Live Madinah

makkah1

dushwari

حفیظ نعمانی

جیسے بھی ہوئی سماج وادی پارٹی کی سلور جبلی تمام ہوگئی۔ دوسرے لیڈروں میں کرناٹک کے دیو گوڑا، بہار کے شرد یادو اور لالو، میرٹھ کے ا جیت سنگھ اور دوچار دوسرے لیڈر بھی آئے اور ملائم سنگھ یادو کی قیادت میں سیکولر محاذ بنانے پر اتفاق ظاہر کر گئے۔ لیکن ملائم سنگھ سے اختلاف رکھنے والے پورا دن ملائم سنگھ کی کج ادائیاں اور بے وفائیاں بھی گناتے رہے اور یہ حقیقت ہے کہ اس معاملہ میں ان کی تاریخ پر کئی داغ ہیں۔ شرد یادو اور لالو یادو نے شاید صرف یادو ہونے کی وجہ سے شرکت کو ضروری سمجھا ورنہ بہار کے الیکشن میں ملائم نے باقاعدہ ایک محاذ بنا کر ان دونوں کی مخالفت میں امیدوار کھڑے کیے تھے جبکہ کوئی ان کا پوچھنے والا بھی نہیں تھا۔

اسی کا شہر، وہی مدعی، وہی منصف

ہمیں یقیں تھا ہمارا قصور نکلے گا

حفیظ نعمانی

مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ چوہان 2014میں بھی وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نریندر بھائی مودی سے مقابلہ کرچکے ہیں۔ اس وقت ان کی پشت پر ایڈوانی جی کا بھی ہاتھ تھا لیکن فیصلہ دہلی کا نہیں ناگپور کا تھا۔ اس لیے اس پر غور بھی نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ دوسری اور بھی بہت سی باتیں تھیں جن کی بنا پر ایک اور شاستری سائزوزیر اعظم بنانے کے حق میں کوئی نہیں تھا۔ یہ اپنے اپنے سوچنے کا انداز ہے جس کی وجہ سے چوہان نام کے وزیر اعلیٰ ڈھائی برس سے انگاروں پر لوٹ رہے ہیں۔

ہفتہ, 05 نومبر 2016 15:45

اور کلدیپ نیر آپ بھی

حفیظ نعمانی

اصل مسئلہ تین طلاق نہیں یکساں سول کوڈ ہے۔ جماعت اسلامی کے انگریزی ترجمان نے اپنے پہلے صفحہ پر اس مسئلہ پر ایک مضمون لکھا ہے۔ بزرگ صحافی کلدیپ نیر صاحب کو اس مضمون سے بہت تکلیف ہوئی ہے۔جماعت یا اخبار سے ہمارا کوتعلق نہیں ہے لیکن اس بہانے کلدیپ صاحب جس طرح سامنے آئے ہیں وہ اس لیے حیران کردینے والا ہے کہ وہ ایک عام ہندو صحافی نہیں ہیں بلکہ دنیا بھر میں گھومے بھی ہیں اور انگریزی ہی نہیں اردو کے بھی بڑے صحافی ہیں۔ اور دوسرے مذاہب پر بھی ان کی نظر ہے اور ہر طبقہ اور مسلک کے لوگوں سے ان کا تعلق ہے۔ انھوں نے ’’ریڈینس ‘‘ کے مضمون پر جو کچھ لکھا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی شریعت کو بھی وہ ایسا ہی دستور سمجھ رہے ہیں جیسا ۱۹۴۷ء سے ۱۹۵۰ء کے درمیان ملک کی دستور ساز اسمبلی نے بنا کر ۲۶؍ جنوری کو نافذ کردیا۔

