Live Madinah

makkah1

dushwari

جمعرات, 28 مئی 2015 13:11

100 دن بنام 365 دن

حفیظ نعمانی

ایسا اتفاق تو کبھی کبھی ہوجاتا ہے کہ سال میں ایک ہی دن دو تہوار پڑجائیں۔ جیسے عید اور دیوالی یا بقرعید اور ہولی لیکن یہ یاد نہیں کہ دو ایک دوسرے کی مخالف پارٹیوں کا جشن ایک ہی دن پڑا ہو؟ مودی سرکار اپنا ایک سال پورا ہونے کا جشن منا رہی تھی اور عام آدمی پارٹی اپنے 100 دن پورے ہونے کا۔ لیکن دونوں کا مقابلہ راجہ بھوج اور گنگو تیلی کا تھا۔ یا ہاتھی اور حیدر آبادی مرغ کا۔ شری مودی نے پورے ملک میں اس طرح جشن منایا کہ مختلف شہروں میں اُن کے وزیروں نے ریلی کو خطاب کیا اور پریس کانفرنس کی اور کجریوال نے اس طرح منایا کہ ایک ہی پارک میں خود بھی اپنے عوام کو خطاب کیا اور اپنے ہر وزیر سے اس کے محکمہ کی کارگذاری سنوائی۔

حفیظ نعمانی

1984ء میں وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کا بدلہ لینے کے لئے جو ہزاروں سکھوں کو ختم کردیا گیا اور اُن کے مکانات اور دُکانوں کو لوٹ کر اور جلاکر تباہ کردیا اس کو قابو میں کرنے کے لئے ہر کسی کو یاد ہوگا کہ مسٹر راجیو گاندھی ننگے پاؤں دہلی میں دوڑے پھر رہے تھے اور اپنی پوری طاقت لگاکر اس کو روکا تب بھی بہت کچھ تباہ و برباد ہوچکا تھا۔ یہ وقت وہ تھا جب راجیو گاندھی نے ملک کا اقتدار سنبھالا تھا اور اندراجی کے دو بہت معتمد اور وفادار جگدیش ٹائٹلر اور سجن کمار پر الزام تھا کہ انہوں نے سکھوں کو اپنی نگرانی میں نشانہ بنوایا لیکن راجیو گاندھی نے ہر ممکن کوشش کی کہ انہیں سزا نہ ہونے پائے۔

حفیظ نعمانی

ہم جب چھوٹے تھے تب ہم نے ایک کہانی میں پڑھا تھا کہ ’’بابر کے بیٹے ہمایوں نے بچہ نام کے ایک بہشتی کو چند دن کے لئے حکومت دے دی تھی۔ تاریخ جسے بچہ سقّہ حکومت بتاتی ہے۔ لیکن یہ کہیں نہیں ملتا کہ پھر بچہ سقّہ نے اپنے کو ہمیشہ کے لئے بادشاہ سمجھ لیا تھا۔ پھر کیا ہوا تھا یہ سب آپ نے بھی پڑھا ہوگا۔ اگر یاد نہ ہو تو پھر پڑھ لیجئے۔ بچہ سقّہ کی حکومت یوں یاد آئی کہ نتیش کمار نے بھی بہار کی حکومت اپنے بچہ سقّہ کو دے کر کہا تھا کہ راج پاٹ تم سنبھالو۔ میں ذرا پورے صوبہ کا دورہ کرکے یہ معلوم کروں کہ میرے چاہنے والے مجھ سے کیوں ناراض ہوگئے؟ اور لوک سبھا کے الیکشن میں انہوں نے مجھے کیوں بھلا دیا؟ حکومت کی باگ ڈور انہوں نے اپنے ایک وزیر مانجھی کے سپرد کردی۔

