Live Madinah

makkah1

dushwari

حفیظ نعمانی

رب کریم کا احسان ہے کہ ان آنکھوں نے وہ دن بھی دیکھے ہیں کہ بیل گاڑی کے اوپر بڑا سا تخت رکھا ہے، اس پر صاف گدے اور گاؤ تکیے رکھے ہیں اور تخت پر پنڈت گوبند بلبھ پنت اور سنبھل کے عالم دین مولانا محمد اسمٰعیل صاحب اور کانگریس کے دوسرے مجاہد آزادی بیٹھے ہیں اور اس گاڑی کو بیلوں کے بجائے عوام کھینچ رہے ہیں اور میلوں دور جو جلسہ گاہ ہے وہاں تک لیجانے میں فخر محسوس کررہے ہیں۔اور آزادی کی جد و جہد کے لیے جہاں کہیں امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری ، شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی اور انور صابری کا اعلان ہوتا ہے تو شہر سے ہی نہیں دور دور کے دیہاتوں سے قافلے آرہے ہیں

حفیظ نعمانی

یاد ہوگا کہ پرانے نوٹ بند ہونے کے ساتھ ہی نریندر مودی نے وزیر اعظم کی حیثیت سے اعلان کیا تھا کہ ایک ہزار کے نوٹ کے بدلے اب دو ہزار کا نوٹ اور ۵۰۰ کا نیا نوٹ آگیا ہے۔ وہ پرانے نوٹوں کے بدلے میں ملے گا۔ اور یہ بھی سب کو یاد ہوگا کہ ایک ہفتہ تک صرف ۲ ہزار کے نیلے نوٹ بینک سے دئے جاتے رہے۔ ایک ہفتہ کے بعد ایک دن ٹی وی پر ۵۰۰ کے نئے نوٹ ایسے دکھائے گئے جیسے یہ وزیر اعظم نے خود چھاپے ہیں اور بتایا گیا کہ دہلی اور بھوپال میں یہ نوٹ دیکھے گئے۔

حفیظ نعمانی

کل ایک زمانے کے بعد سابق وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ اور وزیر اعظم نریندر مودی ایک ساتھ راجیہ سبھا میں نظر آئے۔ سابق وزیر اعظم نے اپنی مہارت کی بنیاد پر نوٹ کے نقصانات پر روشنی ڈالی جو حکومت کو بہت ناگوار گذری ۔اور وزیر مالیات ارون جیٹلی نے بعد میںیہ کہہ کر دل کا بخار نکالا کہ جن کے زمانہ ۲۰۰۴ء سے ۲۰۱۴ء تک سب سے زیادہ کالا دھن جمع کیا ہوگا وہ ہمارے کاموں پر اعتراض کرنے آئے ہیں۔بات جیٹلی کی نہیں بی جے پی کاچھوٹے سے چھوٹا بھی جب کسی چینل پر نظر آتا ہے تو وہ بھی صرف ان دس برسوں کی کہانی سنانا شروع کردیتا ہے۔ وزیر اعظم سے سیدشاہ نواز حسین تک کے پاس صرف دس برس کی داستان ہے۔

ہفتہ, 26 نومبر 2016 12:47

بہت دور تک رات ہی رات ہوگی

حفیظ نعمانی

وزیر اعظم کو نہ جانے کیا سوجھی کہ انھوں نے اپنے نادر شاہی فیصلوں کے بارے میں عوام کی رائے جاننا چاہی اور سوالوں کے ذریعہ معلوم کیا کہ آپ کی کیا رائے ہے؟ ٹی وی چینل کا تعلق بے شک صحافت سے ہے لیکن اپنے اشتہارات کی آمدنی کی وجہ سے وہ حکومت کے اشاروں پر دم ہلادیتے ہیں۔یہی رائے کے جواب میں ہوا کہ اخباروں نے تو سوال چھاپ دیے لیکن جواب شاید نہ آئے اور نہ چھپے۔ البتہ ٹی وی کے ہر چینل میں وزیر اعظم کو خوش کرنے کے لیے جوابات کا اعلان اس طرح کیا گیا جیسے ان کے ہر فیصلہ کو عوام نے پسند کیا ہے اور اکثریت ان کی ہے جو اپنے پیارے وزیر اعظم کے ساتھ کھڑے ہیں۔