اتوار, 30 اکتوبر 2016 14:05

اترپردیش کا انتخابی دنگل

حفیظ نعمانی

سنا ہے اترپردیش کے الیکشن میں 30ریلی امت شاہ کریں گے اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ بھی اتنی ہی ریلیوں سے خطاب کریں گے۔ اپنی پہلی ریلی امت شاہ نے اٹاوہ میں کی اور وہاں کے رہنے والوں کو وہ دن یاد دلائے جب صوبہ میں بی جے پی کی حکومت تھی اور کلیان سنگھ وزیر اعلیٰ تھے جن پر سپریم کورٹ میں جھوٹا حلف نامہ دینے کا الزام ہے اور جن کی حکومت 6دسمبر 1992کی شام کو صدر نے برخاست کردی تھی۔بی جے پی کے صدر صوبہ کو 25سال پرانی باتیں یاد دلا رہے ہیں جبکہ چوتھائی صدی میں کروڑوں ووٹر وہ ہوگئے جو پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔

حفیظ نعمانی

اپنے ملک ہندوستان کی حیثیت ایک چھوٹی دنیا کی ہے۔ ہم نے ملک کو ہر طرف سے دیکھا ہے لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ پورا ملک دیکھ لیا جیسے ہم مہوبہ کبھی نہیں گئے۔ اس وجہ سے یہ معلوم نہیں کہ وہاں آبادی کا تناسب کیا ہے۔ مسلمان کتنے ہیں اور غیر مسلم کتنے ہیں؟ لیکن وزیر اعظم کی مہوبہ میں تقریر سے اندازہ ہورہا ہے کہ شاید وہاں مسلمانوں کی آبادی بہت زیادہ ہے۔ اسی لیے وزیر اعظم نے تین طلاق کے مسئلہ پر بولتے ہوئے کہا کہ اس پر سیاست نہیں کرنا چاہیے۔ انھوں نے اس معاملہ پر سیاست کرنے والوں اور ٹی وی پر بحث کرنے والوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بیانات خواتین کو ان کے حقوق سے دور کرتے ہیں۔

حفیظ نعمانی

دس دن پہلے جب ہم نے شری ملائم سنگھ کی چھوٹی بیگم اور ان کے راج کمار کا ذکر کیا تھا تو یہ معلوم نہیں تھا کہ محترمہ کا اسم گرامی کیا ہے، لیکن ہم نے صرف اس اشارہ پر کہ جب شیو پال اور اکھلیش میں پہلی جھڑپ ہوئی تھی تو چھوٹی بیگم کے فرزند شیوپال کی حمایت میں تھے۔ پوری کہانی بتائی تھی۔ دو دن پہلے ٹی وی پر ان کو دکھا بھی دیا گیا۔ ان کا نام سادھنا بھی بتا دیا گیا اور اب یہ بات بھی سامنے آگئی کہ اکھلیش بابو کی بیوی ڈمپل ایم پی سے ان کی تلخ کلامی بھی ہوچکی ہے اور اصل مسئلہ وہی ہے کہ میرے بیٹے کی کرسی کہاں ہے؟ملائم سنگھ نے گذشتہ ساڑھے چار سال میں صبح و شام اٹھتے بیٹھتے اور ہر موقع پر یہ کہا ہے کہ عوام نے مجھے ووٹ دئے تھے۔ میں نے اکھلیش کو وزیر اعلیٰ بنایا۔

حفیظ نعمانی

ایک بزرگ رشتہ میں بہت بڑے مگر دوسری ماں کے آنے کے بعد باپ کی نگاہ سے ایسے اُترے کہ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ دوسری بیوی کے آنے کے بعد پہلی بیوی کی اولاد سامنے کھڑی ہونے کے باوجود باپ کو نظر نہیں آتی۔ اس کی تکلیف اس لئے زیادہ تھی کہ باپ دنیا دار نہیں دیندار تھے اور پھر انہوں نے جہاں بھی ایسے رشتے دیکھے وہاں یہی حالت دیکھی۔لکھنؤ میں ہمارے ایک محترم دوست جن کے بڑے بیٹے ہم سے کافی چھوٹے ہونے کے باوجود ہمارے دوستوں میں سے ایک تھے وہاں بھی دوسری ماں اور ان کی اولادوں کا مسئلہ تھا۔ چھوٹی بیگم کی اولاد جب بڑی ہوگئی تو ترقی کرکے ایک ڈاکٹر بھی ہوگیا۔ دوسرے کا مستقبل بھی سنور گیا۔ جس مکان میں سب رہتے تھے وہ دادا کا تھا اور سب سے قیمتی بازار میں لب سڑک تھا جس کے نیچے بڑی بڑی دکانیں تھیں۔

