Live Madinah

makkah1

dushwari

حفیظ نعمانی

دیش نیتا مہاتما گاندھی کی پہچان صرف چرخہ نہیں ہے۔وہ کھدر کی دھوتی بھی ہے جس میں اتنا کپڑا بھی نہیں ہوتا تھا جتنا مودی جی کی ایک پگڑی میں ہوتا ہے اور ایک پہچان یہ بھی ہے کہ انھوں نے زیادہ تو برت اس لیے رکھے کہ ملک کی اقلیت مسلمانوں کو نہ مارا جائے اور نہ ستایا جائے۔ ان کی پرارتھنا سبھا میں رگھوپتی راگھو راجا رام ہی نہیں قرآن پاک کی آیات اور انجیل کی تعلیم کا بھی کچھ حصہ سنایا جاتا تھا۔ وغیرہ وغیرہ۔اور مودی جی کی پہچان یہ ہے کہ وہ پروین تگڑیاں کے ساتھ ایک زمانے میں گجرات میں ہندتو کی ترقی کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ نریندر مودی اس وقت 64سال کے تھے اور توگڑیا 58سال کے۔ دونوں ساتھ ساتھ آر ایس ایس کی شاکھاؤں میں حاضر ہوا کرتے تھے۔ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ دونوں ایک موٹر سائیکل پر دیکھے جاتے تھے جسے پروین توگڑیاں چلاتے تھے اور مودی پیچھے بیٹھے ہوتے تھے اور پورے گجرات میں گھوم گھوم کر سنگھ کے نظریات کا پرچار کرتے تھے۔

حفیظ نعمانی

بنگلور اور دہلی کے شرمناک واقعات نے اتنی اہمیت اختیار کرلی ہے کہ این ڈی ٹی وی انڈیا کا پروگرام ’’ہم لوگ‘‘ کل صرف اس کے گرد گھومتا رہا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اب تک بنگلور سے ایسی خبریں تو آتی تھیں کہ وہاں لڑکوں نے لڑکیوں کی آوارہ گردی یا بے راہ روی پر دوڑایا، سزادی یا انہیں اس کا پابند کیا کہ وہ کسی بھی یوم کے موقع پر لڑکوں کے ساتھ آوارہ گھومتی نظر نہ آئیں۔ لیکن یہ خبر شاید پہلی بار آئی ہے اور اس لئے اسے ایک ہفتہ ہوجانے کے باوجود بار بار اور ہر دن دکھایا جارہا ہے کہ دن کے ڈھائی بجے ایک سنسان سڑک پر ایک لڑکی جارہی ہے اور اسکوٹر پر سوار دو لڑکے اس کے پاس سے گذرتے ہیں اور پھر واپس آکر ان میں سے ایک اس لڑکی کے ساتھ ایسی حرکت کرتا ہے جس سے پورا ملک دہل جاتا ہے۔

حفیظ نعمانی

موجودہ پارلیمنٹ میں جتنے بھی ایسے یا ایسی ہیں جنھیں مودی جی نے صرف اس لیے ٹکٹ دئے یا دلائے تھے کہ وہ اپنے مذہبی کردار کی وجہ سے جیت سکتے ہیں وہ اور تو کچھ کر نہیں سکتے ملک میں فتنہ کھڑا کرتے رہتے ہیں اور بی جے پی کی اتنی ہمت نہیں کہ انہیں پارٹی سے نکال دے۔ وہ صرف یہ کہتی ہے کہ یہ ان کا ذاتی بیان ہے۔ بی جے پی کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ صرف بی جے پی یا کانگریس جانتی ہوں گی کہ ذاتی اور غیر ذاتی تعلق میں کیا فرق ہے؟ بیان تو نریندر بھائی مودی دیں یا ساکشی مہاراج، مرلی منوہر جوشی دیں یا شاہ نواز حسین وہ جب تک بی جے پی میں ہیں ان کا بیان بی جے پی کا ہی مانا جائے گا۔

حفیظ نعمانی

اللہ غفور رحیم کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے عابد سہیل کو کہ برسوں پہلے انھوں نے ایک افسانہ لکھا تھا جس میں کہا کہ ہم اپنی بیگم کے ساتھ خریداری کے لیے جارہے تھے۔ گھر میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھی۔ ان کو سمجھا دیا کہ آپ لوگ پڑھتے رہیں ہم ایک گھنٹہ میں آجائیں گے۔ جانا اپنے اختیار میں ہوتا ہے اور آنا دوسروں کے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دو گھنٹے لگ گئے۔ واپس آئے اور دروازہ کی گھنٹی بجائی تو بیٹے نے دروازہ کھولا۔ اندر قدم رکھا تو سامنے صوفے پر بیٹی لیٹی تھی اور جگہ جگہ سفید پٹیاں بندھی تھیں۔ ماں کی چیخ نکل گئی کہ کیا ہوا میری بیٹی کو؟ بیٹے نے مسکراتے ہوئے کہا کہ امی کچھ نہیں ہوا ہم شیعہ سنی فساد کھیل رہے تھے۔ یہ اس زمانہ کی بات ہے جب لکھنؤ میں دو مہینے میں بار بار فساد ہوتے تھے اور کرفیو لگتا تھا۔

