Live Madinah

makkah1

dushwari

حفیظ نعمانی

۱۱؍ فروری کو جب پہلے راؤنڈ کی پولنگ ہورہی تھی تو ٹی وی کے نمائندے ہر سیٹ پر جارہے تھے اور دکھا رہے تھے کہ پولنگ کیسی ہورہی ہے؟ مظفر نگر ضلع کی تحصیل کیرانہ میں این ڈی ٹی وی کے رپورٹر نے لائن میں لگے ایک خوش لباس اور خوش شکل نوجوان سے معلوم کیا کہ کیرانہ میں جو ہندوؤں کی فرار کا موضوع تھا اس کا کیا اثر ہے؟ اتنا سننا تھا کہ وہ تعلیم یافتہ نوجوان پھٹ پڑا اور اس نے سارا الزام ٹی وی والوں پر رکھتے ہوئے کہا کہ میڈیا کے پروپیگنڈے کی وجہ سے ہی ہماری یہ حالت ہوگئی ہے کہ ہم اپنے کو کیرانہ کا بتاتے ہوئے شرماتے ہیں۔ 

حفیظ نعمانی

مسلم ماہر تعلیم کمال قادری صاحب نے پریس سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’مایاوتی بی جے پی سے سمجھوتہ نہیں کرے گی‘‘ یہ بات انھوں نے اس بنیاد پر کہی ہے کہ مایاوتی نے ان سے کہا ہے۔ مایاوتی نے اس سے پہلے دوبا ر بی جے پی سے مل کر حکومت بنائی ہے اور ایک بار ملائم سنگھ کے ساتھ مل کربھی حکومت بنائی لیکن ہر بار ان کی شرط یہ رہی کہ دونوں پارٹیوں کا وزیر اعلیٰ چھ چھ مہینے رہے گا۔ اور تینوں بار مایاوتی پہلے وزیر اعلیٰ بنیں اور پھر دوسرے کو موقع نہیں دیا۔ اگر اب ان کے سامنے ایسی صورت آتی ہے تو ان کی شرط پھر وہی ہوگی اور کوئی ان کی اس شرط کو نہیں مانے گا کہ پہلے وہ وزیر اعلیٰ بنیں اور مایاوتی یہ برداشت نہیں کریں گی کہ وہ کسی وزیر اعلیٰ کے ماتحت رہ کر کام کریں۔

حفیظ نعمانی

پارلیمنٹ میں صدر کے خطبہ پر شکریہ کی تحریک کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نے آخر کار اپنی خاموشی توڑیاور عادت کے مطابق وہ سب کہہ دیا جو ان کے دل میں غبار کی طرح بھرا ہوا تھا۔ انھوں نے اپنی نوٹ بندی کی غلطی کو صحیح ٹھہرانے کے لیے وہ سب باتیں کہیں جو وہ ملک میں انتخابی جلسوں میں کہہ رہے ہیں اور پارلیمنٹ کے ممبروں کے مطابق وہ یہ بھول گئے کہ وہ کہاں کھڑے ہیں اور تقریر کے درمیان میں بھائیو اور بہنو بھی کہہ دیا۔ وہ اعلان کرچکے تھے کہ اگر ۵۰ دن میں حالات اپنی جگہ پر نہ آئیں تو جس چوراہے پر چاہو کھڑا کرکے مجھے سزا دے دینا۔ اور اتفاق سے این ڈی ٹی وی انڈیا کے مشہور ایڈیٹر رویش کمار کل رات مرادآباد کی پیتل نگری میں گھوم گھوم کر معلوم کررہے تھے کہ ۹۰ دن کے بعد تمام کارخانے اپنی جگہ پر آئے یا نہیں اور ہر کارخانہ میں یہ جواب ملا کہ ابھی نہیں۔ کام ہورہا تھا مگر ہر کارخانہ میں آدمی اس لیے کم تھے کہ وہ روز شام کو اپنی مزدوری لیتے ہیں اور بینک ا تنے روپے نہیں دیتے کہ سب کو مزدوری دے سکیں۔

