Live Madinah

makkah1

dushwari

حفیظ نعمانی

ملک کی آزادی کو ۷۰ سال ہوگئے اور جو جمہوری نظام پہلے دن نافذ کیا گیا تھا وہ بغیر کسی وقفہ کے آج تک چل رہاہے، پنڈت نہرو سے لے کر ڈاکٹر من موہن سنگھ تک ایک درجن کے قریب وزیر اعظم بنے جن میں پنڈت نہرو اور اندراگاندھی تو دس برس سے زیادہ عرصہ تک وزیر اعظم رہیں اور ڈاکٹر من موہن سنگھ دس برس رہے ان کے علاوہ ایسے بھی ہوئے جنھوں نے ایک برس پورا کیا اور ایسے بھی رہے جو مہینہ اور ہفتہ ہی پورا کرکے چلے گئے۔ لیکن جیسے بھی حالات رہے ہوں کسی نے وقار اور بھرم پر آنچ نہیں آنے دی۔ ان میں ایسے بھی وزیر اعظم ہوئے جو صرف اپنی پارٹی کے بل پر بنے اور پورا عرصہ اپنے بل پر ہی حکومت چلائی اور ایسے بھی ہوئے جن کو اپنے مخالفوں کی مدد لینا پڑی۔ اور بہت سی بدنامیاں ان ساتھیوں کی وجہ سے برداشت کرنا پڑیں یا ان کی ہی وجہ سے حکومت سے ہاتھ کھینچنا پڑا۔

جمعہ, 23 دسمبر 2016 19:50

الیکشن میں ہماری ذمہ داری

حفیظ نعمانی

الیکشن کمیشن کے ہلکے سے اشارہ کے مطابق اتر پردیش میں کسی بھی وقت الیکشن ہوسکتے ہیں۔ صوبائی حکومت کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے تو جس دن میٹرو کا ٹرائل دیا تھا اسی دن کہہ دیا تھا کہ ہم الیکشن کے لیے تیار ہیں۔ اترپردیش میں دوسری پارٹی یوں تو بی ایس پی ہے لیکن مرکز میں حکومت کی وجہ سے یہ مقام بی جے پی نے حاصل کرلیا ہے اور الیکشن کمیشن اس فیصلہ میں اسے بھی شریک کرنا چاہے گا۔ اور اس کے اشاروں سے اندازہ ہورہا ہے کہ وہ اچھے دن کے انتظار میں الیکشن کرانے میں جلدی نہیں چاہتی، جبکہ اس کی حالت ایسی ہوگئی ہے کہ وہ مہینوں میں نہیں برسوں میں بھی سنبھل جائے تو بڑی بات ہے۔

حفیظ نعمانی

پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس جس طرح شروع ہوا اور جس طرح چلا اور جس طرح ختم ہوا وہ شرم ناک اجلاس میں سے ا یک مانا جائے گا۔ ۸؍ نومبر کو وزیر اعظم نے ۱۰۰۰ اور ۵۰۰ کے وہ نوٹ جن سے ملک بڑے سکون سے چل رہا تھا۔ رات کے ۱۲ بجے سے انہیں غیر قانونی قرار دے کر اور چند سرکاری یانیم سرکاری یونٹوں میں مہینہ بھر چلا کر کل ۱۵ تاریخ کی رات کو ۱۲ بجے سے بس بینکوں میں جمع کرنے تک انہیں محدود کردیا۔ گویا ۱۲ دن اور اگر بینک میں بھی جمع نہ کیے گئے تو وہ چورن والے نوٹ ہوجائیں گے۔وزیر اعظم کے اعلان کے بعدسے آج تک مسلسل اس کی مخالفت ہورہی ہے ۔ جب زیادہ شور ہوا تو وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے صرف ۵۰ دن دے دو اس کے بعد ملک اگر کندن بن کر اور تمہارے خوابوں کا ملک بن کر نہ ابھرے تو مجھے جو چاہے سزا دینا۔

