Live Madinah

makkah1

dushwari

حفیظ نعمانی

ممتاز صحافی سہیل انجم ایک ایسے دوست ہیں جن کی دوستی قابل فخر ہے۔ وہ آج کے ان چند صحافیوں میں ہیں جو اُردو صحافت پر چھائے ہوئے ہیں۔ مسلم لڑکیوں کو ہندو بنانے کی وہ مہم جو بنگال میں بی جے پی نے لوجہاد کے جواب میں چلائی ہے۔ اس کی رپورٹ پر انہوں نے فکر کا اظہار کیا ہے۔ کوئی شک نہیں کہ ہر مسلمان کو وہ چاہے جس پیشے سے وابستہ ہو اس خبر سے تکلیف ہوگی۔ لیکن ہندوستان ایک ملک کے بجائے ایک چھوٹی سی دنیا ہے اور مختلف علاقوں کے اپنے اپنے حالات ہیں۔ مغربی بنگال وہ علاقہ ہے جہاں مسلمانوں میں غربت اور جہالت سب سے زیادہ ہے۔ اس علاقہ میں اکثریت ایسے مسلم خاندانوں کی ہے جو نہیں جانتے کہ اگر مسلمانی نام ہیں تو اس کے تقاضے کیا ہیں؟ اور یہ ہماری کمزوری ہے کہ آزادی کے بعد اپنے کو بچانے میں ہی ساری صلاحیت کام آجاتی ہے دین کو بچانے کا وقت اور وسائل کہاں سے لائیں؟

اتوار, 30 اپریل 2017 15:20

کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے

حفیظ نعمانی

راجستھان کی ریاست الور میں یکم اپریل کو یعنی تقریباً ایک مہینہ پہلے ایک شرمناک واقعہ پیش آیا تھا کہ جے پور کے مویشی میلے سے دودھ دینے والی گائیں خریدکر چند مسلمان ہریانہ لئے جارہے تھے الور میں ان کی گاڑی کو روک کر غنڈوں کی ایک بھیڑ نے ان مسلمانوں کو اتارا اور الزام لگایا کہ وہ گایوں کو اسمگل کرکے لئے جارہے ہیں۔ گائے لانے والوں کے پاس خریداری کی رسیدیں تھیں وہ دکھانے پر بھی بھیڑ نہیں مانی اور مارپیٹ شروع کردی جن میں ایک پہلو خاں نام کے مسلمان کو سب نے پیٹ پیٹ کر لاتوں گھونسوں سے اتنا مارا کہ اس نے اسپتال میں جاکر دم توڑ دیا۔ اس واقعہ میں اہم بات یہ ہے کہ سب کچھ پولیس کی موجودگی میں ہوا اور جب بعد میں پولیس سے معلوم کیا گیا کہ ان کو بچانے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ تو ان کا جواب تھا کہ ان کے پاس خریداری کے کاغذ تو تھے۔ دوسری ریاست لے جانے کے پرمٹ نہیں تھے۔ یعنی ویزا نہیں تھا۔

جمعرات, 27 اپریل 2017 14:13

کجریوال روبہ زوال

حفیظ نعمانی

ہم بھی ان لوگوں میں ہیں جن کا خیال تھا کہ پنجاب میں عام آدمی پارٹی ہاری نہیں بلکہ ہرائی گئی ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ نہیں تھی کہ ان کی ریلیاں یا اُن کے روڈ شو جتنے بھی ہوئے ان سے اندازہ ہوتا تھا کہ پنجاب ان کے ساتھ ہے اس کے علاوہ گذشتہ سال گرمیوں میں میرے بچے بسواں گئے ہوئے تھے وہاں پنجاب کے بہت لوگ گرمی گذارنے آتے ہیں۔ میرے بیٹوں نے واپس آکر بتایا کہ کوئی پنجابی یا سکھ ایسا نہیں ملا جس نے یہ نہ کہا ہو کہ اس بار عام آدمی پارٹی کی حکومت بنے گی۔ اور کجریوال دہلی چھوڑکر پنجاب آجائے گا۔ اروند کجریوال نے اگر یہ اعلان کردیا ہوتا کہ میں پنجاب آرہا ہوں تو شاید وہ کامیاب ہوجاتے۔ لیکن انہیں اس کا خیال تھا کہ وہ 2015 ء میں دہلی والوں سے وعدہ کرچکے تھے کہ میں آپ کو چھوڑکر نہیں جاؤں گا۔ یہ اعلان ان کے پاؤں کی بیڑی بن گیا اور وہ یہی کہتے رہے کہ پنجاب کا وزیر اعلیٰ پنجابی ہوگا لیکن یہ نہیں بتا سکے کہ کون؟ اور یہی کہ کون اور کون نہیں نے انہیں کہیں کا نہ رکھا۔

