Live Madinah

makkah1

dushwari

حفیظ نعمانی

کل کے اخبارمیں برار عزیز سجادنعمانی کا ایک مضمون سب نے پڑھا ہوگا۔ انھوں نے سپریم کورٹ کے جج صاحبان کے اس مشورہ کہ بابری مسجد رام مندر کا مسئلہ ہندو اور مسلمان عدالت سے باہر بیٹھ کر ہی سلجھالیں تو اچھا ہے، کے تار 1949میں گاندھی جی کے قتل اور اس کے ا ثرات کوبابری مسجد میں مورتیاں رکھ کر کم کرنے سے لے کر اب تک ہونے والی آر ایس ایس کی شاطرانہ چالوں سے ملادئے ہیں۔ اور جو کچھ انھوں نے کہا ہے وہ حرف بہ حرف درست ہے۔ہم بھی ان لوگوں میں ہیں جنھوں نے برسبیل تذکرہ یہ لکھا ہے کہ ای وی ایم ووٹنگ مشینوں کے ساتھ اترپردیش ا ور اتراکھنڈ کے نتیجے چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ نہیں ہیں۔بلکہ یہ اس کا نتیجہ ہے کہ وزیر اعظم نے اپنا وہ سیکولر مکھوٹا جو پہلے ہی سے جگہ جگہ سے پھٹ گیا تھا وہ اتار کر تیسرے راؤنڈ کے بعد پھینک دیا تھا اور سیدھا سیدھا ہندو بنام مسلم الیکشن بنادیا تھا۔

حفیظ نعمانی

ہر زمانہ میں کوئی ایک فتنہ پرور ہوتا ہے اور وہ اپنی فتنہ پروری کرکے انجام و کو پہنچ جاتا ہے۔ آج کے دور میں سب سے بڑا فتنہ سبرامنیم سوامی بنے ہوئے ہیں۔ وہ جنتا پارٹی 1977کی پیداوار ہیں۔ ابتدا سیکولر مکھوٹہ سے کی تھی۔ پھر رفتہ رفتہ پارٹی کا انجام یہ ہوا کہ اس کی ہر چیز ختم ہوگئی صرف انتخابی نشان ہل دھر کسان اور اس کے صدر سبرامنیم سوامی رہ گئے۔ انھوں نے برسوں کوشش کی کہ کوئی انہیں گود لے لے اور وہ انتخابی نشان کے ساتھ اس کی خدمت میں لگ جائیں لیکن ببول کے کانٹوں جیسے اس نیتا کو نہ کسی نے کھاد دیا نہ پانی تو انھوں نے مسلمانوں کے خلاف بیانات دینا شروع کیے۔ اور ان کی نگاہ بی جے پی کی طرف رہی۔

حفیظ نعمانی

سلاٹر ہاؤس مذبح پر پورے صوبہ میں تالے لگانے اور اس کی خبر سے مسلمانوں کو اس لیے تکلیف ہوئی ہوگی کہ ہزاروں ہزار مسلمان بے روزگار ہوجائیں گے۔ ہم بہت زیادہ تو نہیں لیکن ضرورت کی حد تک جانتے ہیں کہ قانون کے سا تھ غیر قانونی کا مزاج عام ہے۔ دو دن سے جو خبریں آئیں تو معلوم کیا کہ اتنے غیر قانونی سلاٹر ہاؤس کیسے بن گئے کہ دو سو میں تو تالے لگ گئے اور ابھی مزید پر کاروائی کی تیاری ہے۔ تب معلوم ہوا کہ ہمارے قریشی بھائی کچھ زیادہ ہی غیر قانونی کام کرتے ہیں جیسے گوشت کی دوکان کے جتنے لائسنس ہیں اس سے دس گنی دوکانیں ہیں۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ برسوں پہلے 2014میں سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ کوئی سلاٹر ہاؤس شہر کے اندر نہ رہے اور ہر شہر کے میونسپل بورڈ نے اپنے شہر کی حد سے باہر سلاٹر ہاؤس بنوادئے ہیں اور کہہ دیا ہے کہ ہر مذبح شہر سے باہر چلا جائے۔ اس لیے جو شہر کے اندر چل رہے تھے ان کے لائسنس کا رینیول بھی نہیں ہورہا تھا۔