حفیظ نعمانی

مودی حکومت نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ شادی کے اخراجات کے لیے بینک سے ڈھائی لاکھ روپے نکالے جاسکیں گے۔ اس اعلان کا یہ مطلب نہیں تھا کہ حکومت اپنے ملک کے شہریوں کی ہر شادی میں ڈھائی لاکھ روپے کی مدد کررہی ہے۔ بلکہ یہ تھا کہ لڑکی یا لڑکے کے باپ ، ماں،بھائی یا وہ خود اپنے ان لاکھوں روپے میں سے جو انھوں نے شادی کے لیے جمع کیے تھے ڈھائی لاکھ نکال سکتے ہیں۔اس رقم کے نکالنے کے لیے ریزروبینک نے جیسی شرطیں لگائی ہیں ان سے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ روپیہ ان کا نہیں ریزرو بینک کا ہے اور شرم کی بات یہ ہے کہ ملک کے وفادار اور اپنے ملک سے محبت کرنے والے ان ہندوستانیوں میں جن لوگوں نے وہ شرطیں بھی پوری کردیں

حفیظ نعمانی

پاک پروردگار ان کی مشکلیں آسان فرمائے جو اپنے وزیر اعظم کے فیصلوں سے لہولہان، خون ٹپکاتے ہوئے اپنے وطن جارہے تھے یا کسی عزیز کی شادی رچانے جارہے تھے یا شادی میں محبت کے پھول برسا کر آرہے تھے، جن کی پہلی خبر۲۰ نومبر اتوار کی صبح کو آئی کہ 60سے زیادہ مسافر موت کی نیند سو گئے اور سیکڑوں زخمی ہوگئے اور بے ساختہ ہماری زبان سے نکلا کہ یہ تعداد ابھی بڑھے گی اور آج صبح کی خبر کے مطابق یہ تعداد دو گنی سے بھی زیادہ ہوگئی اور زخمیوں کی تعداد 300ہوگئی۔ یہ ٹرین اندور سے پٹنہ جارہی تھی اور اس میں اکثریت بہاری مزدوروں کی تھی جو نہ جانے کب سے اپنا گھر بار چھوڑے بچوں کے لیے کمانے میں مصروف تھے۔ خبروں کے مطابق رات کے تین بجے تھے اور ٹرین ۱۱۰ کلومیٹر کی رفتار سے جارہی تھی۔

ہفتہ, 19 نومبر 2016 12:50

مودی کا اقتصادی الیکشن

حفیظ نعمانی

مجبوریوں کو عقل کے سانچے میں ڈھال کر
جب کچھ نہ بن سکا مرا ایماں بنا دیا
وزیر اعظم نریندر مودی کو الیکشن کا بہت شوق ہے۔ انھوں نے اس حساس مسئلہ کو جس کا تعلق صرف حکومت اور عوام سے تھا انتخابی عنوان دے دیا۔ انھوں نے اپنے کاموں اور فیصلوں پر تنقید کرنے والوں کی پارٹیاں بنا دیں۔ کالا دھن پارٹی، بھرشٹاچار پارٹی اور خود بگلا بھگت پارٹی کے صدر بن گئے۔ اب جوکہے کہ بے سوچے سمجھے اور بغیر تیاری کا نتیجہ ہے کہ عوام خون کے آنسو رورہے ہیں تو اسے کالا دھن پارٹی کا آدمی قرار دے دیا جاتا ہے۔ جو کہے کہ اے ٹی ایم مشینیں ناکارہ ہوچکی ہیں اور گھنٹوں کھڑے رہنے کے بعدلوگ خالی ہاتھ واپس آرہے ہیں تو اسے بھرشٹاچار پارٹی کا آدمی بتادیا جاتا ہے۔