حفیظ نعمانی

سماج وادی پارٹی کے بانی اور یوپی کے یادو لیڈر ملائم سنگھ یادو نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز سائیکل سے کیا تھا۔ شیو پال یادو کے بیان کے مطابق وہ سائیکل سے ہی گاؤں گاؤں گھومتے تھے اور اسکول میں پڑھاتے بھی تھے۔ ایم ایل اے بن جانے کے کافی دنوں کے بعد انھوں نے ایک پرانی موٹر سائیکل خریدی تھی اور کئی برس کے بعد ایک جیپ پرانی لے لی تھی جس کے پٹرول کے لیے اکثر جلسہ کے بعد چندہ کیا جاتا تھا اور بعد میں وہ دوسرے جلسہ کے لیے روانہ ہوجاتے تھے۔بیشک یہ محنت کا ہی پھل تھا کہ وہ وزیر اعلیٰ بھی بنے اور ملک کے وزیر دفاع بھی۔ لیکن اس کی تعریف کی جائے گی کہ انھوں نے اپنی پوشاک نہیں بدلی اور وہ آج بھی گاؤں کے یادو لیڈر نظر آتے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جب سے ان کی زندگی میں امر سنگھ داخل ہوئے اس کے بعد سے ان کے اندر بہت کچھ بدل گیا۔ اسی زمانے میں سچ یا جھوٹ کچھ کہانیاں بھی زبانوں پر آئیں اور اس کے بعد سے ہی ان کی سالگرہ ایسی ہونے لگی کہ اس میں نیم عریاں ڈانس بھی ہونے لگے اور وہ سب کچھ ہونے لگا جو عوامی لیڈر کے لیے زہر کہا گیا ہے۔ اور جو اس میں پھنسا وہ پھر پاک صاف نہیں رہا۔

حفیظ نعمانی

روئے زمین پر کوئی رشتہ باپ اور بیٹے کے علاوہ دوسرا ایسا نہیں ہے جو یہ برداشت کرپائے کہ کوئی اس سے آگے نکل جائے۔ یہ صرف باپ ہوتا ہے جو ہر پل یہ چاہتا ہے کہ میرا بیٹا ہر چیز میں مجھ سے بڑھ جائے۔ لیکن وہ بیٹا جس کی ماں اسے چھوڑ کر جا چکی ہو اور اس کی جگہ کوئی دوسری عورت ماں بن کر آگئی ہو وہ یہ برداشت نہیں کرتی کہ بیٹا اس کے شوہر سے عظیم ہوجائے اور دوسری بیوی ایسا جادو ہے جو اپنے شوہر کو ایسا جکڑتی ہے کہ پھر باپ کو وہی بیٹا ایک بوجھ لگنے لگتا ہے۔ وہ اسے کوڑے کی طرح باہر تو اس لیے نہیں پھینک سکتا کہ سماج تھو تھو کرے گا۔ لیکن یہ بھی برداشت نہیں ہوتا کہ وہ اتنی ترقی کرے کہ باپ اس کے نام سے پہچانا جائے۔

حفیظ نعمانی

سماج وادی پارٹی کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا میں پارٹی کے ترجمان پروفیسر رام گوپال یادو نے روز روز کی ذلت کا دروازہ بند کرنے کے لیے پارٹی کے قومی صدر شری ملائم سنگھ یادو کو ایک خصوصی اجلاس بلا کر بے اثر کردیا۔ اب وہ قومی صدر کے بجائے صرف سرپرست اور خیر خواہ رہیں گے۔ ان کے ساتھ ہی ان کے دست راست ٹھاکر امر سنگھ کو بھی پارٹی سے باہر کا راستہ دکھا دیا اور یوپی کے صدر شیور پال سے ان کی صدارت واپس لے لی۔ہم کئی مہینے سے لکھ رہے ہیں کہ ملائم سنگھ ایک کم عقل عورت اور کم سمجھ چھوٹے بھائی اور فتنہ پردازی کے لیے بدنام امر سنگھ کے ہاتھوں کا کھلونا بن گئے تھے۔ امر سنگھ نے ۲۰۰۲ء کے بعد جب ملائم سنگھ وزیر اعلیٰ تھے تو انہیں ظل الٰہی اور جہاں پناہ بنا کر محل کے اندر بندکردیا تھا اور حکمرانی کا کام اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا اور اسی کا نتیجہ تھا کہ وہ 2007میں 80سیٹیں بھی نہیں جیت سکے تھے۔ اس کے باوجود ملائم سنگھ کو عقل نہیں آئی اور وہ ان کے ہاتھوں میں کھیلتے رہے۔