حفیظ نعمانی

فیصلہ تو مودی کا بینہ کا لال بتی والا بھی اتنا ہی بڑا تھا کہ ہر زبان اور قلم کئی دن اس سے کھیلتے رہتے لیکن بی جے پی کے بڑے بڑے ۱۲ کلغی داروں کی گردن جھکے رکھنا اتنی بڑی بات تھی کہ لال بتی کی روشنی اس میں دب کر رہ گئی۔ یہ بات بہرحال کہی جائے گی کہ وی آئی پی کلچر پر پہلا حملہ کجریوال نے ہی کیا اور انھوں نے پہلے ہی دن اپنے سب ساتھیوں کی طرف سے کہا کہ بے ضرورت سرکاری مراعات سے پرہیز کیا جائے گا اور کسی کی گاڑی میں لال بتی نہیں لگے گی۔ کل ہی یہ بات بھی ذکر میں آئی کہ سپریم کورٹ نے پہلے بھی یہ مشورہ دیا تھا لیکن منموہن سرکار اسے تین سال دبائے بیٹھی رہی اور اس کے بعد وہ ختم ہوگئی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ غلامی کی یہ ذہنیت کانگریس کی ہی سنت ہے۔حیرت ہوتی ہے کہ کانگریس نے ہی انگریز و! ہندوستان چھوڑو کا نعرہ دیا اور جب انگریز چھوڑ کر جانے لگے تو سب گانے لگے کہ:

حفیظ نعمانی

سپریم کورپ کے محترم جج صاحبان نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے ہندو نواز فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ ایل کے ایڈوانی سے لے کر ونے کٹیار تک بی جے پی کے ان تمام لیڈروں پر مقدمہ چلتا رہے گا جن پر 6 دسمبر 1992کو مسجد کو منہدم کرنے کی سازش کا مقدمہ ۲۵ برس سے رائے بریلی کی عدالت میں چل رہا تھا۔ اور ان کے ماتھے پر جو اپرادھی لکھ دیا گیا تھا وہ اتنے ہی روشن الفاظ میں لکھا رہے گا جو مقدمہ قائم کرتے وقت لکھ دیا گیا تھا۔دن کی روشنی میں انجام دیا جانے والا شرم ناک واقعہ اور ۱۹۹*۵ء سے رتھ یاترا کے ذ ریعہ ملک کی فضا کو زہر آلود کرنے کی ایڈوانی جی کی جد و جہد کو معمولی بات ثابت کرنے میں ۲۵ برس لگ گئے اور پھر وہ کرالیا گیا تھا جو کرانے کے لیے ۲۵ برس تک ہر برس نیا بہانہ تراشا جاتا تھا اور پھر ہائی کورٹ سے وہ فیصلہ کرالیا جس کے لیے کروڑوں روپے اور حکومت کی طاقت سب داؤ پر لگا دی گئی تھی کہ ملک کے محترم لیڈروں کو ذلیل نہ کیا جائے۔

حفیظ نعمانی

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ایک ایسا معتمدادارہ تھا کہ سال میں کہیں ایک اجلاس ہوجایا کرتا تھا جس میں اس سال میں پیش آنے والے اہم واقعات پر یا مستقبل میں کسی خطرہ پر غور ہو کرآگے کامنصوبہ بنالیا جاتا تھا اور پھر ایک جلسہ عام کرکے تمام مسلمانوں کو دین اور شریعت پر عمل کرنے کی تلقین کی جاتی تھی۔ اسے مسلمانوں کی بدقسمتی کہا جائیگا کہ اب سال میں صوبوں صوبوں اور شہر شہر بورڈ کے مصروف اور دینی کام کرنے والوں کوسب کام چھوڑ کر جلسے کرنے پڑے رہے ہیں۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کا ایک طبقہ جس میں تعلیم یافتہ مردبھی ہیں اور جاہل ، من مانی اور خودرائی کرنے والی فیشن ایبل عورتیں اور لڑکیاں بھی وہ دوسروں کے نقش قدم پر چل پڑی ہیں۔

