر اگر آپ شراب کی دوکانیں نہ دیں تو ہمیں اپنے پروگرام میں مدد مل جائے گی،