حفیظ نعمانی

 ۱۹؍ مارچ کے روزنامہ انقلاب کے پہلے پورے صفحہ پر ایک اشتہار چھپا ہے جسے چھپوانے والی ایک تنظیم مسلم ایسوسی ایشن کانپور ہے۔ اور اس کے جنرل سکریٹری حاجی عبدالحسیب صاحب کی خوبصورت تصویر کے ساتھ جو کچھ لکھا ہے وہ کچھ اس طرح ہے:
۱۰۰ مسلم اکثریتی سیٹوں میں سے 70سیٹوں پر جیت کے لیے نریندر مودی صاحب کو صمیم قلب سے مبارک باد۔ 
ہندو مسلم کی سیاست کرنے والی پارٹیوں کے منہ پر طمانچہ
ذات پات کی سیاست کا خاتمہ
ترقی کے نئے دور کی شروعات
سب کا ساتھ سب کا وکاس

حفیظ نعمانی

اترپردیش کے لیے بی جے پی کے اندر کون سا مسئلہ ہے یہ وہ جانیں لیکن بی جے پی کے حلقہ سے باہر اترپردیش اور دہلی میں صرف ای وی ایم مشین بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ اور ہم خود بھی حیران ہیں کہ مس مایاوتی ۲۰۰۷ء میں ۲۰۷سیٹیں لے کر آئی تھیں اور وزیر اعلیٰ بنی تھی تب بھی یہی مشین تھی۔ فرق یہ تھا کہ اس وقت بی جے پی کہا کرتی تھی کہ مشینوں میں گڑبڑی کرکے ہمارے ووٹ مخالفوں کو دے دئے گئے۔ اور سب کو یاد ہوگا کہ ایڈوانی جی سب سے پیش پیش تھے۔پنجاب میں کیا ہوا یہ پنجاب والے جانیں یا کجریوال لیکن اترپردیش کی کہانی صاف ہے کہ مس مایاوتی نے یہ یقین کرلیا تھا کہ اس بار ان کی با ری ہے۔ اور اترپردیش میں بھی وہی ہوگا جو تمل ناڈو میں ہوتا رہا ہے کہ ایک بار کروناندھی اور دوسری بار جے للتا۔

حفیظ نعمانی

اسے اقبال کے علاوہ اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ بی جے پی کو گوا اور منی پور دونوں ریاستوں میں شکست ہوجائے اور اس کے بعد بھی وہی حکومت بنالے۔ مقابلہ مودی اور راہل کے درمیان ہے۔ اس وقت مودی کے اقبال کا یہ حال ہے کہ وہ مٹی کو اٹھا لیں تو وہ سونا ہوجائے اور راہل کا یہ حال ہے کہ اگر ان کے ہاتھ میں سونا آجائے تو مٹی ہوجائے۔ 2012میں اترپردیش کے الیکشن میں جب راہل گا ندھی تقریر کرتے تھے تو ڈائس کے سامنے Dبنتی تھی تاکہ کوئی کچھ پھینک کر نہ مار سکے۔ اور اکھلیش کے منچ سے ملے ہوئے عوام بیٹھے ہوتے تھے۔اور وہ ان کے ساتھ سائیکل چلاتے ہوئے دوسرے پڑاؤ پر جاتے تھے۔

حفیظ نعمانی

برسوں کے بعد معلوم ہوا کہ اخبار والا ہونا بھی کتنابڑاجرم ہے۔ ۱۱ مارچ سے پہلے ہر راؤنڈ کے بعد احباب معلوم کرتے تھے کہ آپ کے نزدیک کس کو کتنی سیٹیں ملیں گے؟ اور جب ان سے معذرت کرتے تھے کہ غیب کا علم صرف پروردگار کو ہے تو جواب ملتا تھا کہ اخبار والوں کو سب معلوم رہتا ہے۔ا ور خوشی کی بات یہ ہے کہ زیادہ تر فون دور دراز سے آتے تھے جس سے یہ یقین ہوتا تھا کہ ملت کے اندر کتنا اتحاد ہے۔نتیجہ آنے کے بعد جب بی ایس پی صاف ہوگئی تو مس مایاوتی نے وہ کہہ دیا جو ہر شکست کھانے والا کہتا ہے۔ اور اب ہماری مشکل یہ ہے کہ زیادہ تر فون اس کے آرہے ہیں کہ یہی ہوا ہوگا کہ مشینوں میں کچھ کردیا ہوگا۔