حفیظ نعمانی

اس ملک سے زیادہ بد نصیب کون ہوگا جس کے وزیر اعظم یا صدر کی بات کا اس کے عوام کو بھروسہ نہ ہو؟ اب تک ملک میں دو باتیں اہم مانی جاتی تھیں کہ کوئی وزیر یا پارٹی لیڈر کوئی بات پارلیمنٹ سے باہر کہے تو اس پر اعتماد نہیں ہوتا اور مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ہاؤس کے اندر کہئے اور وزیر کوئی بات کہے تو مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وزیر اعظم کہیں تب مانیں گے۔یعنی وزیر اعظم کہہ دیں گے تو وہ پتھر کی لگیر ہوگا اور اس کا پورا ہونا یقینی ہوجائے گا لیکن ۱۲۵ کروڑ انسانوں کی یہ کتنی بڑی بدقسمتی ہے کہ اس ملک کے وزیر اعظم کے منہ سے جو بات نکلتی ہے وہ جھوٹ ہوتی ہے اور انہیں ایک لمحہ کے لیے بھی خیال نہیں ہوتا کہ اگر میرے اوپر نہیں تو یہ سوا سو کروڑ کس پر بھروسہ کریں گے؟

حفیظ نعمانی

پنجاب اور گوا کے ا لیکشن کے متعلق جائزہ لینے والوں کا اندازہ ہے کہ دونوں جگہ غیرت مند عوام نے حکومت سے نوٹ بندی کا انتقام لیا ہے اور اکالی دل کو بھی اس کی سزا دے دی ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ کیوں لگی رہی؟ اب اترپردیش اور اتراکھنڈ کے ان غریبوں اور غیرت مندوں کی آزمائش ہے جو تین مہینے اپنے ہی روپے نکالنے کے لیے بینکوں کے سامنے لائن لگا کر کھڑے کردئے گئے اور بڑے شہروں کے علاوہ چھوٹے شہروں اور قصبات و دیہاتی میں آج بھی لائن لگانے پر مجبور ہیں اور ملک کا ظالم حاکم کہہ رہا ہے کہ ابھی اپریل تک ایسے ہی حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔اترپردیش میں اکھلیش یادو نے سیکولر ووٹوں کو تین جگہ تقسیم ہونے سے بچا نے کے لیے قربانی دی ہے۔ اور کانگریس کو اس لیے ۱۰۵ سیٹیں دے دی ہیں کہ ووٹ بس دو جگہ پڑیں اور حکومت کو آسانی سے اس کے ظلم کی سزا دے دی جائے۔

حفیظ نعمانی

اپنے ملک کے وزیر اعظم پر بے انتہاظلم ہوں اور اس کے بارے میں کچھ نہ لکھا جائے یہ اس سے بھی بڑا ظلم ہے۔ جالندھر کے ایک انتخابی جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے درد بھرے انداز میں کہا کہ تین مہینوں میں میرے اوپر کیا کیا ظلم ہوئے ہیں یہ میں ہی جانتا ہوں لیکن میں ظلم کے سامنے جھکتا نہیں ہوں۔یہ بات ہم نہیں کئی حضرات نے کہی ہے کہ مودی جی کو جھوٹ بولنا بہت پسند ہے۔ وہ یہاں بھی شاید اس لیے جھوٹ بول گئے کہ کوئی دوسرا یہ نہ کہہ دے کہ وزیر اعظم گزشتہ تین مہینوں میں ۱۲۵ کروڑ عوام پر جیسے ظلم کیے ہیں ان کو برداشت نہ کرتے ہوئے ۱۲۵ نے تو جان دے دی اور باقی سخت جان تھے جو زندہ تو ہیں مگر مسکرانا اور خوش ہونا بھول گئے۔ مودی جی نے اس سے بھی بڑا جھوٹ بولا کہ میں ایمانداری اور غریبوں کے حق کی لڑائی لڑتا رہا ہوں۔

حفیظ نعمانی

وہ منظر ہماری طرح نہ جانے کتنے لوگوں کی آنکھوں میں گھوم رہا ہوگا جب کانگریس کمیٹی کے دفتر کے باہر سماج وادی پارٹی سے کانگریس کے اتحاد کا اعلان ہورہا تھا اور صوبائی صدر راج ببر ایسے بیٹھے تھے جیسے ۸؍نومبر 2016کی رات کو نوٹوں سے بھرے بریف کیس ردّی کاغذبنادئے گئے تھے اور ۱۰؍ کی صبح کو ان کے گھر پر بارات آنے والی ہو اور وہ نہ استقبال کرنے کے قابل ہوں اور نہ بارات کو روکنے کی پوزیشن میں ہوں۔ اور دکھ اس کا بھی تھا کہ یہ اعلان کرتے وقت کہ کانگریس 105سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑا کریگی مگر 403سیٹوں پر لڑے گی اور سماج وادی پارٹی 298سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑا کریگی مگر وہ بھی 403سیٹوں پر لڑے گی، نہ کوئی جوش تھا نہ نعرے۔

