Live Madinah

makkah1

dushwari

اتوار, 14 جنوری 2018 17:50

مدرسوں کی روح اور اُن کا مقصد

حفیظ نعمانی

مدرسوں سے متعلق ہم جو لکھ رہے ہیں وہ نہ شاید کتابوں میں کہیں ملے گا اور نہ اب کوئی اس نسل کا باقی ہے جو اس کی تفصیل بتا سکے۔ ہم نے ان بزرگوں سے سنا ہے جن کا اوڑھنا بچھونا دارالعلوم دیوبند، اس کی ترقی اور اس کی حفاظت تھی۔ دارالعلوم سے جب لڑکے عالم بن کر نکلنے لگے تو ان میں سے چند لڑکے حیدر آباد گئے اور وہاں نظام حیدر آباد کے ذاتی دفتر میں کام کرنے لگے۔ ایک سال کے بعد نظام حیدر آباد کے ایک وزیر کا خط دارالعلوم دیوبند کے مہتمم کے نام آیا۔

حفیظ نعمانی

گجرات اسمبلی کے انتخابات نے ملک کی سیاست کا رُخ موڑ دیا ہے۔ بی جے پی نے 99 سیٹیں جیت کر حکومت سازی کی تقریب اتنی ہی دھوم دھام سے منائی جیسے پندرہ سال کے بعد اترپردیش میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد منائی تھی کہ جہاں جہاں بی جے پی کی حکومت تھی وہاں کے وزیر اعلیٰ کو تالی بجانے کے لئے بلایا تھا۔ اور یہ سب بی جے پی کے دل برداشتہ کارکنوں کے دلوں سے اس دہشت کے مٹانے کے لئے تھا جو اس الیکشن میں ان کے دلوں میں بیٹھ گئی تھی۔

حفیظ نعمانی

اس سال ہولی کا تہوار جمعہ کے دن پڑرہا ہے ہمارے ہوش میں جب کبھی بھی ایسا ہوا ہے تو ملک میں دو چار جگہ بہت زیادہ اور نہ جانے کتنی جگہ دونوں فرقوں میں بدمزگی ہوئی ہے۔ اس سال اس اتفاق نے میرے جیسے کچھ بیمار کچھ معذور آدمی کی ہی نہیں اچھے بھلے ہزاروں حساس مسلمانوں کی نیند حرام کردی ہوگی۔ اب تک جب جب ہولی جمعہ کو پڑی ہے اس وقت کسی صوبے میں بی جے پی کی حکومت ہو تو ہو مرکز میں کبھی اس کی حکومت نہیں رہی لیکن مرکز میں بی جے پی کی بھی نہیں آر ایس ایس اور مودی کی حکومت ہے اور یہ ان کی حکومت کا ہی انعام ہے کہ ملک کی ہر سادھوی اور نئی نئی سادھویاں میدان میں آرہی ہیں اور وہ اشوک سنگھل، پروین توگڑیا اور اُناؤ کے ساکشی کو حقیر ثابت کرنے کے لئے ایسے ایسے بیان دے رہی ہیں جس سے ملک میں ہر جگہ آگ بھڑک اُٹھے۔ ہم تو احسان مند ہیں اپنے نوجوان اور جو اِن تعلیم یافتہ اور تعلیم سے بے بہرہ بچوں کے، کہ اس صبر و ضبط کا وہ مظاہرہ کررہے ہیں جس کی اُن کے مذہب اسلام نے انہیں تعلیم دی ہے۔

حفیظ نعمانی

صدر جمہوریہ کے خطبہ پر ہونے والی بحث کا جواب دینے کے لئے وزیر اعظم شری مودی کھڑے ہوئے تو انہوں نے اگلا پچھلا سب حساب برابر کرنے میں ایک گھنٹہ کا وقت لے لیا اپنے جواب میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ اپنے کو انہوں نے ایک بار بھی چوکیدار نہیں کہا اور میری حکومت نہ جانے کتنی بار کہہ کر سب کے گوش گذار کردیا کہ یہ حکومت ہماری یا بی جے پی کی نہیں ہے صرف اور صرف مودی کی ہے اسی لئے اسے مالک ہونے کی حیثیت سے یہ حق حاصل ہے کہ جس کی جو چیز لینا چاہے لے لے اس کی اجازت کی اسے ضرورت نہیں۔ شری مودی نے اپنے ملک سے باہر کے دَوروں، پارلیمنٹ میں اپنی عدم موجودگی یا عام آدمی کے مسائل سے زیادہ دولتمندوں کے مسائل سے دلچسپی کے اعتراضات کا بھی اپنی گرج دار آواز میں جواب دیا۔

حفیظ نعمانی

خبر تھی ملائم سنگھ کے پوتے اور لالو یادو کی بیٹی کی شادی کی، جگہ تھی دہلی کا اشوکا ہوٹل، ممبر پارلیمنٹ تیج پرتاپ اور راج لکشمی کو مبارکباد دینے کے لئے آنے والے وزیر اعظم مودی، سابق وزیر اعظم منمون سنگھ، مسز سونیا گاندھی، لال کرشن اڈوانی، مرکزی حکومت کے دوسرے کئی وزیر اور اُترپردیش حکومت کے تمام وزیر اور مسز سونیا کی بیٹی پرینکا واڈرا۔ اخبار کی خبر کے مطابق اس پوری محفل کی نگاہیں سب سے زیادہ سونیا گاندھی کی صاحبزادی پرینکا گاندھی پر ٹکی رہیں پرینکا اپنے شوہر رابرٹ واڈرا کے ساتھ شادی کی تقریب میں آئی تھیں۔ اُن کے ہال سے نکل جانے تک ہر کوئی بس ان ہی کو دیکھ رہا تھا۔

حفیظ نعمانی

مودی حکومت کا آج دوسرا ریل بجٹ پیش کردیا گیا۔ وزیر اعظم نے اشارہ کیا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ یہ آخری ریل بجٹ ہو۔ وہ ہر روایت کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ تمام پرانے سانچے توڑ دیں گے جس میں ساٹھ برس سے ایک ہی شکل کی چیزیں نکل کر آتی تھیں۔ ان میں ہی ایک بات یہ ہے کہ ریلوے جب ہر محکمہ کی طرح حکومت کا ہی ایک محکمہ ہے تو اس کا بجٹ الگ کیوں؟ اور اسے کیوں نہ عام بجٹ کے تمام محکموں کے ساتھ ایک ہی لڑی میں پرو دیا جائے؟ اور وزیر مالیات ہی اسے پیش کریں۔

حفیظ نعمانی

ہمیں اس بات کا انتہائی دُکھ ہے کہ 70 برس کانگریس نے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے کا تماشہ دیکھا اور لاکھوں مسلمانوں کو لاشوں میں تبدیل کرنے والے کسی ایک کو پھانسی تو کیا عمرقید کی بھی سزا نہیں دی چاہے وہ کسی پارٹی سے وابستہ ہو، کسی دَل کا ممبر ہو حکومت کے کسی محکمہ سے وابستہ ہو یا کسی بھی عہدے پر فائز ہو۔ آج کانگریس کے ایک بڑے لیڈر اور دس سال تک مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ رہنے والے شری دگ وجے سنگھ شری نریندر مودی پر اعتراض کررہے ہیں کہ وہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور اقلیتوں کے حقوق کی باتیں کرکے کانگریس کی جگہ لینے کی کوشش کررہے ہیں۔