حفیظ نعمانی

بی جے پی جب جن سنگھ تھی تب بھی اس کے تین نعرے تھے رام مندر، یکساں سول کوڈ اور کشمیر کی دفعہ 370۔ رام مندر بنانے کا کام تو سپریم کورٹ کے ہاتھ میں چلا گیا، کشمیر کی دفعہ 370 کو چھیڑکر دیکھا تو اس میں اس کا امکان بھی نظر آیا کہ ہوسکتا ہے کہ مودی صاحب کو خود اس کی کبھی ضرورت پیش آجائے۔ اب لے دے کے یکساں سول کوڈ رہ گیا سو اسے انہوں نے اُترپردیش کے الیکشن کا ہتھیار بنا لیا ہے۔ بی جے پی یعنی آر ایس ایس یعنی شری نریندر بھائی مودی ہمیشہ سے یہ چاہتے ہیں کہ الیکشن اس طرح ہو کہ سارے مسلمان ایک طرف ہوجائیں تاکہ تمام ہندوؤں کو ان کے مقابلہ پر ایک پلیٹ فارم کھڑا کرکے الیکشن جیتا جاسکے۔

جمعہ, 14 اکتوبر 2016 17:52

روی کا قاتل جیل کا ڈاکٹر

حفیظ نعمانی

موضع بساہڑہ دادری کے اخلاق احمد کے ایک سال پہلے قتل کے الزام میں جو ملزم بند ہیں ان میں ایک روی نام کے لڑکے کا ایک ہفتہ پہلے جیل میں انتقال ہوگیا۔ فوری طور پر پورے علاقہ میں یہ خبر بجلی کی طرح پھیل گئی کہ جیل میں اس کی پٹائی کی گئی جس کی تاب نہ لاکر اس نے جان دے دی۔حکومت نے بھی عوامی ہیجان کم کرنے کے لئے فوری طور پر جیلر کا تبادلہ کردیا۔ لیکن دادری کے پورے علاقہ میں یہ شور ہوتا رہا کہ جیل میں اس کی پٹائی کی گئی تھی۔ روی کے گھر والوں کے اصرار پر تین ڈاکٹروں کے پینل نے پوسٹ مارٹم کیا اور اعلان کیا کہ جسم کے اوپر یا اندر کسی طرح کی چوٹ کے نشان نہیں ملے۔ البتہ پھیپھڑوں میں انفیکشن اتنا بڑھ گیا تھا کہ اس کے گردوں نے کام کرنا بند کردیا تھا اور اسی کی وجہ سے روی کی موت ہوگئی۔ اس کا اعتراف اب انتظامیہ بھی کررہی ہے کہ جیل میں علاج کی طرف توجہ نہیں کی گئی۔

حفیظ نعمانی

۲۰۱۴ء کے ابتدائی مہینوں کی ان تقریروں کو کون بھولا ہوگا جو انتخابی مہم شروع کرتے ہوئے وزیر اعظم کے امیدوار شری نریندر مودی نے کی تھیں کہ اب ملک کو کانگریس مکت بھارت بنانا ہے اور اسے بھی کون بھولا ہوگا کہ کانگریس نے ۲۰۰۹ء سے ۲۰۱۴ تک کے پانچ سال میں جیسی حکومت کی اس کی وجہ سے پورا ملک شری مودی کی اس آواز کو ا پنے دل کی آواز سمجھنے لگا اور شاید ہی ملک میں کچھ ایسے لوگ ہوں جنھیں یہ بات ناگوار محسوس ہوتی ہو۔شری نریندر مودی کو خودبھی اور رجت شرما جیسے ان کے اندر سے حمایتی بھی اس سے انکار نہیں کرسکتے کہ اگر الیکشن میں جیتنے کے لیے ملک کے زخم خوردہ عوام سے چاند ستاروں کی برسات کردینے جیسے دعوے نہ بھی کرتے