Live Madinah

makkah1

dushwari

حفیظ نعمانی

کل کی خبر کے مطابق فوج کے ذمہ داروں نے سرجیکل اسٹرائک کا ویڈیو حکومت کو سونپ دیا۔ اب اسے عام کرنے نہ کرنے کا فیصلہ وزیر اعظم کریں گے۔ جس وقت یہ خبر آئی تھی کہ اڑی کے ۱۸ جوانوں کی موت کا فوج نے انتقام لے لیا تو ہر طرف سے فوج کو مبارک باد دی گئی تھی اور ہر کسی نے کہا تھا کہ ہم اس نازک گھڑی میں حکومت کے ساتھ ہیں۔ یہ بڑے شرم کی بات ہے کہ حکومت بن جانے کے بعد بھی ہمارے ملک کے لوگوں کی آنکھوں پر انتخابی نشان کا چشمہ لگا رہتا ہے۔ جب ہر کسی نے کہہ دیا کہ ہم حکومت کے ساتھ ہیں تو بی جے پی کے چھوٹے بڑے نیتاؤں کو ڈھول بجانے کی کیا ضرورت تھی کہ جو کام کانگریس آج تک نہ کرسکی وہ ہم نے کرلیا۔

جمعہ, 07 اکتوبر 2016 18:00

دہلی تلوار کی دھار پر

حفیظ نعمانی

دہلی کے ساتھ سب سے بڑا ظلم اس نے کیا تھا جس نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ دہلی کے دو شوہر ہوں گے۔ آدھی دہلی مرکزی حکومت کی ٹانگ کے نیچے ہوگی اور آدھی دہلی منتخب صوبائی حکومت کی ٹانگ کے نیچے۔ یہ اس وقت تک تو رحمت بنی رہی جب تک مرکز میں جس پارٹی کی حکومت ہوئی اس کی ہی دہلی میں منتخب حکومت ہوئی، لیکن اس دن عذاب بن گئی جس دن مرکز میں دوسری پارٹی کی حکومت آگئی اور دہلی میں کسی اور پارٹی نے حکومت بنالی۔ اور اس کا تو شاید فیصلہ کرنے والوں نے تصور بھی نہ کیا ہوگا جو اب ہورہا ہے کہ مرکز میں حکومت ایک پارٹی کی ہے اور مرکز میں ہی حزب مخالف دوسری پارٹی ہے لیکن دہلی میں ایک تیسری پارٹی کی حکومت ہے جس کی مرکزی حکومت بھی دشمن ہے اور حزب مخالف بھی۔

حفیظ نعمانی

کل ٹی وی پر ایک عجیب و غریب منظر دیکھا کہ پاکستان کے فوجی افسر پاکستان میں مقیم ملکی اور غیرملکی صحافیوں کو ہیلی کاپٹروں میں بٹھاکر کم آباد اور پہاڑی علاقوں میں لے گئے ہیں اور انگلی اٹھا اٹھاکر دکھارہے ہیں کہ وہ دیکھئے۔ یہ وہ مقامات ہیں جن کے بارے میں ہندوستان دعویٰ کررہا ہے کہ اس نے ستمبر کی 28 ویں رات کو سرجیکل اسٹرائیک حملہ کیا اور دہشت گردی کے ٹھکانوں کو برباد کرکے 38 دہشت گردوں کو موت کی نیند سلادیا۔پھر تھوڑی دور جاکر دوسرا منظر دکھایا اور بتایا کہ یہ وہ مقام ہے۔ وہاں موجود نوجوان، جوان، ادھیڑ اور بزرگ آدمیوں سے گواہی دلائی کہ پانچ دن پہلے یا اس کے دو چار دن کے اندر یہاں نہ کوئی دھماکہ ہوا اور نہ کوئی موت ہوئی۔