جمعرات, 29 دسمبر 2016 12:59

نصیحت اپنی جگہ حقیقت اپنی جگہ

حفیظ نعمانی

تعلیم سے معاشرے کی ترقی اور فلاح و بہبود کے موضوع پر منعقدہ ’’تعلیم و تربیت‘‘ کانفرنس میں نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری صاحب نے تقریر کرتے ہوئے مسلمانوں سے فرمایا کہ ملک کا شہری ہونے کے ناطے مسلمانوں کے بھی اتنے ہی حقوق ہیں جتنے دوسرے شہریوں کے ہیں۔ اگر حکومت انہیں ان کا حق دینے میں کوتاہی کرتی ہے یا تاخیر کرتی ہے تو وہ اپنی آواز اس کے سامنے اٹھا سکتے ہیں۔ لیکن اگر اس نے اپنے بچوں کو تعلیم سے محروم رکھا تو یقیناًوہ ترقی کی دوڑ میں پچھڑ جائیں گے۔یہ بات محترم حامد صاحب نے ہی نہیں مسلمانوں کا درد رکھنے والا ہر بڑا آدمی کہتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے یا تو وہ آج کے مسلمان کو جانتا ہی نہیں یا جان بوجھ کر اپنے کو اور پوری قوم کو دھوکہ دے رہا ہے۔ ہم اس طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں جسے درمیانی طبقہ کہا جاتا ہے۔

حفیظ نعمانی

ملک کی آزادی کو ۷۰ سال ہوگئے اور جو جمہوری نظام پہلے دن نافذ کیا گیا تھا وہ بغیر کسی وقفہ کے آج تک چل رہاہے، پنڈت نہرو سے لے کر ڈاکٹر من موہن سنگھ تک ایک درجن کے قریب وزیر اعظم بنے جن میں پنڈت نہرو اور اندراگاندھی تو دس برس سے زیادہ عرصہ تک وزیر اعظم رہیں اور ڈاکٹر من موہن سنگھ دس برس رہے ان کے علاوہ ایسے بھی ہوئے جنھوں نے ایک برس پورا کیا اور ایسے بھی رہے جو مہینہ اور ہفتہ ہی پورا کرکے چلے گئے۔ لیکن جیسے بھی حالات رہے ہوں کسی نے وقار اور بھرم پر آنچ نہیں آنے دی۔ ان میں ایسے بھی وزیر اعظم ہوئے جو صرف اپنی پارٹی کے بل پر بنے اور پورا عرصہ اپنے بل پر ہی حکومت چلائی اور ایسے بھی ہوئے جن کو اپنے مخالفوں کی مدد لینا پڑی۔ اور بہت سی بدنامیاں ان ساتھیوں کی وجہ سے برداشت کرنا پڑیں یا ان کی ہی وجہ سے حکومت سے ہاتھ کھینچنا پڑا۔

حفیظ نعمانی

سید فیصل علی سہارا کے گروپ ایڈیٹر ہیں۔ انھوں نے کانگریس کے ایک لیڈر غلام نبی آزاد سے اترپردیش میں کانگریس کی پالیسی کے بارے میں کھل کر گفتگو کی۔ فیصل صاحب نے معلوم کیا کہ ۲۰۱۲ء کے الیکشن میں کانگریس کو صرف ۲۸ سیٹیں ملیں جو اب تک کی سب سے کم سیٹیں تھیں۔ جواب دیتے ہوئے آزاد صاحب نے کہا کہ میرے نزدیک اس کی کئی وجوہات ہیں۔ مثلاً آزادی سے پہلے ملک میں ذات اور مذہب کی تفریق نہیں تھی لیکن اب صرف یو پی میں ہی نہیں پورے ملک میں ذات اور مذہب کی بنیاد پر لوگ تقسیم ہوچکے ہیں۔ کانگریس پارٹی نے کبھی بھی ذات اور مذہب کی سیاست نہیں کی۔ اس کا مقصد ملک کو آزاد کرانا اور اس کے بعد ہندوستان کی تعمیر کرنا تھا۔