حفیظ نعمانی

سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے جب حکومت سنبھالی اور اپنے تینوں بچوں کو اسکولوں میں داخل کرنے کا مسئلہ سامنے آیا تو ان کے سامنے سرکاری اور پرائیویٹ یا مشنری اسکولوں کی تفصیل آئی۔ اس وقت انہیں معلوم ہوا کہ کروڑوں یا اربوں روپے خرچ کرکے جو سرکاری اسکولوں میں تعلیم دی جارہی ہے ان اسکولوں میں پڑھانے والوں اور والیوں کے اپنے بچے بھی پرائیویٹ اسکول میں پڑھ رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کو جوش آیا اور انھوں نے کہا کہ تمام سرکاری اسکولوں کو جلد سے جلد معیاری اسکول بنادیا جائے اور وہ سرکاری افسروں کو حکم دیں گے کہ وہ اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں پڑھائیں اور وزیر اعلیٰ نے اپنے لڑکے کو لامارنٹیل اور دونوں لڑکیوں کو لاریٹومشنری اسکولوں میں داخل کرایا۔ جہاں داخلہ اور پہلے سال کی فیس ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وزیر اعلیٰ سے اتنے پیسے لینے کی ہمت نہ پڑی ہو۔

حفیظ نعمانی

اترپردیش الیکشن کے بالکل خلاف توقع نتائج کے آنے کے بعد تین مخالف پارٹیاں ایس پی، بی ایس پی اور کانگریس میں صرف بی ایس پی کی سربراہ مس مایاوتی نے تو ضرور پوری آواز سے پہلے دن ہی مشینوں پر اس ہار کی ذمہ داری ڈالی۔ لیکن اکھلیش یادو ایک ذمہ دار لیڈر کی طرح خاموش رہے۔ بس انھوں نے اتنا کہا کہ مس مایاوتی جب ا تنا سنگین الزام لگا رہی ہیں تو اس کی جانچ ہونا چاہیے۔ حالاں کہ وہ بھی سمجھ رہے ہیں کہ الیکشن میں صرف ووٹ نہیں پڑے بلکہ شرارت بھی ہوئی ہے۔ اور وہ اس لیے سمجھ رہے ہیں کہ انھوں نے اکیلے دم پر الیکشن لڑا تھا اور ہر سیٹ کا حال انہیں معلوم تھا۔

منگل, 11 اپریل 2017 12:55

کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے

حفیظ نعمانی

الیکشن کمیشن کے چیف نسیم زیدی صاحب نے انتخابی اصلاحات پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کے ۳۳ ملکوں میں ووٹ دینا لازمی ہے۔ انھوں نے ان میں سے کئی ملکوں کے نام بھی لیے ہیں۔ ہمیں افسوس ہے کہ ان ممالک کے طریقۂ انتخاب کی تفصیل ہمیں معلوم نہیں اور نہ زیدی صاحب نے اس پر روشنی ڈالی ہے۔ ہمارے ملک میں جو طریقہ ہے اس میں لمبی لمبی لائن لگانا اور سرکاری عملہ کی سست رفتاری ووٹ سے عدم دلچسپی کا سبب بھی ہے۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ ووٹ لینے اور دینے والے کا ایک دن کے بعد کوئی رشتہ نہیں رہتا۔ اگر ووٹ لینے والا جیت گیا اور حکومت بنا لی تو اسے فرصت نہیں رہتی اور اگر حزب مخالف میں ہے تو اس کے پاس عذ ر ہے کہ میں کیا خدمت کرسکتا ہوں؟

حفیظ نعمانی

اترپردیش کی نئی حکومت نے کابینہ کی پہلی میٹنگ میں وعدہ کے مطابق کسانوں کا ایک لاکھ تک کا قرض معاف کردیا۔ کسی کایہ کہنا کہ جتنا کہا تھا اتنا نہیں کیا یا تفریق برتی، یہ باتیں بے معنی ہیں۔ اس لیے کہ یہ کہا جارہا تھا کہ صوبائی حکومت اس لیے قرض معاف نہیں کرسکتی کہ قرض بینکوں سے لیا گیا ہے اور بینک مرکزی حکومت کے کنٹرول میں ہوتے ہیں۔ خود کشی پر مجبور ہوجانے والے کسانوں کے لیے بلا شبہ یہ تحفہ ہے۔ کابینہ کی میٹنگ میں مذبح کے با رے میں سخت رُخ برقرار رہا ، کہا گیا ہے کہ ریاست میں غیر قانونی مذبح کہیں بھی نہیں چلنے دیا جائے گا۔ اس کے لیے تو کوئی نہیں کہے گا کہ غیر قانونی کام کرنے کی اجازت دی جائے اور وہ بھی مسلمانوں کو جن کے بارے میں ونے کٹیار کہہ چکے ہیں کہ مسلمان ہمیں ووٹ نہیں دیتے ہم انہیں ٹکٹ نہیں دیتے۔ لیکن یہ سوچنے کی بات ہے کہ غیر قانونی مذبح اگر کہیں بنایا جاتا ہے تو صرف اس لیے کہ قانونی مذبح میں گنجائش کم ہے اور ضرورت کہیں زیادہ ہے۔