حفیظ نعمانی

ساڑھے چار برس سے زیادہ ہوگئے بابو اکھلیش یادو اترپردیش جیسے جہازی صوبہ کے وزیر اعلیٰ ہیں اور وہ ہماری معلومات کی حد تک وہ اپنے بہن بھائیوں میں بھی سب سے بڑے ہیں اور جس صوبہ کے وزیر اعلیٰ ہیں وہ بھی سب سے بڑا صوبہ ہے، اس کی وجہ سے انھیں اندازہ ہوگیا ہوگا کہ بڑا ہونا صرف انعام ہی نہیں امتحان بھی ہے۔اور انھیں اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ بڑے ملک کی ذمہ داری بھی بڑی ہوتی ہے۔انھوں نے برسوں کے بعد پہلی بار اپنی حدوں سے نکل کر وزیر اعظم کو مخاطب کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان سے جنگ نہیں گفتگو ہونی چاہیے۔

حفیظ نعمانی

ہم نے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ اگر ہمارے قلم سے کوئی بات کسی کے خلاف نکلے تو ہم اپنی غلطی مان کر معافی مانگتے ہیں۔ ہم نے پرشانت کشورکے بارے میں جب بھی لکھا صرف یہ لکھا کہ انھوں نے اگر ۲۰۱۴ء میں مودی جی کی سرکار بنوائی تو ان کا کمال نہیں تھا بلکہ وہ تو کانگریس کی بداعمالیوں کی وجہ سے ہر آدمی ان سے ناراض تھا اور وہ کانگریس کو ہرانا چاہتا تھا۔ اسی طرح جب کہا گیا کہ بہار میں نتیش لالو محاذ کی کامیابی پرشانت کشور صاحب کی وجہ سے ہوئی تب بھی ہم نے کہا کہ اگر لالو یادو پر الیکشن لڑنے کی پابندی نہ ہوتی تو جیتنا ناممکن تھا۔ اور ہم نے یہ کہا کہ اب اترپردیش میں کانگریس کو زندہ کریں تو ہم تسلیم کریں گے کہ واقعی وہ جادوگر ہیں۔

اتوار, 25 ستمبر 2016 13:54

کیا پاکستان کے معنی چین ہیں؟

حفیظ نعمانی

۳۱؍جولائی 1965ء کی رات کو ۱۰ بجے 15افسروں اور 300پولیس کے جوان ہمیں گرفتار کرنے اور ندائے ملت کے مسلم یونیورسٹی نمبر کی جتنی بھی کاپیاں ملیں، ضبط کرنے اور میرے مکان ’’اخبار کے ادارتی دفتر‘‘ میرے پریس اور ڈاکٹر آصف قدوائی کے مکان کی تلاشی میں رات کے ۳ بجے تک مصروف رہے۔اس کے بعد گرفتاری کی رسم ادا کی گئی۔ یکم اگست اتوار تھا۔ عدالتیں بند تھیں اس لیے وہ پورا دن ہر قلم اور ہر سطح کے افسروں سے سوال و جواب میں گذرا اور شام کو ایک مجسٹریٹ کے گھر پر حاضری ہوئی اور جیل روانگی کا پروانہ ہاتھ آیا۔

ہفتہ, 24 ستمبر 2016 14:04

بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے!

حفیظ نعمانی

دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو یہ نہ سوچیں کہ میں جو کہہ رہا ہوں اس سے اسی(۸۰) فیصد لوگ ناراض ہوجائیں گے اور صرف ۲۰ فیصدی خوش ہوں گے لیکن اس کی پرواہ نہ کریں اور جسے حق سمجھیں وہ کہہ دیں۔سپریم کورٹ کے سابق جج مسٹر مارکنڈے کاٹجو بھی ان میں سے ایک ہیں جو کبھی اس کا خیال نہیں کرتے کہ کون خوش ہوگا اور کون ناراض۔ وہ اس بات کو کہہ دیتے ہیں جسے سمجھتے ہیں۔ ۲۰۰۲ء میں گجرات میں جو ہوا وہ اب آخری مرحلہ میں ہے اور جسے سزا دینا تھی دے دی گئی اور جسے رہا کرنا تھا رہا کردیا گیا، صرف دو چار معاملات ایسے بچے ہیں جن کا فیصلہ ہونا ہے۔ وہ بھی دیر سویر ہو ہی جائے گا اور وہ جو ہر زبان پر گودھرا اور احسان جعفری کی کہانی رہا کرتی تھی وہ اب کبھی کبھی کسی کی زبان پر آجاتی ہے۔