حفیظ نعمانی

دنیا بھر میں مختلف ایجنسیاں سروے کرنے میں مصروف ہیں۔ ہندوستان میں بھی کوئی ایجنسی یہ دیکھ رہی ہے کہ ملک میں جو طبقے ہیں ان کے ذہن میں حکومت کے لائق کون ہے؟ ہندو رام مندر کے لیے اور مسلمان بابری مسجد کے لیے کتنے سنجیدہ ہیں؟ ۲۰۰۴ء اور ۲۰۱۴ء کے درمیان ذہنوں میں کتنی تبدیلی آئی ۔انگریزی اخبارات کے علاوہ ہندی اور اردو اخبار پڑھنے والے کیا سوچ رہے ہیں؟ایک ایجنسی ’’سی ایس ڈی ایس‘‘ برسوں سے ہندوستان میں فرقہ واریت کا سروے کررہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ’’۲۰۱۴ء کے الیکشن کے بعد فرقہ واریت میں حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے۔ تعلیم یافتہ ذہن زیادہ آلودہ ہوئے ہیں۔‘‘

حفیظ نعمانی

صرف ایک مہینے میں وزیر اعظم نریندر مودی کا سیاسی وزن اتنا کم ہوگیا کہ اپوزیشن جماعتیں انہیں پارلیمنٹ میں بولنے نہیں دے رہی ہیں۔ ہم نہ ممبر پارلیمنٹ ہیں نہ سیاست ہماری روزی روٹی ہے۔ لیکن لکھنے کی بیماری وجہ سے دوپہر کا زیادہ وقت صرف ٹی وی کے سامنے اس لیے گذرتا ہے کہ پارلیمنٹ کی کاروائی چلے نہ چلے اس کی تفصیل پر بات ہوتی رہتی ہے۔ اس پورے عرصہ میں ہم نے دیکھا کہ ابتدا میں ہر دن وزیر اعظم کو بلانے کا مطالبہ دونوں ایوانوں میں ہوتا رہا۔ دو ہفتے کے بعد انھوں نے کفر توڑا لیکن لوک سبھا کے ایک کنارے کی کرسی پر آکر ایسے بیٹھ گئے جیسے روٹھی ہوئی ساس بیٹے کے بلانے پر آجاتی ہے اور دروازہ کے پاس پڑی پیڑھی پر آکر بیٹھ جاتی ہے۔ جبکہ وزیر اعظم کی دونوں ایوانوں میں جگہ مخصوص ہے۔

حفیظ نعمانی

ٹی وی کے ’’آج تک‘‘ چینل نے پیر سے ایک بہت اچھا پروگرام شروع کیا تھا جس میں جمعرات تک جو سامنے آیا اس سے توقع تھی کہ وہ اور زیادہ مقبول ہوگا۔ کل جمعہ کو بی جے پی کے ایک مشہور اور تجربہ کار ترجمان کو بھی بلایا گیا۔ حیرت ہوئی کہ وہ نوٹ بندی کی ناکامی پر اور عوام کی آخری درجہ کی پریشانیوں اور سوسے قریب انسانوں کی موت پر ایسے بھڑکے کہ گالیاں دینے لگے اور ایک گھنٹہ کا انتہائی سنجیدہ پروگرام صرف ۱۵ منٹ تین ٹکڑوں میں دکھا کر اور سنا کر ختم کردینا پڑا۔ جن حضرات نے وہ نہ دیکھا ہو ان کے لیے صرف اتنا بتلا دینا شاید کافی ہو کہ ایک صاحب نے کہا کہ وہ سو آدمی جو صرف اپنے روپے لینے میں ناکام رہنے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے گئے۔ کم از کم کوئی وزیر ان کے گھر جا کر اتنا تو کہہ دیتا کہ وہ کالے دھن بھرشٹاچار اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہوئے ہیں۔ ملک کو ان پر فخر ہے۔

