Live Madinah

makkah1

dushwari

اتوار, 24 جولائی 2016 14:12

2017کا معرکہ اور تیاریاں

حفیظ نعمانی

دو دن پہلے لکھنو میں چھوٹی بڑی ایک درجن سے زیادہ مسلم پارٹیوں کا ایک محاذ بنایا گیا ہے ۔جو آنے والا الیکشن ملکر لڑے گا ۔اس سے پہلے بلکہ بہت پہلے سے ڈاکٹر ایوب صاحب ایک مہنگے اخبار کے پورے اور پہلے صفحہ پر اپنی پارٹی کا اشتہار دیکر ہر سیاسی اور ملی پارٹی کو ڈرا رہے ہیں کہ وہ کروڑوں روپئے خرچ کرکے اس بار الیکشن میں 2012کے الیکشن کی اس ذلت کا پورا بدلہ لیں گے جس میں 2سو سے زیادہ سیٹیں جیتنے کا خواب دیکھنے والی پیس پارٹی کو صرف تین سیٹوں پر سمٹنا پڑا تھا ۔

حفیظ نعمانی

گجرات کے اوٹا میں مردہ گائے کی کھال اتارنے والے دلت لڑکوں کے ساتھ جو کچھ اونچی ذات کے ہندؤں نے کیا ۔اور جس بے رحمی کے ساتھ انہیں باندھ کر اور ننگا کرکے دیر تک مارا اور پھر وہ منظر پورے ملک کے ٹی وی چینلوں پر دکھایا گیا ۔اگر سکھوں کے لڑکوں کے ساتھ کیا گیا ہوتا تو صرف گجرات نہیں دہلی پنجاب ہی نہیں آدھا ہندوستان پھونک دیا گیا ہوتا۔یہ صرف اتفاق تھا کہ پارلیمنٹ کے اجلاس چل رہے تھے اور وزیر داخلہ شری راج ناتھ سنگھ کٹہرے میں تھے ۔اس لئے انھوں نے ایک جملہ تو یہ کہا کہ وزیر اعظم اس خبر سے بہت دکھی ہیں ۔

جمعرات, 21 جولائی 2016 13:43

چھکّا سنگھ سدّھو کا آخری چھکّا

حفیظ نعمانی

2014کے لوک سبھا کے الیکشن میں شری نریندرمودی کو کچھ بھی کرنے کی چھوٹ دیدی گئی تھی۔ انہوں نے ایسی ایسی تبدیلیاں کیں کہ عام حالات ہوتے تو پارٹی میں بغاوت ہوجاتی۔ اترپردیش کے ایک بہت بڑے لیڈر مرلی منوہر جوشی کو الہ آباد کے بجائے کانپور سے کھڑے ہونے کا حکم دیا کلراج مشرا جہاں سے چاہتے تھے وہاں سے انہیں ہٹا دیا۔ لکھنؤ کی وہ سیٹ جو اٹل جی کے بعد لال جی ٹنڈن کی ہونا چاہئے تھی وہاں سے راج ناتھ سنگھ کو کھڑا کر دیا اور امرت سر جوسدّھو کی سیٹ تھی جہاں سے دوباروہ الیکشن جیت چکے تھے ان سے لیکر ارون جیٹلی کو دے دی۔

حفیظ نعمانی

کل کا دن سال کے خوبصورت دنوں میں سے ایک حسین دن تھا میری بیٹی جو جدہ میں رہتی ہے وہ اپنے شوہر اور بیٹے کے ساتھ آئی ہوئی ہے ۔گھر کے دوسرے بڑوں اور بچوں کی بھی چھٹی تھی ۔غرض کہ سب نے دن کے چند گھنٹے گھر سے باہر گذارنے کی خواہش ظاہر کی اور میں نے دل کی گہرائی سے خدا حافظ کہہ دیا ۔مغرب کی اذان کے دوران سب واپس آگئے ۔معلوم کرنے پر بتا یا کہ جنیشور مشرا پارک گئے تھے ۔اور پھر اس پارک کی ایسی تعریف کی کہ جیسے وہ بھی لکھنؤ کا ایک عجوبہ ہو ۔اس سے زیادہ حیرت یہ سن کر ہوئی کہ اگر کوئی سیاسی لیڈر دیکھتا تو یہی سمجھتا کہ یہ کوئی مسلمانوں کا مذہبی پارک ہے ۔نہ جانے کتنے خاندان وہاں پکنک منارہے تھے ان میں 90فیصدی مسلمان تھے ۔

حفیظ نعمانی 

دادری سانحہ میں گریٹر نویڈا کورٹ نے اخلاق (شہید)کے کنبہ پر گؤ کشی کا کیس درج کرنے کا حکم دے دیا ہے ۔واضح ہو کہ ایک شخص نے شکایت کی تھی کہ گاؤں میں گؤ کشی ہوئی ہے ۔اور جو گوشت ملا تھا و ہ فارنسگ جانچ میں ثابت ہوگیا کہ گائے کا ہے ۔اخلاق مرحوم کے بھائی جان محمد ،انکی ماں اصغری،انکی بیوی اکرامن ،ان کابیٹا دانش ،انکی بیٹی شائستہ اور رشتہ دار ملزم بنائے گئے ہیں ۔ستمبر2015میں (تاریخ درج نہیں ہے)مشتعل ہجوم نے محمد اخلاق کے گھر میں گھس کر اسے مار مار کر شہیدکردیا تھا ۔بھیڑ کا غصہ اس افواہ پر تھا کہ اخلاق کے گھر میں گائے کا گوشت پکایا گیا ہے اور رکھا ہے ۔