حفیظ نعمانی

این ڈی ٹی وی انڈیا میں ہفتے میں چار دن رات کو 9 بجے سے ایک گھنٹہ کا پروگرام پرائم ٹائم آتا ہے جسے رویش کمار ایڈٹ کرتے ہیں، کل پروگرام شروع ہوا تو مخدوم محی الدین کے کہے ہوئے ایک گیت ’’تو کہاں جارہا ہے سپاہی‘‘ بجنا شروع ہوا اور فلیش بیک میں فوجیوں کی نقل و حرکت ، گاڑیوں کے اتار چڑھاؤ، اسلحہ کی نمائش اور اُڑی کے حادثہ میں قربان ہونے والے فوجیوں کی آخری رسوم کی تیاری کے مناظر دکھائے گئے۔ اس کے بعد رویش کمار خود سامنے آئے اور انھوں نے نمدیدہ آنکھوں سے اور غم میں ڈوبی ہوئی آوز سے بتانا شروع کیا کہ یہ کون گاؤں ہے اور یہ کس کا بہادر بیٹا، کس کا شوہر اور کن بچوں کا باپ ہے اور کس بوڑھی ماں کے کلیجہ کا ٹکڑا ہے؟

حفیظ نعمانی

فوج کے 17جوانوں کی قربانی اور 25جوانوں کے زخمی ہونے کا واقعہ حادثہ نہیں، حملہ ہے۔ جیش محمد ہو، لشکر طیبہ ہو یا جماعت الدعوہ، جنھوں نے بھی چار بدبختوں کو جہاد اور شہادت کے فضائل سنا سنا کر جنت کا یقین دلا کر ہندوستان کی سرحد میں داخل ہو کر اندھا دھند گولیاں برسانے کے لیے اور جواب میں شہادت کی موت حاصل کرنے کے لیے تباہی کے سامان لاد کر بھیجا تھا انھوں نے میلوں پاکستا ن کی سرحد پر سفر کیا ہوگا اور ہندوستانی تجربہ کاروں کے نزدیک چار گھنٹے ہندوستان کی سرحد کے اندر سفر کیا ہوگا۔ ان کے بارے میں کیسے مان لیا جائے کہ پاکستانی فوج کو خبر نہ ہو یا انہیں ان کی حمایت حاصل نہ ہو؟

حفیظ نعمانی

یہ بات آج کی نہیں کہ اترپردیش کانگریس کے صدر مسٹر راج ببر نے کہہ دیا کہ اگر ہماری حکومت بنی تو کسانوں کے تمام قرض معاف کردئے جائیں گے اور بجلی کا بل آدھا کردیا جائے گا۔ اگر الیکشن کمیشن کانگریس کے ہر الیکشن کے انتخابی منشور اور اس کی پانچ سال کی کارکردگی کو دیکھے گا تو اسے ایک گھنٹہ نہیں لگے گا کہ وہ اس کا رجسٹریشن کینسل کردے گا۔اترپردیش کی حکومت کو ساڑھے چارسال سے زیادہ اور مرکزی حکومت کو دو سال سے زیادہ ہوچکے ہیں، اگر الیکشن کمیشن دونوں کا جائزہ لے تو آئین کی دفعہ 324کے تحت دونوں کا رجسٹریشن ختم کردے گا،