حفیظ نعمانی

بات زیادہ دن پرانی نہیں صرف ۱۹ مہینے پرانی ہے کہ نریندر بھائی مودی نے بالکل اسی انداز ، اسی لہجے اور اتنی ہی لجاجت سے قوم سے کہا تھا کہ مجھے حکومت دے دو اور صرف سو دن دے دو تو میں وہ لاکھوں کروڑ کالادھن دنیا کے بینکوں سے نکال کر لاؤں گا جو نہرو گاندھی پریوار اور ان کے ساتھیوں نے ۴۰ برس میں جمع کیا ہے۔ پھر دیکھنا کہ ہر کسی کے نام کے کھاتے میں ۱۵ لاکھ روپے آجائیں گے اس لیے کہ یہ روپیہ سرکارکا نہیں آپ کا ہے۔اور اس سے بھی 20مہینے ہوئے ہیں کہ ایک سنیاسی بابا رام دیوکے پاس ایک موٹا تھیلا ہوتا تھا۔ اس میں فائلیں تھیں جنھیں کھول کر وہ سبق سنایا کرتا تھا کہ کتنا کتنا کس کس بینک میں ہے اور کس کس نے جمع کیا ہے؟

منگل, 15 نومبر 2016 13:01

تہمتیں چند اپنے ذمہ دھر چلے

حفیظ نعمانی

روشنی کہیں سے آئے وہ روشنی ہوتی ہے۔ مالیگاؤں کبھی گاؤں رہا ہوگا۔ہمارا جب رابطہ ہوا تو وہ مہاراشٹر کی ایک تحصیل تھی اور مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ سب سے پہلے یہ خبر مالیگاؤں سے آئی کہ وہاں لڑکیوں کا ایک دینی مدرسہ قائم ہوا ہے جہاں درس نظامی کے ذریعہ تعلیم دے کر لڑکیوں کو عالمہ بنایا جارہا ہے۔ اس مدرسہ میں لکھنؤ کے ڈاکٹر محمد اشتیاق حسین قریشی صاحب نے اپنی دختر نیک اختر کو بھیجا۔ وہ عالمہ بن کر آئیں۔ پھر ڈاکٹر صاحب اپنی بیٹی کے تعاون سے لڑکیوں کا پہلا مدرسہ لکھنؤ میں قائم کیا اور اس میں تعلیم پا کر نہ جانے کتنی لڑکیاں عالمہ بنیں اور اب لکھنؤ اترپردیش کے دوسرے شہروں میں سیکڑوں مدرسے لڑکیوں کے کھل گئے۔

بدھ, 09 نومبر 2016 14:04

سَنگھ کی منہ بولی بیٹیاں

حفیظ نعمانی

روز نامہ انقلاب کا شمار ملک کے بڑے اخباروں میں اس وقت بھی ہوتاتھا جب وہ مسلمانوں کی ملکیت میں تھا، پھر جب اسے ہندی کے دینک جاگرن کے مالکوں نے خرید لیا تو اس کا حلقہ اور زیادہ بڑا ہوگیا۔ اب وہ اوپر سے اردو والوں کا ترجمان ہے اور اندر سے بی جے پی کی مدد کرتا ہے۔ وہ کچھ دنوں سے مسلمانوں کے سب سے بڑے بورڈ ’’مسلم پرسنل لا بورڈ‘‘ پر بہت ہوشیاری سے حملے کرتا ہے۔ ایک بار بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی کی طرف سے سوال بھی خود ہی تیار کیا اور جواب بھی خود ہی دے دیا۔ مولانا رحمانی نے ہم سے رجوع کیا تو ہمیں اس کی وضاحت کرنا پڑی۔