حفیظ نعمانی

جب جب یہ یاد آتا ہے تو دکھ ہوتا ہے کہ لال بہادر شاستری کی ایک تصویر تو وہ ہے کہ آندھراپردیش میں ایک ٹرین کا ایکسیڈنٹ ہوا تو انہوں نے ریلوے کی وزارت سے استعفیٰ دیدیا ۔اور اپنے سیاسی گرو وزیر اعظم پنڈت نہرو کے اصرار کے باوجود اسے واپس نہیں لیا ۔اور جب تک پنڈت جی زندہ رہے شاستری جی ان سے وابستہ وزیر کی حیثیت سے انکی مدد کرتے رہے ۔

حفیظ نعمانی

مسلمانوں کے معاملہ میں زعفرانی انداز سے سوچنے والے شری رجت شرما کے انڈیا ٹی وی چینل کو ڈاکٹر ذاکر نائک کی شکل میں ایک موضوع مل گیا۔ ڈاکٹر صاحب کے بارے میں یہ خبر عام تھی کہ وہ عمرہ کرنے گئے ہوئے ہیں۔ اور 11جولائی کو واپس آئینگے۔ ان کی مخالفت میں سرگرم میڈیا زبان پر دھار رکھے بیٹھا تھا کہ اسے یہ خبر مل گئی کہ اب ڈاکٹر صاحب تین ہفتے کے بعد واپس آئیں گے۔ اور وہ افریقی ممالک کے پہلے سے طے شدہ اپنے پروگرام پرروانہ ہو گئے ہیں۔ یہ خبر ایسی ہے کہ ہرمخالف کے منہ سے یہ جملے نکلنے لگے کہ وہ ہندوستان کی کسی انکوائری سے بچ رہے ہیں۔

حفیظ نعمانی

پورا ایک ہفتہ ہونے والا ہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائک ٹی وی کے ہر چینل پر نظر آرہے ہیں ۔دو ہفتہ سے وہ عمرہ کرنے کے لئے گئے ہوئے تھے ۔اور انکے پیچھے مستقل انکے خلاف فضا بنائی جاتی رہی ۔جب2012سے پہلے انکا چینل ہندوستان میں چل رہا تھا تو کبھی کبھی ہم نے بھی انکی تقریریں سنیں۔اور ہمیں تسلیم کرنا پڑا کہ انکا حافظہ غیر معمولی ہے یا وہ اتنی محنت کرتے ہیں جو کسی کے لئے آسان نہیں ہے ۔دوران تقریر وہ کلام پاک کا حوالہ دیتے تھے اور قرآن شریف کی سورت کا نمبر اور آیت کا نمبر اس طرح بتاتے تھے جیسے وہ بھی قرآن کے الفاظ ہوں ۔اور اسی طرح وہ انجیل اور گیتا کے حوالے دیتے تھے کہ ہر ایک کا عنوان اور صفحہ بیان کرتے جاتے تھے ۔

حفیظ نعمانی 

پولیس تو ملک میں ہر جگہ ایک جیسی ہوتی ہے ۔لیکن دہلی جیسے جگہوں کا مسئلہ بالکل الگ ہے جہان ایک حکومت وہ ہے جسے عوام نے منتخب کیاہے ۔اور ایک حکومت وہ ہے جو وہاں بری طرح ہارنے والی پارٹی کی ہے ۔اور اس لئے ہے کہ مرکز میں بھی اسکی حکومت ہے ۔صوبوں میں جو پولیس ہوتی ہے اسکے اوپر ایک وزیر داخلہ ہوتا ہے ۔اوروہی سب کچھ ہوتا ہے ۔لیکن دہلی جیسے صوبوں میں پولس کا وزیر داخلہ نہیں ہوتا ۔وہ اس وزیر داخلہ کے کنٹرول میں ہوتی ہے جو پورے ملک یعنی125کروڑ انسانوں کا وزیر داخلہ ہے ۔اور پورے ملک کے اندرونی معاملات اسے دیکھنا ہوتے ہیں ۔انکی مصروفیات کا ہی نتیجہ ہوتا ہے کہ دہلی جیسے صوبوں کی پولیس بے باپ کے بچوں جیسی خود سر اور بے لگام ہو جاتی ہے ۔

حفیظ نعمانی

دہلی میونسپل کا رپوریشن کے قانونی مشیر محمد معین خان کی شہادت اس لئے بھی ایک بہت بڑا حادثہ ہے کہ وہ صرف اس لئے شہید کئے گئے کہ انھوں نے رشوت لیکر جھوٹی رپورٹ دینے سے انکار کردیا تھا۔ہمیں ایک ہندوستانی کی حیثیت سے بھی اسکی تکلیف ہے اور اس لئے بھی اور زیادہ تکلیف ہے کہ وہ مسلمان تھے اور ہر مسلمان کے ایمانی بھائی تھے۔انہیں اس زمانہ میں شہید کیا گیا ہے جب وزیر اعظم فخر کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ ہماری سرکار کے دوسال میں کوئی بھرشٹا چار نہیں ہے۔تو کیا اسے بھرشٹا چار نہیں مانا جائیگا کہ ایک دولت مندانا جائز طریقہ سے ایک ہوٹل بنا رہا ہے۔وہ دہلی کارپوریشن کی ہر پابندی کو نظر انداز کررہا ہے۔