Live Madinah

makkah1

dushwari

حفیظ نعمانی

جس کے بارے میں کچھ لکھا جاتا ہے تو بات یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ میں نے پہلی بار انھیں کہاں دیکھا تھا، یا پہلی ملاقات ان سے کب ہوئی، میں نے عزیز گرامی منور رانا کو پہلی بار اس دن تو نہیں دیکھا تھا جس دن وہ میرے عزیز دوست والی آسیؔ سے مشاعرہ کے پاس مانگنے آئے تھے، ہاں اس کے بعد اس لیے بار بار دیکھا کہ اس مشاعرہ کے بعد والیؔ اس نئی دریافت کا ہر کسی سے تذکرہ کرتے تھے، اور کہتے تھے کہ اگر اس کے معدہ نے شہرت ہضم کرلی تو وہ ایک دن بڑا شاعر بنے گا۔

حفیظ نعمانی

آزادی اور تقسیم سے پہلے کنزرویٹو پارٹی کے تعاون سے اٹلی کی لیبر حکومت نے مسٹر چرچل کے تعاون سے تقریباً دو سال تک کوشش کی کہ کسی نہ کسی طرح مسلم لیگ اور کانگریس میں مفاہمت ہوجائے، تاکہ کانگریس کی زیر قیادت برصغیرکی جغرافیائی سیاسی اور فوجی سالمیت برقراررہے اور یہ وسیع اور عریض علاقہ اس کے جدید نو آبادیاتی نظام کے تحت نہ صرف عالمی کمیونزم کے سیلاب کا سد باب کرے بلکہ انگلو امریکی سامراج کی خدمت بھی کرتا رہے، لیکن جب ہندو مسلم تضاد کے حل کی کوئی صورت نظر نہ آئی اور ہندوستان کی حالت خراب سے خراب تر ہوتی چلی گئی تو اس نے بر صغیر کی تقسیم کچھ اس طرح کی کہ دوبارہ اتحاد کا راستہ کھلا رہے۔

حفیظ نعمانی

ایک طرف تو وزیر اعظم مودی صاحب کی خواہش یہ ہے کہ قوم ان کی آواز کو پنڈت نہرو کی آواز سے بھی زیادہ محترم سمجھے یا کم از کم ان کے برابر سمجھے، اور دوسری طرف جو اپنے کاندھوں پر اٹھا کر انھیں اس مقام تک لائے ہیں وہی اب ان کی کسی بات پر کان دھرنے کو تیار نہیں، ملک کے اس کونے سے اس کونے تک اور جب انٹرنیشنل میڈیا میں بھی دلتوں کو بے رحمی سے پیٹے جانے والے کیسٹ دکھائے جانے لگے تو وزیر اعظم کو یہ فکر ہوئی کہ اب وہ اگر کسی ملک میں گئے توجواب مانگا جائے گا کہ دلت اور گائے کی رکشا کرنے والوں کا کیا قصہ ہے تو کیا جواب دوں گا؟ اس پر انھوں نے کہہ دیا کہ وہ سب سماج دشمن ہیں، جو راتوں کو کالے دھندے کرتے ہیں اور دن میں گؤ رکشکوں کا مکھوٹا چہرہ پر لگا لیتے ہیں۔

حفیظ نعمانی

اگست کی ۱۰؍ تاریخ کیا آئی جیسے قیامت آگئی، مسلمانوں کے ایک قائد نے ۱۰؍ تاریخ کو ایک صفحہ کا اشتہار چھپوایا اور اسے مسلمانوں کے لیے سیاہ دن قرار دیا، آج ۱۱؍ تاریخ کو ایک پارٹی نے آرٹیکل ۳۴۱ سے مذہبی پابندی ہٹا کر مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کے لیے میمورنڈم دیا اور ایک نئی پارٹی آل انڈیامسلم ریزرویشن فرنٹ نے کلکٹریٹ پر دھرنا دیا، انھوں نے مطالبہ کیا کہ مسلم دھوبی، مسلم مہتر، مسلم موچی، مسلم نٹ، مسلم نجار، مسلم کمہار، دلت ریزرویشن سے باہر کر دئے گئے ہیں جبکہ سب دلت برابر ہیں۔مسلمانوں کے لیے ریزرویشن کے بارے میں ہم نے پوری عمرمیں یہ تو لکھا ہے کہ کانگریس نے مسلمانوں کو ریزرویشن کا فریب دیا تھا، یہ بھی لکھا ہے کہ سلمان خورشید صاحب نے ۲۰۱۲ء میں جب ان کی بیگم اسمبلی کا الیکشن لڑ رہی تھیں تو کہا تھا کہ میں مسلمانوں کو ۹ فیصدی ریزرویشن دلاؤں گا،

حفیظ نعمانی

بہوجن سماج پارٹی کے دوسرے چہرہ کے طور پر پہچانے جانے والے سوامی پرساد موریہ نے جب مس مایاوتی کا ساتھ چھوڑا اور ان پر الزامات کی بوچھار کردی تو مخالف پارٹیوں کے منہ میں پانی آگیا اور زبان ہونٹوں پر آگئی، کل تک جو ان کی مخالفت میں صبح و شام الفاظ کے بم برسایا کرتے تھے، انھوں نے ان کی سیاسی بصیرت اور تدبر کی شان میں قصیدے شروع کردئے، صرف اس لیے کہ موریہ غریب خانہ کو روشن کردیں۔