حفیظ نعمانی

۹ ؍مارچ کی شام کو ۵ بجے کے بعدسے جو اکزٹ پول کا شور شروع ہوا وہ ۱۱ ؍مارچ کی دوپہر کو اس انجام کو پہنچا جہاں تک کوئی بڑے سے بڑا فیاض بھی بی جے پی کی جھولی میں اتنی سیٹیں نہیں ڈال سکتا تھا بی جے پی کے ہر لیڈر نے ۳۰۰ سیٹیں جیتنے کا دعوا کیا تھا ور جو نتیجہ آیا وہ سوا تین سو نکلا یہ کیسے ہوا ور کیوں ہوا؟ اس بحث سے کوئی فائدہ نہیں ہے، بس حقیقت ہے کہ یہی ہوا۔لیکن اس پر برسوں بحث ہوتی رہے گی اور اس لئے ہوتی رہے گی کہ ۲۰۱۹ء سے پہلے ابھی صوبوں کے الیکشن بھی باقی ہیں اور پھر لوک سبھا کا الیکشن آجائے گا۔ اور پھر اگر ڈاکٹر ایوب صاحب کے لئے انقلاب کا پہلا صفحہ دو مہینے کے لئے رزرو ہوجائے گا اور ۲۰۔۲۰ لاکھ روپے کی پیشکش پر ٹھوکر مارنے والے مشہور صحافی عزیز برنی ڈاکٹر ایوب کو قائد اعظم کہنے لگیں گے۔ اور اسد الدین اویسی ہر اس جگہ جہاں مسلمانوں کے ووٹ سے ہار جیت ہورہی ہوگی وہاں کسی بدھوخیرو جمعراتی کو ٹکٹ دے کر بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑانے لگیں گے تو پھر انجام یہی ہوگا۔

حفیظ نعمانی

ہم نے وزیر اعظم نریندر بھائی مودی کی وہ تقریر ٹی وی پر خود سنی تھی جس میں انھوں نے الیکشن کے پانچ راؤنڈ مکمل ہوجانے کے بعد کہا تھا کہ بی جے پی جیت چکی ہے۔ اور اب جو دو راؤنڈ باقی ہیں ان میں جو ووٹ ملیں گے ان کی حیثیت وہ ہوگی جو دس روپے کی سبزی لینے کے بعد سبزی والے سے کہتے ہیں کہ ایک ہری مرچ اور دھنئے کی ایک ٹہنی ڈال دو۔ یا آدھا لیٹر دودھ لینے کے بعد دودھ والا ۵ گرام دودھ اوپر سے ڈال دیتا ہے۔ مودی جی صرف وزیر اعظم نہیں ہیں وہ اترپردیش اور ہر صوبہ کا الیکشن اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں اور صرف یہ چاہتے ہیں کہ اب کوئی ہندو لیڈر ان کی برابری کی یا ان کی جگہ لینے کی کوشش نہ کرے اور اسی لیے وہ برابر کہتے رہتے ہیں کہ میں دن میں ۱۸ گھنٹے کام کرتا ہوں کبھی کہتے ہیں کہ میں ا یک گدھے کی برابر کام کرتا ہوں یا گدھوں سے کام کا سبق لیتا ہوں۔

حفیظ نعمانی

مہاراشٹر خصوصیت کے ساتھ ممبئی میں شیوسینا اور بی جے پی برسوں سے ا یک دوسرے کے مقابلہ پر آتی رہی ہیں۔ شیوسینا کے بانی بالا صاحب ٹھاکرے اور بی جے پی کے پرمود مہاجن کے زمانہ میں بھی ا ور اس سے پہلے اور اس کے بعد بھی دونوں کے درمیان بڑے اور چھوٹے بھائی کا مقابلہ رہا ہے۔ پہلے تو یہ دونوں ایک طرف ہوتے تھے اور کانگریس دوسری طرف پھر شرد پوار کے الگ ہوجانے کے بعد کبھی کانگریس اکیلی اور کبھی شرد پوار کے ساتھ ان دونوں سے مقابلہ کرتی رہی ہیں لیکن ۲۰۱۴ء میں لوک سبھا کے الیکشن اور اس کے بعد صوبائی الیکشن میں کانگریس اور پوار کانگریس کا صفایا ہوجانے کے بعد اب بی جے پی شیو سینا کو اپنا چھوٹا بنا کر رکھنا چاہتی ہے اور شیو سینا کے کرتا دھرتا ڈرتے ہیں کہ اگر وہ نرم پڑے تو بی جے پی انہیں کھا جائے گی۔ اس وجہ سے وہ مرکز میں بھی ساتھ ہیں اور صوبہ میں بھی ساتھ ہیں لیکن شیوسینا اپنے اخبار کے ذریعہ اور بیانات میں اپنے الگ وجود کا ثبوت دیتی رہی ہے۔