حفیظ نعمانی

کسی بھی صوبہ کے وزیر اعلیٰ کا اپنی پسند اور اپنے اعتماد کے سکریٹری لانا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ملک کی آزادی کے بعد اُترپردیش کے پہلے وزیر اعلیٰ پنڈت گووند ولبھ پنت نے جب ذمہ داری سنبھالی تو ڈھونڈ ڈھونڈ کے پہاڑی برہمنوں کو اہم عہدوں پر بٹھایا۔ سردار پٹیل کے مرنے کے بعد جب انہیں وزیر داخلہ کے طور پر پنڈت نہرو نے بلا لیا اور ڈاکٹر سمپورنانند وزیر اعلیٰ بنے تو ہر اہم عہدے پر کائستھ نظر آنے لگے۔ پھر جب وہ استعفیٰ دینے پر مجبور ہوگئے اور سی بی گپتا وزیر اعلیٰ بنے تو نہ برہمن رہے نہ کائستھ ہر طرف بنئے نظر آنے لگے۔ اُن کے بعد چودھری چرن سنگھ آئے تو حالت یہ ہوگئی کہ اس وقت لکھنؤ میں ہر کوتوالی اور تھانوں کے انچارج بھی جاٹ تھے اور یہ حقیقت ہے کہ چودھری صاحب سے جب ایک اخبار کے رپورٹر نے یہ بات کہی تو انہوں نے کہا کہ میں یہ آپ سے سن رہا ہوں۔

حفیظ نعمانی

وزیر اعظم بننے کے بعد مودی نے اعلان کیا تھا کہ ملک سے باہر کسی بھی ملک میں وہ انگریزی کے بجائے اپنے ملک کی زبان میں لوگوں کو خطاب کریں گے۔ ان کا اتنا کہنا تھا کہ ان سے چپکے رہنے والوں نے انہیں فوراً اٹل جی کے برابر کھڑا کردیا اور ان کا ارادہ تھا کہ جب مودی صاحب امریکہ، برطانیہ اور فرانس میں ہندی کے جھنڈے لہرا دیں گے تو وہ انہیں اٹل جی سے بھی بڑا بنا دیں گے۔ اب یہ تو ہمیں نہیں معلوم کہ کیا ہوا؟ البتہ شری مودی مسٹر مودی بن کر انگریزی میں تقریریں کرنے لگے۔ ہم بے تکلف بتادیں کہ ہم زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں لیکن یہ خوش قسمتی ہے کہ دوستوں میں کچھ ضرورت سے زیادہ قابل اور پڑھے لکھے ہیں جن سے ہم فیض حاصل کرلیتے ہیں۔

حفیظ نعمانی

ہم نے کچھ دن پہلے لکھا تھا کہ کیا کلدیپ نیرؔ بھی ہاتھوں سے گئے؟ ہمارے پڑھنے والوں کا حلقہ کلدیپ صاحب کی برابر تو نہیں ہے لیکن انٹرنیٹ کی بدولت اب وہ صرف ملک یا صوبہ تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ پوری دنیا میں جہاں اردو والے موجود ہیں وہاں تک ہے۔ ان میں سے کسی نے اسے ناپسند نہیں کیا بلکہ انہوں نے ہم سے اتفاق کیا۔ کل بدھ کے دن اپنے کالم بین السطور میں انہوں نے مسلم یونیورسٹی کی طرف سے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مسلم یونیورسٹی کے لڑکے اب بھی اپنی مذہبی شناخت کی اصطلاحوں میں بات کررہے ہیں۔

حفیظ نعمانی 

وزیر اعظم نریندر مودی کے گذرے ہوئے دودنوں میں کئی پروگرام تھے ۔ انہیں چھتیس گڑھ ، رائے پور میں ایک بہت بڑے جلسہ کو خطا ب کرنا تھا۔ وزیر اعلیٰ نے اس کے لئے جو پنڈال بنوایا تھا اسے آفات ارضی و سماوی سے محفوظ رکھنے کے لئے صرف بانس اور بلیوں کا ہی نہیں لوہے کا بھی دل کھول کر استعمال کیا تھا۔ اور پھر وہ سفید محل بن کر تیار ہو گیا۔ خبروں میں بتایا گیا کہ اس کی مضبوطی اور وزیر اعظم کی حفاظت کے نقطۂ نظر سے جب پولیس کے ذمہ دار اور کارندے اس کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے تھے اس وقت قدرت نے یہ دکھایا کہ بانس بھی اس نے بنائے ہیں بلیاں بھی اس نے بنائی ہیں اور لوہا بھی اسی نے بنایا ہے اور وہ صرف اپنی ہواؤں سے اسے ایسے موڑ دیگا جیسے وہ زمین پر سجدہ کر رہا ہو ۔