حفیظ نعمانی

اترپردیش میں بہار کے طرز پر متحدہ محاذ کی بات سال بھر سے چل رہی تھی۔ یہ تو ممکن ہی نہیں تھا کہ اکھلیش یادو کے ساتھ مایاوتی اتحاد کرلیں اور اگر وہ پیش کش کرتیں بھی تو اب کانگریس کے علاوہ کون تھا جو ان پر بھروسہ کرتا؟ کانگریس نے پرشانت کشور کے ذریعہ چاہا تھا کہ سماج وادی پارٹی اور کانگریس مل کر الیکشن لڑیں۔ اس سلسلہ میں ملائم سنگھ اور اکھلیش یادو سے گفتگو ہوئی تھی۔ چودھری اجیت سنگھ بھی چاہتے تھے کہ وہ بھی اس محاذ کا حصہ بن جائیں اور اکھلیش یادو نے بھی کئی بار کہا تھا کہ اگر ہم اور کانگریس مل کر لڑیں گے تو ۳۰۰ سیٹیں جیت کر آئیں گے۔ یہ سب باتیں ابتدائی دور کی تھیں۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کس کو کتنا؟ کا مرحلہ آتا ہے۔ اور اس مرحلہ پر اجیت سنگھ الگ ہوگئے۔

حفیظ نعمانی

زیادہ دنوں کی بات نہیں ہے کہ بہوجن سماج پارٹی کے ہاؤس میں حزب مخالف لیڈر سوامی پرساد موریہ ہوا کرتے تھے وہ تو کماری مایاوتی پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ ان سے بھی ٹکٹ دینے پیسے کے مانگ رہی تھیں اس لیے انھوں نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا اور مایاوتی کہتی ہیں کہ وہ اپنے بیٹے اور بیٹی کے لیے بھی ٹکٹ مانگ رہے تھے اس لیے میں انہیں نکالنے والی ہی تھی کہ وہ بھاگ گئے۔اب یہ تو خدا جانے کہ اصلیت کیا تھی؟ لیکن ان کے باہر آنے پر وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے بھی ایسے جذبات کا اظہار کیا تھا جیسے انہیں خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔ اور بی جے پی نے بھی ان کی سیاسی بصیرت اور صلاحیت کا قصیدہ پڑھا تھا لیکن انھوں نے ایک بڑے لیڈر کی طرح کہا تھا کہ میں دو مہینے کے بعد ایک ریلی بلاؤں گا جس میں پا نچ لاکھ دلت شریک ہوں گے ، اس کے بعد ان سے مشورہ کے بعد اعلان کردوں گا کہ کہاں جانا چاہیے۔

حفیظ نعمانی

ملائم سنگھ نے دیکھ لیا کہ اب ان کے پاس کچھ نہیں بچا ہے اور لڑنے کا وقت نہیں ہے تو انھوں نے لالو جیسے دوست اور خاندان کے دباؤ میں آکر وہ فیصلہ کیا جس سے دشمنوں کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اور اکھلیش نے پھر ثابت کیا کہ وہ صرف جسمانی طور پر ہی نہیں دماغی طور پر بھی بہت پھرتیلے ہیں۔ انھوں نے ملائم سنگھ کو پوری طرح شیشے میں اتارنے کے صرف ایک گھنٹے کے اندر اندر ان کے سامنے وہ خوبصورت پوسٹر رکھ دیا جس میں ملائم سنگھ کی تصویر پر بڑی تھی اور اکھلیش کی چھوٹی۔ اور دوسرا پوسٹر بھی جس م یں درمیان میں سائیکل تھی اور ملائم سنگھ کی بڑی اور اکھلیش کی چھوٹی تصویریں تھیں۔ اور اب ملک دیکھے گا کہ باپ کی سرپرستی میں بیٹا وہ سب کرگیا جو اس کا منصوبہ ہے۔