حفیظ نعمانی

مخصوص لوگوں کی ایک میٹنگ میں وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے وہ سب کہہ دیا جو ان کے دل میں تھا ۔ ایک معروف صحافی سے عوامی گفتگو کرتے وقت انھوں نے اعتراف کیا کہ ان کی پرشانت کشور سے گفتگو ہوئی تھی، لیکن یہ بھی وضاحت کردی کہ میری گفتگو شری ملائم سنگھ کے بعد ہوئی تھی اور وہ بھی اس حق میں ہیں کہ کانگریس کے ساتھ اتحاد کرکے الیکشن لڑیں تو ۳۰۰ سیٹیں جیت کر حکومت بنا سکتے ہیں لیکن یہ کہنا بھی نہیں بھولے کہ ہم اگر اکیلے بھی لڑیں گے تب بھی حکومت ہماری ہی بنے گی۔ اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کانگریس کے ساتھ اگر ضرورت پڑی تو بعد میں اتحاد کرلیں گے۔

حفیظ نعمانی

مخصوص لوگوں کی ایک میٹنگ میں وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے وہ سب کہہ دیا جو ان کے دل میں تھا ۔ ایک معروف صحافی سے عوامی گفتگو کرتے وقت انھوں نے اعتراف کیا کہ ان کی پرشانت کشور سے گفتگو ہوئی تھی، لیکن یہ بھی وضاحت کردی کہ میری گفتگو شری ملائم سنگھ کے بعد ہوئی تھی اور وہ بھی اس حق میں ہیں کہ کانگریس کے ساتھ اتحاد کرکے الیکشن لڑیں تو ۳۰۰ سیٹیں جیت کر حکومت بنا سکتے ہیں لیکن یہ کہنا بھی نہیں بھولے کہ ہم اگر اکیلے بھی لڑیں گے تب بھی حکومت ہماری ہی بنے گی۔ اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کانگریس کے ساتھ اگر ضرورت پڑی تو بعد میں اتحاد کرلیں گے۔

حفیظ نعمانی

اترپردیش کے وزیر اعلیٰ مسٹر اکھلیش یادو نے لکھنؤ میں میٹرو کو چلا کر دکھانے کے بعد کہہ دیا کہ اب ہم الیکشن کے لیے تیار ہیں۔ وہ پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ ہم سماجوادی اپنے وکاس (ترقی) پر الیکشن لڑیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اکھلیش پہلے وزیر اعلیٰ ہیں جنھوں نے بہت سنجیدگی اور لگن کے ساتھ وکاس پر توجہ کی ہے اور ان کا سب سے زیادہ زور لکھنؤ کو حسین بنانے اور لکھنؤ کو آگرہ اور دہلی سے جوڑنے اور اس طرح کے ترقیاتی کاموں پر رہا ہے۔ میٹرو ان کا سب سے اہم خواب تھا۔ ان کے ذہن میں شاید دہلی کی سابق وزیر اعلیٰ مسز شیلا دکشت کی ۱۵ سال کی حکومت تھی جو شہرت کی حد تک میٹرو کا تحفہ تھا۔ لیکن اکھلیش بابو شاید بھول گئے کہ لکھنؤ دہلی نہیں ہے،

ہفتہ, 03 دسمبر 2016 13:10

آج ہم کل تمہاری باری ہے

حفیظ نعمانی

پاک پروردگار کا ایک کرم یہ بھی ہے کہ ہمارے خاندان میں سرکاری ملازمت نہ ہونے کے برابر ہے۔ صرف ایک تایا سرکاری اسکولوں میں ماسٹر رہے۔ ایک بھتیجا ریڈیو کے عربی سیکشن میں رہا اور ایک بیٹا جامعہ ملیہ میں اپنے شعبہ کاصدر ہے۔ کل دوپہر ایک رپورٹر ایک بینک کے سامنے ضرورت مندوں کی لائن کے پاس کھڑا تھا اور بتارہا تھا کہ بینک نے صبح ٹوکن دئے تھے اور اب ٹوکن والوں سے زیادہ بغیر ٹوکن والے کھڑے ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ اگر بینک میں Cashہوگا تو لے لیں گے۔ اس کے بعد رپورٹر نے کہا کہ کل کے بعد کیا ہوگا جب سرکاری ملازموں کی تنخواہیں آجائیں گی اور سیکڑوں ملازم ہر بینک میں چیک لے کر روپے نکالنے آئیں گے اور بینک پر No Cashکا بورڈ لگا ہوگا؟