حفیظ نعمانی

اگر کسی کام کے کرنے میں کسی کو دلچسپی نہ ہو تو اس کی حیثیت ایسی ہوتی ہے جیسے مشہور ہے کہ شوہر نے کہا بیوی سے۔ بیوی نے کہا بیٹے سے بیٹے نے کہا چھوٹی بہن سے چھوٹی بہن نے کہا کتے سے کتے نے کہا بلّی سے اور بلّی نے کان ہلا دیئے۔ اس کا نمونہ دیکھنا ہو تو مرکزی حکومت کے اس حکم کا حشر دیکھ لیا جائے جو اس نے کسانوں کے معاوضہ کے متعلق دیا تھا کہ ان کی فصل کی بربادی کا معاوضہ ڈیڑھ گنا دیا جائے اور ہوا یہ کہ کوئی پانچ سو روپئے کا چیک لئے گھوم رہا ہے کوئی تین سو کا اور کوئی دوسو کا۔ اور یہ خبر تو ہر ایک نے پڑھ لی ہوگی کہ ایک کسان کو 18 ہزار کا معاوضہ منظور ہوا اور اس نے جب لیکھ پال سے چیک مانگا تو اس نے 1300 روپئے رشوت کے مانگے جس کے صدمہ سے کسان مرگیا۔

حفیظ نعمانی

سلمان خاں کو اگر سزا نہ ہوتی تو غریبوں کا انصاف کے اوپر سے بھروسہ اُٹھ جاتا۔ ممبئی، کلکتہ اور دہلی تو بہت بڑے شہر ہیں لکھنؤ جیسے شہر میں بھی نہ جانے کتنے ایسے ہیں جو اپنی رات فٹ پاتھ پر گذارتے ہیں اور اس سرکاری زمین کا بھی پولیس کو کرایہ دیتے ہیں۔ ہر بڑے شہر میں نظر آنے والے تمام انسان وہی نہیں ہیں جو اس شہر میں رہتے ہیں بلکہ لاکھوں ایسے ہیں جو قرب و جوار کے دیہاتوں سے اس وقت آجاتے ہیں جب وہاں زمین پر کوئی کام نہیں ہوتا۔ ان دنوں میں وہ شہر میں محنت مزدوری کرکے چار پیسے کما لیتے ہیں اور جیسے ہی گاؤں میں بوائی نرائی یا کٹائی کا کام شروع ہوتا ہے وہ واپس چلے جاتے ہیں۔

حفیظ نعمانی

حیدر آباد کی مجلسِ اِتحاد المسلمین آج کی نہیں، برسوں پرانی پارٹی ہے۔ اس کے بانی جناب صلاح الدین اویسی صاحب تھے۔ جن کی حیثیت وہی تھی جو کیرالہ میں برسوں ابراہیم سلیمان سیٹھ اور محمد کویا کی یا ممبئی میں بنات والا صاحب کی رہی ہے۔ اویسی صاحب بھی اسی طرح حیدر آباد آندھرا پردیش تک محدود رہے جس طرح یہ حضرات کیرالہ اور مہاراشٹر تک محدود تھے۔ کیرالہ کی مسلم لیگ میں کچھ اختلاف ہوا تو معلوم نہیں کیوں ابراہیم سلیمان سیٹھ صاحب دہلی اور اُترپردیش آئے اور مسلم لیگ کو زندہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ بس اتناکر سکے کہ مسلمانوں کے ووٹ تقسیم کرادیئے اور بی جے پی کو فائدہ پہونچا دیا۔