حفیظ نعمانی

مودی سرکار کے ابھی تین سال دور ہیں، صرف ۲۶ مہینے میں سب کو اندازہ ہوگیا کہ سب کا ساتھ سب کا وکاس کتنا ہوگیا؟ وہ دلت جنھوں نے یہ سمجھ کر مودی کو ووٹ دیئے تھے کہ اب دلت، پٹیل، ٹھاکراور برہمن اس طرح ایک ساتھ ہوں گے کہ کوئی یہ پہچان نہ سکے گا کہ ان میں گائے کے مالک کون ہیں اور مری گائے کا چمڑہ اتارنے والے کون ؟اونا میں جو کچھ ہوا اور جس جس طرح ننگا کرکے مارا گیا اس نے دلتوں کو ننگا نہیں کیا بلکہ مارنے والے ننگے ہو کر سامنے آگئے، اور پوری طرح مایوس ہو کر جب دلت سامنے آئے اور انھوں نے مری گایوں کو کوڑے کے بوروں کی طرح بڑی بڑی کوٹھیوں کے سامنے یہ کہہ کر پھینکا کہ ’’لو ا ب ان کی پوجا کرتے رہو‘‘

حفیظ نعمانی

بلند شہر کے شرمناک حادثہ کے پانچ دن کے بعد بجائے اس کے کہ اس کے قانونی پہلوؤں پر غور کیا جاتا، اسے ا?نے والے الیکشن میں استعمال ہونے والی سیڑھی بنایا جارہا ہے۔ وزیر اعلی مسٹر اکھلیش یادو نے ریاست کے سب سے بڑے ذمہ دار کی حیثیت سے متاثرین کے پاس جانے کا فیصلہ کیا تو سنا ہے کہ بی جے پی کے بھی بڑے بڑے لیڈر وہاں پہنچ رہے ہیں۔ حالانکہ دو دن پہلے صوبائی صدر شری موریہ وہاں جاکر مطالبہ کر ا?ئے ہیں کہ سی بی ا?ئی انکوائری کرائی جائے۔ بے شک یہ سیاہ واقعہ حساس دلوں کو اتنا ہی دہلانے والا ہے کہ وہ بزرگ جنہیں دینی کاموں سے فرصت نہیں رہتی وہ بھی کتاب بند کرکے اور قلم رکھ کر یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ انسان اور کتنا بڑا اور خبیث شیطان بنیگا؟

حفیظ نعمانی

ہندوستا ن میں اخبارات ، ٹی وی ، ریڈیواور حکومت کے ذمہ دار سعودی عرب میں پھنسے مزدوروں کی ایسی بھیانک تصویر پیش کر رہے ہیں جسے دیکھ کر اور سن کر ہر حساس انسان پریشان ہو جاتا ہے۔وزیر خارجہ سشما سوراج صاحبہ کا ایک رکارڈ ہے کہ کوئی ہندوستانی اگر کسی دوسرے ملک میں پریشان ہے تووہ ہرطرح اسکی مدد کرتی ہیں ۔ان لوگوں کے بارے میں بھی وہ فکرمند ہیں ۔اور کل ہی انہوں نے پارلیمنٹ میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ نائب وزیر خارجہ کووہ ریاض بھیج رہی ہیں اوروہ وہاں کے وزیروں اور افسروں سے ان پریشان لوگوں کا ہرمسئلہ حل کرائیں گے ۔اور انکو واپس لانے کا انتظام کریں گے ۔

بدھ, 03 اگست 2016 14:25

تخمی بہادر یا قلمی بہادر

حفیظ نعمانی

بہادروں کی دو قسمیں ہو تی ہیں ایک تخمی بہادر اور دوسرے قلمی بہادر ۔تخمی بہادر وہ ہوتے ہیں جنکے باپ ،دادا،پر دادا اور اوپر کی نسلیں بھی بہادر ہو تی تھیں ۔اور قلمی بہادر وہ ہوتے ہیں جنکو آر ایس ایس یا انکی ذیلی تنظیموں بجرنگ دل ،وشو ہندو پریشد،شیو سینا اور رام سینا ،سیتا سینا اور ہنومان سینا جیسی تنظیمیں بنا کر آر ایس ایس کی قلم لگا دی جاتی ہے ۔1947سے پہلے صرف تخمی بہادر ہوا کرتے تھے ۔انھوں نے مغلوں کی آٹھ سو سالہ حکومت میں انکا ساتھ دیا ۔ہم تاریخ کے طالب علم ہوتے تو دعوا کرتے کہ اس پورے عرصہ میں مغل مسلمانوں نے یا کسی مسلمان نے ہندؤں کے ساتھ کبھی کوئی ایسی ذلیل حرکت کی ہے یا نہیں جیسی ایک ہفتہ پہلے گجرات میں ہوئی کہ ایک گائے کو شیر نے ما ردیا ۔

حفیظ نعمانی

جو کچھ گجرات کے اونا میں دلتوں کے ساتھ ہوا یا بی جے پی اتر پردیش کے نائب صدر دیا شنکر سنگھ نے سابق وزیر اعلیٰ مس مایاوتی کو کہا ۔یا جو دادری کے بساڑہ گاؤں میں مرحوم اخلاق احمد اور انکے گھر والوں کے ساتھ ہوا وہ نہ حادثہ تھا ،نہ سانحہ بلکہ اس ذہنیت کا مظاہر ہ تھا جو انکے دھرم سے بنتی ہے ۔بات اخلاق کے گھر سے شروع کریں تو اگر دماغوں اور دلوں میں دشمنی نہ بھری ہوتی تو اس خبر کے بعد کہ اخلاق کے گھر میں گائے کا گوشت ہے ۔ہو نا یہ چاہئے تھا کہ وہ دو چار بزرگ جو برسوں سے انکے پڑوس میں رہ رہے تھے وہ آتے ۔سوتے ہوئے اخلاق کو اٹھا تے اور ان سے کہتے کہ یہ خبر پھیل رہی ہے کہ تم نے گائے کاٹی ہے اور گوشت گھر میں رکھا ہے ؟۔